جگرِ گوشہ غزالی زماں حضرت مولانا حامد سعید کاظمی شاہ صاحب
جگرِ گوشہ غزالی زماں حضرت مولانا حامد سعید کاظمی شاہ صاحب ۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضور!
محرّم الحرام میں شادی کے حوالے سے آپ کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔59:00 سیکنڈ کی اِس ویڈیو کلپ میں آپ ایک سوال کا جواب کچھ اس طرح سے ارشاد فرمارہے ہیں کہ “شادی کے معانی ہیں خوشی ۔۔دنیا غم حسین منارہی ہے اور ہم اِن دنوں خوشی منائیں ۔
مزید آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ” میں اِس (محرّم الحرام میں شادی) کو ناجائز نہیں کہتا لیکن میں اسے مناسب بھی نہیں سمجھتا ۔۔
آپ فرماریے تھے یہ تو لوگوں کو اکسانے والی بات ہے ،اُن کے زخموں پر نمک چھڑکنے والی بات ہے ۔۔
حضور ! بصد ادب صرف دوباتیں پوچھنے کی جسارت کروں گا امید ہے آپ ضرور میری رہنمائی فرمائیں گے ۔۔
نمبر 1۔
کیا محرم الحرام میں سوگ کی وجہ سے شادی ترک کردیں جیساکہ آپ کے کلام سے مستفاد ہورہا ہے ۔اگر میں غلط سمجھ رہا ہوں تو میری اصلاح کردیجئے گا ۔۔
نمبر 2۔
آپ اپنے کلپ میں کی گئی گفتگو کو بدعتِ قبیحہ مُحرّمہ کی تعریف کی تناظر میں ایک بار ضرور سنئے گا کیونکہ ہمارے علمائے کرام بدعتِ قبیحہ کی تعریف اِن الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں “جو کام اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ کے احکام کے خلاف ہو ۔وہ نیا کام جو دین کے کسی حکم کو بدل دے ۔۔۔۔۔
حضور!
محرّم الحرام شریف میں شادی جیسے ایک جائز امر کو غم، سوگ کی وجہ سے چھوڑنا کیا بدعت نہیں ہے؟
بدعت سے متعلق کتنی سخت وعیدیں احادیث میں آئیں ہیں یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں ۔
عرض گزار
ابوحاتم ایک گمنام سُنی
20/08/20210