أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَوۡ كَانَ خَيۡرًا مَّا سَبَقُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ‌ ؕ وَاِذۡ لَمۡ يَهۡتَدُوۡا بِهٖ فَسَيَقُوۡلُوۡنَ هٰذَاۤ اِفۡكٌ قَدِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے مؤمنوں کے متعلق کہا اگر یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہ کرتے، اور جب انہوں نے اس سے ہدایت حاصل نہ کی تو عنقریب یہ کہیں گے : یہ قدیم جھوٹ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کافروں نے مؤمنوں کے متعلق کہا : اگر یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس کی طرف ہم پر سبقت نہ کرتے اور جب انہوں نے اس سے ہدایت حاصل نہ کی تو عنقریب یہ کہیں گے : یہ قدیم جھوٹ ہے حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی (آسمانی) کتاب پیشوا اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب عربی زبان میں (اس کی) تصدیق کرنے والی ہے تاکہ ظالموں کو (عذاب سے) ڈرائے اور نیکوکاروں کو بشارت دے بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اسی پر جمے رہے، سو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم گین ہوں گے یہی لوگ جنتی ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے (یہ) ان کے نیک کاموں کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے (الاحقاف : ١٤۔ ١١)

قرآن مجید پر کفار مکہ کے اعتراض کا جواب

الاحقاف : ١١ کے تین محمل ہیں :

(١) کافروں نے مؤمنوں کو مخاطب کر کے کہا، پھر خطاب کو ترک کر کے ان کے متعلق یہ کہا : اگر یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ لوگ اس پر ایمان لانے میں ہم پر سبقت نہ کرتے۔

(٢) کفار نے ایمان لانے والوں کے ایمان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا : اگر یہ قرآن بہتر ہوتا تو یہ ہم سے پہلے ایمان نہ لاتے۔

(٣) کفار نے جب یہ سنا کہ ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئی ہے تو انہوں نے ان مسلمانوں سے کہا : جو ان کے سامنے حاضر تھے اگر یہ دین بہتر ہوتا تو جو لوگ اس پر ایمان لا چکے ہیں وہ ہم پر سبقت نہ کرتے۔

پھرجب یہ کفار قرآن مجید کے معجز ہونے کو نہ پہچان سکے تو پھر یہ اپنے کفر پر قائم رہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جب انہوں نے اس قرآن سے ہدایت حاصل نہ کی تو عنقریب یہ کہیں گے کہ یہ قرآن تو بہت پرانا جھوٹ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 46 الأحقاف آیت نمبر 11