(۱۴) بہت سے عالم غیر فقیہ ہوتے ہیں

۲۶۴ ۔عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال :قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : نَضَّرَاللّٰہُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَا لَتِی فَوَعَا ہَا ثُمَّ بَلَّغَہَا عَنِّی فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ غَیْرُ فَقِیْہٍ وَ رُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلیٰ مَنْ ھُوَ أ فْقَہُ مِنْہُ ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس بندے کو خوش وخر م رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسکو خوب یاد کر لیا پھر دوسروں تک پہونچادیا ، کیو ں کہ بہتیرے وہ ہیں کہ فقہ کے حامل و حافظ وراوی ہیں مگرخود اسکی سمجھ نہیں رکھتے اور بہتیرے حاملان فقہ ان کے پاس فقہ لے جا تے ہیں جو ان سے زیادہ اسکی سمجھ رکھتے ہیں ۔

و فی الباب عن زید بن ثابت وعن جبیر بن مطعم وعن عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنھم اجمعین۔

]۷[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

امام اجل سلیمان اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا علم غزیر و فضل کبیر خیال کیجئے ۔ جو خود سید نا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد جلیل الشان اور اجلہ ائمہ تابعین اور تمام ائمہ حدیث کے استاذ الاساتذہ ہیں ۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنی کتاب خیرات الحسان میں فرماتے ہیں ۔ کسی نے ان امام اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کچھ مسائل پوچھے ۔ ہمارے امام اعظم ، امام الائمہ ، مالک الازمہ ، سراج الامہ،سید نا ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ اس زمانے میں انہیں امام اعمش سے حدیث پڑھتے تھے اس وقت حاضر مجلس تھے ۔ امام اعمش نے وہ مسائل ہمارے امام اعظم سے پوچھے امام نے فور اً جواب دیئے امام اعمش نے کہا یہ جواب آپنے کہاں سے پیدا کئے؟ فرمایا : ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ ہی سے سنی ہیں ۔ اور وہ حدیثیں مع سند روایت فرمادیں ۔ امام اعمش نے فرمایا :

حسبک ما حدثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ، ما علمت انک تعمل بھٰذ ہ الاحادیث ، یا معشر الفقہاء انتم الاطبا ء ونحن الصیادلۃ ، وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین ۔

بس کیجئے ، جو حدیثیں میں نے آپکو سو دن میں سنائیں آپ گھڑی بھر میںمجھے سنا ئے دیتے ہیں ، مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ ان حدیثوں میں یوں عمل کرتے ہیں اے فقہ والو ! تم طبیب ہو اور ہم محدث لوگ عطار ہیں، اور اے ابو حنیفہ ! تم نے تو فقہ وحدیث دونوں کنارے لئے۔و الحمد للہ ۔

یہ تو یہ ، خود ان سے بھی بدرجہا اجل واعظم انکے استا ذ اکرم واقد م امام عامر شعبی رضی اللہ تعالی عنہ جنہو ں نے پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پایا ۔ حضرت امیرالمؤمنین مولیٰ علی ، سعد بن ابی وقاص ، سعید بن زید ، ابو ہریرہ ، انس بن مالک ، عبداللہ بن عمرو ، عبد اللہ بن عباس ، عبد اللہ بن زبیر ، عمران بن حصین ، جرید بن عبد اللہ ، مغیرہ بن شعبہ ، عدی بن حاتم ، امام حسن ، اور امام حسین وغیر ہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم بکثرت اصحاب کرام کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے استاذ ہیں ، جنکا پایۂ رفیع حدیث میں ایساتھا کہ فرماتے۔ بیس سال گزرے ہیں : کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تک ایسی نہ پہونچی جسکا علم مجھے اس سے زائد نہ ہو ایسے امام والا مقام بآں جلالت شان فرماتے ۔

انا لسنا بالفقہا ء ولٰکنا سمعنا الحدیث فروینا ہ للفقہا ء من اذا علم عمل۔

ہم لوگ فقیہ و مجتہد نہیں ہیں ۔ ہمیں مطالب حدیث کی کامل سمجھ نہیں ۔ ہم نے حدیثیں سن کر فقیہوں کے آگے روایت کر دی ہیں ۔ جو ان پر مطلع ہو کر کارروائی کریںگے۔ نقلہ الذھبی فی تذکرۃ الحفاظ ، مگر آج کل کے نامشخٓص حضرات کو اپنی یاد وفہم ، اپنے دو حرفی نام علم پر وہ اعتماد ہے جو ابلیس لعین کو اپنی اصل آگ پر تھا ۔ کہ دو حرف رٹ کر ہر امام امت کے مقابل ’’اناخیر منہ ‘‘کی بنیٹی گھمانے کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ ولا حول ولا قوۃ الاباللہ علی العظیم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۶۴۔ الجامع للترمذی ، العلم ، ۲/ ۰ ۹ ٭ السنن لا بی داؤد، العلم ، ۲/ ۵۱۵

المسند لا حمد بن حنبل، ۵/ ۱۸۳ ٭ السنن لا بن ماجۃ المقدمۃ ، ۱/ ۲۱

المستدرک للحاکم ، ۱/ ۸۷ ٭

اتحاف السادۃ للزبیدی ، ۸/ ۴۶۴ ٭ کنز العمال للمتقی ، ۲۹۱۶۳، ۱۰ / ۲۲۰