مُحرّم الحرام میں شادی، نکاح، ولیمہ کا مسئلہ
مُحرّم الحرام میں شادی، نکاح، ولیمہ کا مسئلہ۔
عنوان : سوادِ اعظم اھل سنت وجماعت کی گمراہ فرقوں سے امتیازی خصوصیات کے متعلق مفتیانِ کرام سے کچھ سوالات۔
مُدّعا بیان کرنے سے پہلے عرض کرتا چلوں کہ۔سوال پوچھنا میرا حق ہے قرآنِ کریم میں رب فرماتا ہے “فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون”۔
“تعلیم المتعلّم وطریق التعلّم ” کے مصنف امام برہان الدین ابراہیم زرنوجی حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ” اگر طالبِ علم کو کوئی مسئلہ پیش آئے، سجھنے میں دشواری ہو تو اہل علم کی طرف رجوع کرے “۔۔
مصنفِ بہارِ شریعت صدرِ شریعت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے بہار شریعت کے حصہ 2 میں لکھا ہے جس کا مفھوم ہے “دوران علم بعض علمی دشواریاں پیش آئیں گی اور یہ نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رجوع کی توجہ دلائے گا” ۔۔
چند تمھیدی کلمات ۔۔
دین اسلام کے حقیقی احکام اور عرف میں رائج لوگوں کے ذہنی ترجیحات والے احکامات میں فرق ہے ۔۔
قرآنِ کریم کی کچھ آیاتِ کریمہ کے نزول کا مقصد ملّتِ ابراہیمی کی اصل روح کو بحال کرنا اور اہل مکہ (جو دینی ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے) کی تحریفات کو بیان کرنا۔۔
حضرت احمد بن عبدالرحیم المعروف شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی رحمۃ اللہ کے مطابق جن آیات میں ملّت ابراہیم کی اصل روح کی بحالی کا بیان اور اہل مکہ کی تحریفات کا رد ہے وہ اپنے عموم پر ہیں ۔۔
علمائے حق کا علمِ دین پڑھنے پڑھانے کا مقصد ملتِ کے اصل شرعی احکامات کی غالین، مُحرّفین اور مؤوّلین کی دست برد ست حفاظت وصیانت بھی ہے صحیح حدیث میں ارشاد ہوا “یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین و انتحال المبطلین وتاویل الجاھلین”۔۔
“اعرف الحقّ ثُمّ تعرفْ اھلہ” پہلے حق کو پہچان پھر حق والوں کو پہچان ۔۔۔۔۔
ہم ایک ایسی دنیا میں بس رہے ہیں جہاں شخصیات کی پہچان حق کے ذریعے نہیں، بلکہ حق کی شناخت شخصیات کے ذریعے کی جاتی ہے ۔۔
جہاں پر حق کو ثانی درجہ اور شخصیات کو اوّل درجہ حاصل ہو ایسے معاشرے میں خرابیاں اور گمراہیاں جنم لیتی ہیں۔۔
جس معاشرے میں علم اپنے لوازمات سمیت کوہِ قاف کوچ کر گیا ہو ایسے معاشرے میں نازک موضوعات سے متعلق قلم کو جنبش دینا ،کسی مسئلہ میں تحقیق وجستجو کرنا سمندر میں رہ کر مگرمچھ کو “دعوتِ مبارزت ” دینے جیسا ہے۔۔
اصل مدّعا۔
ماہ محرّم میں شادی اور اھل سنت کا علمی مسلک ۔۔
شہیدِ بغداد مولانا اسیدالحق محمد عاصم قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ماہنامہ جامِ نور ،مئ 2006 کے شماره میں رقم طراز ہیں کہ کسی بھی جماعت کا حقیقی مسلک وہی ہوتا ہے جو اُس کے اکابر کا ” علمی مسلک ” ہوتا ہے ۔۔نمائندگانِ جماعت اور خلف پر لازم ہے کہ جماعت کے عقائد واعمال کی تشریح بھی اکابر کے علمی مسلک کے مطابق کریں ۔بدقسمتی سے آج ہمارے مسلک کی تشریح عوامی رسم ورواج اور عوامی جذبات و اُمنگوں کے مطابق کی جارہی ہے ۔۔۔
شہیدِ بغداد کی اِس بات کی تفھیم کےلئے ماہ مُحرّم الحرام شریف میں شادی، نکاح، ولیمہ کو ہی لیں ۔اِس حوالے سے اھل سنت وجماعت کے تین مسلک بن چکے ہیں ۔
نمبر 1
ماہِ محرّم میں شادی کے حوالے سے اھل سنت وجماعت کا علمی مسلک ۔
نمبر2
ماہ محرّم میں شادی کے حوالے سے اھل سنت وجماعت کا خطیبانہ مسلک
نمبر 3
ماہ محرّم میں شادی کے حوالے سے اھل سنت وجماعت کا عوامی مسلک ۔۔
اھل سنت وجماعت کا علمی مسلک جو اس جماعت کے اکابر کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔جماعت کا علمی مسلک (جوفوائدِ قیودات سے منزّہ مبرّہ ہے) کہتا ہے کہ ماہِ محرّم میں شادی جائز ہے، عاشورا میں بھی شادی جائز ہے ۔۔
جماعت کا خطیبانہ مسلک (جو اِس جماعت کے خطباء اور واعظین کے ذریعے لوگوں تک پنہچتا ہے ) خطیبانہ مسلک قیودات کے فوائد لگا کر کہہ رہا ہے ماہِ محرّم میں شادی تو جائز ہے لیکن چونکہ اس مہینے کے عاشورا میں کربلا کا دردناک واقعہ پیش آیا ہے اس لئے قرابتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اِس میں شادی کرنا بہتر نہیں ہے ۔۔
جماعت کا عوامی مسلک عاشورا میں ، گوشت کھانے ،شادی بیاہ کرنے کو گناہ سے کم نہیں سمجھتا۔۔۔
مسلکِ حق اھل سنت وجماعت کے بعض مفتیان کرام کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی بندہ اس مہینے میں کی خاص 9 اور 10 تاریخ کو شادی کرے گا تو لوگ باتیں بنائیں گے ، فتنہ اٹھے گا اس لئے اِن تاریخوں میں شادی بہتر نہیں ہے ۔۔
اھل سنت وجماعت سوادِ اعظم کہلاتا ہے ہے ۔۔۔
سواد اعظم سے مراد وہ عقائد جو قرآنِ کریم، اور سنتِ رسول کا خلاصہ ہیں، صحابہ کرام وتابعین رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اقوال واعمال کا نچوڑ ہیں ۔عقیدہ کی یہ تشریح آج سے 6 سال پہلے مدنی مذاکرہ میں غیر اللہ سے مدد مانگنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی حسان صاحب نے کی ۔۔۔۔12 منٹ کا یہ کلپ تھا ہوسکتا ہے یوٹیوب وغیرہ پر موجود ہو اگر کوئی سننا چاہتا ہے تو سرچ کرکے ہماری اِس بات کی تصدیق کرے ۔۔
جب اھل سنت وجماعت سواد اعظم ہے ۔اس کے عقائد قرآن وسنت کے مطابق اور صحابہ وتابعین کے افعال واعمال کا نچوڑ ہیں تو جو اِس سوادِ اعظم جماعت کے عقائد سے انحراف کرے گا تو اصل جماعت اور مُنحَرِفْ فرقہ کی پہچان کےلئے کوئی امتیازی علامت ضرور ہونی چاہئے ورنہ اصل ونقل کا فرق مٹ جائے گا ۔۔۔
خوارج کے فتنہ کے وقت سوادِ اعظم اور خارجی فرقہ کے درمیان فرق کرنے والی چیز یہ تھی کہ جو مرتکبِ کبیرہ کو کافر کہے وہ خارجی اور جو مسلمان کہے وہ سُنی ۔۔
جب واصل بن عطاء حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ کی محلس سے اٹھے، متعزلہ فرقہ کی بنیاد رکھی تو سواد اعظم اور منحرف فرقہ کے درمیان فرق والی شئ یہ تھی کہ جو ایمان اور کفر کے درمیان منزلہ بنی المنزلتین مانے وہ معتزلی اور جو نہ مانے وہ سُنّی ۔علی ھذالقیاس ۔۔
امام اھل سنت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کے دور میں سنی اور غیر سنی کی پہچان یہ تھی کہ جو قرآن کریم کو حادث مانے وہ غیر سنی اور جو شخص قرآن کریم کو قدیم مانے، صفتِ الٰہی مانے وہ سُنّی ۔۔۔
سیدی اعلیٰ حضرت امام اھل سنت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں اور آپ کے زمانہ کے بعد برّصغیر پاک وہند میں سُنّی وغیر سُنّی کی پہچان یہ تھی کہ جو شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام ومرتبہ، آپ کی شانِ عالی، فضائل وکمالات کو مانے وہ سُنّی جو نہ مانے وہ غیر سُنّی ۔۔۔۔
آج کے دور میں سُنّیت اور غیر سُنیّت کے مابین فرق کرنے والی چیز کون سی ہے ۔وہ کون سا امتیاز وصف ہے جس کی بناپر ہم کہہ سکیں کہ فلاں بندہ سُنّی ہے اور فلاں غیر سنّی ۔۔
ماہِ محرّم میں شادی روافض کے نزدیک گناہ ہے ۔جبکہ ہمارے عوامی مسلک میں محرّم میں شادی گناہ سے کم نہیں ہے ۔اگر گناہ سے کم ہوتا ہوتا تو لوگ طوفانِ بدتمیزی نہ مچاتے ۔ اِس معاملے میں سُنّی وغیر سُنّی کی پہچان کیا ہوگی؟۔
عاشورا میں سوگ ،رونا رلانا روافض کے نزدیک واجب کارِ ثواب ہے ہمارے حضراتِ مُقَدّسات بھی اِس معاملے کچھ کم نہیں ہیں ۔آپ حضرات لاکھ انکار کریں کہ ہم سوگ نہیں مناتے کہ حرام ہے لیکن معاف کیجئے گا !ہم لوگ سوگ تو نہیں مناتے لیکن سوگ کا ماحول ضرور بناتے ہیں، سوگ کی کیفیت ضرور پیدا کرتے ہیں اگر سوگ کا تصور ہمارے ذہنوں میں نہیں ہوتا تو بڑے بڑے سنی خطیب شریعت وسنت کے مطابق 7 محرم کو منعقدہ ولیمہ پروگرام کے متعلق لب کشا نہ ہوتے ۔۔
سنت کے مطابق ولیمہ، شادی کی تقریب منعقد ہونے پر طوفانِ بدتمیزی مچی ۔خطیب صاحبان آستین چڑھا کر میدان میں کود پڑے اس ماحول میں مجھ جیسے کم علم سُنیّت اور رافضیت کے درمیان امتیاز کیسے کریں ۔۔
جس طرح محرّم الحرام شریف میں شادی، نکاح ،ولیمہ کو یہ کہہ کر منع کیا جارہا ہے کہ جائز ہے لیکن فتنہ شور وشرابا وغیرہ کی وجہ سے بہتر ہے نہ کیا جائے تو میرے چندا یہی علت تو سیدنا امیرِ معاویہ عنہ کے عرس شریف منانے اور حضرت ابوسفیان وحضرت ہندہ رضی اللہ عنھما کو جنتی کہنے کے متعلق بھی موجود ہے لوگ تو اِس پر بھی شور مچارہے ہیں، فتنہ اٹھا رہے ہیں تو کیا یہ چیزیں بھی ہم خوفِ فتنہ اور طوفانِ بدتمیزی کی وجہ سے غیر مناسب کہہ کر چھوڑ دیں ۔۔
آخر وہ کون سے مسائل ہیں جن کو فتنہ کی وجہ اور لوگوں کی طرف سے باتیں بننے کی وجہ سے چھوڑا جاسکتا ہے اور کون سے مسائل پر عمل کو چھوڑا نہیں جاسکتا ؟۔
لوگ تو اور بھی بہت سی جائز باتوں کے متعلق طوفانی بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں کیا اُنہیں بھی چھوڑ دیا جائے؟ ۔۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جماعت کے مقتدر حضرات فتنہ کے اندیشہ اور لوگوں کی طوفاں بدتمیزی سے سرموانحراف کرکے بہت سارے ایسے مسائل پر عمل پیرا ہیں جو لوگوں کی نظروں میں اچھے نہیں ہیں۔اگر جماعت کے مقتدر شخصیات فتنہ کے اندیشہ سے اُن مسائل پر عمل نہیں چھوڑ سکتے تو آخر 9 اور 10 محرّم الحرام میں شادی ،ولیمہ کو غیر مناسب کہنے کی اولویت کیا ہے؟۔
شہیدانِ کربلا رضی اللہ عنھم پر ظلم ہوا اس لئے اس دن شادی بہتر نہیں ہے تو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں حسنینِ کریمین رضی اللہ عنھما کے نانا جان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جانثار رفقاء پر اور خاندان والوں کو مسلسل تین سال تک ظلم وستم اور سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔انتہائی کٹھن حالات تھے اتنی سخت بائیکاٹ کہ پڑھ کر کلیجہ منہ کو آجائے ۔۔
جس علت (یعنی نو اور 10 محرّم کو ذہن کا واقعہ کربلا کی طرف سبقت کرنا، دل کی کیفیت کا بدل جانا )وغیرہ نکو وجہِ ترجیح بناکر کہا جارہا ہے کہ محرّم میں شادی بہتر نہیں ہے تو مجھے بتایا جائے کہ شعب ابی طالب کی گھاٹی میں والے معاملے میں تو یہی علت بدرجہ اولیٰ پائی جارہی ہیں تو پھر کسی بھی دن نکاح، ولیمہ بہتر نہیں ہونا چاہئے ۔۔
رسوم ورواج کو پاؤں تلے روند کر سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے مُتبَنّٰی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سے شادی کرنا اور لوگوں کی باتوں ،منافقین کے فتنہ کو کسی خاطر نہ لانا اِس سے ہم سب کو کیا درس مل رہا ہے؟
امید ہے آپ حضرات ضرور میری رہنمائی فرمائیں گے ۔۔
سائل
ابوحاتم
22/08/2021/