الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 677

روایت ہے ابن جریج سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس اور جابر ابن عبداﷲ سے خبردی ان دونوں نے فرمایا کہ عید بقر کے دن اذان نہ کہی جاتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد میں نےعطاءسے اس بار ے میں پوچھا۲؎ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جابر ابن عبداﷲ نے خبردی کہ عید کے دن امام کے نکلتے وقت اور نکلنے کے بعد نہ تونماز کی اذان ہے نہ تکبیر،نہ عام اعلان نہ کچھ اور چیزیعنی اس دن نداءہےنہ تکبیر۳؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ کا نام عبدالملک ابن عبدالعزیز ابن جریج ہے،فقیہ ہیں،مکی ہیں،قرشی ہیں،اسلام میں پہلےمصنف ہیں،۱۵۰ھ؁ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،آپ خود بھی تابعی ہیں اور آپ کے والدبھی۔

۲؎ یعنی اس مسئلہ کی تفصیل پوچھی کیونکہ اجمالًا علم تو پہلے ہوچکا تھا۔

۳؎ حق یہ ہے کہ ان دونوں جگہ نداء سے مراد اذان ہی ہے اور یہ جملہ گزشتہ کی تفسیر ہے کیونکہ نماز عید کے لیے اعلان گولہ داغنا،توپ چلانا،نوبت پیٹنا بالاتفاق جائزہے،صرف اذان وتکبیرمنع ہے۔