بہت سے عالم غیر فقیہ ہوتے ہیں
sulemansubhani نے Saturday، 21 August 2021 کو شائع کیا.
(۱۴) بہت سے عالم غیر فقیہ ہوتے ہیں
۲۶۴ ۔عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال :قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : نَضَّرَاللّٰہُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَا لَتِی فَوَعَا ہَا ثُمَّ بَلَّغَہَا عَنِّی فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ غَیْرُ فَقِیْہٍ وَ رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلیٰ مَنْ ھُوَ أ فْقَہُ مِنْہُ ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش وخر م رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسکو خوب یاد کر لیا پھر دوسروں تک پہونچادیا ، کیو ں کہ بہتیرے وہ ہیں کہ فقہ کے حامل و حافظ وراوی ہیں مگرخود اسکی سمجھ نہیں رکھتے اور بہتیرے حاملان فقہ ان کے پاس فقہ لے جا تے ہیں جو ان سے زیادہ اسکی سمجھ رکھتے ہیں ۔
و فی الباب عن زید بن ثابت وعن جبیر بن مطعم وعن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنھم اجمعین۔
]۷[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں
امام اجل سلیمان اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم غزیر و فضل کبیر خیال کیجئے ۔ جو خود سید نا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد جلیل الشان اور اجلہ ائمہ تابعین اور تمام ائمہ حدیث کے استاذ الاساتذہ ہیں ۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں ۔ کسی نے ان امام اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ مسائل پوچھے ۔ ہمارے امام اعظم ، امام الائمہ ، مالک الازمہ ، سراج الامہ،سید نا ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ اس زمانے میں انہیں امام اعمش سے حدیث پڑھتے تھے اس وقت حاضر مجلس تھے ۔ امام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے امام نے فور اً جواب دیئے امام اعمش نے کہا یہ جواب آپنے کہاں سے پیدا کئے؟ فرمایا : ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں ۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمادیں ۔ امام اعمش نے فرمایا :
حسبک ما حدثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ، ما علمت انک تعمل بھٰذ ہ الاحادیث ، یا معشر الفقہاء انتم الاطبا ء ونحن الصیادلۃ ، وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین ۔
بس کیجئے ، جو حدیثیں میں نے آپکو سو دن میں سنائیں آپ گھڑی بھر میںمجھے سنا ئے دیتے ہیں ، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں اے فقہ والو ! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطار ہیں، اور اے ابو حنیفہ ! تم نے تو فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔و الحمد للہ ۔
یہ تو یہ ، خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم انکے استا ذ اکرم واقد م امام عامر شعبی رضی اللہ تعالی عنہ جنہو ں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پایا ۔ حضرت امیرالمؤمنین مولیٰ علی ، سعد بن ابی وقاص ، سعید بن زید ، ابو ہریرہ ، انس بن مالک ، عبداللہ بن عمرو ، عبد اللہ بن عباس ، عبد اللہ بن زبیر ، عمران بن حصین ، جرید بن عبد اللہ ، مغیرہ بن شعبہ ، عدی بن حاتم ، امام حسن ، اور امام حسین وغیر ہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم بکثرت اصحاب کرام کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے استاذ ہیں ، جنکا پایۂ رفیع حدیث میں ایساتھا کہ فرماتے۔ بیس سال گزرے ہیں : کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہ پہونچی جسکا علم مجھے اس سے زائد نہ ہو ایسے امام والا مقام بآں جلالت شان فرماتے ۔
انا لسنا بالفقہا ء ولٰکنا سمعنا الحدیث فروینا ہ للفقہا ء من اذا علم عمل۔
ہم لوگ فقیہ و مجتہد نہیں ہیں ۔ ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ۔ ہم نے حدیثیں سن کر فقیہوں کے آگے روایت کر دی ہیں ۔ جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی کریںگے۔ نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ ، مگر آج کل کے نامشخٓص حضرات کو اپنی یاد وفہم ، اپنے دو حرفی نام علم پر وہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا ۔ کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل ’’اناخیر منہ ‘‘کی بنیٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ ولا حول ولا قوۃ الاباللہ علی العظیم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۶۴۔ الجامع للترمذی ، العلم ، ۲/ ۰ ۹ ٭ السنن لا بی داؤد، العلم ، ۲/ ۵۱۵
المسند لا حمد بن حنبل، ۵/ ۱۸۳ ٭ السنن لا بن ماجۃ المقدمۃ ، ۱/ ۲۱
المستدرک للحاکم ، ۱/ ۸۷ ٭
اتحاف السادۃ للزبیدی ، ۸/ ۴۶۴ ٭ کنز العمال للمتقی ، ۲۹۱۶۳، ۱۰ / ۲۲۰
ٹیگز:-