کیا اب احتجاج کرنا بھی جرم ہوگیا؟
*کیا اب احتجاج کرنا بھی جرم ہوگیا؟*
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم، دہلی
رکن : روشن مستقبل، دہلی
آج دوپہر تحریک فروغ اسلام کے صدر محترم قمر عثمانی اور ان کے کارکنان کو جنتر منتر دہلی پر اس وقت گرفتار کرلیا گیا جب وہ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف پر امن احتجاج کرنے پہنچے تھے۔حالانکہ یہ پولیس اس وقت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے جب پچھلے ہفتے اسی جنتر منتر پر مسلمانوں کو سرِ عام کاٹنے کی دھمکیاں دی گئیں اور انہیں قتل کرنے کے اعلان کیے گئے، اس وقت پولیس کو نہ لا اینڈ آرڈر کا خیال آتا ہے نہ ملکی امن وامان کا۔لیکن مسلمان احتجاج بھی کرنا چاہے تو یہی پولیس بڑی معصومیت سے کہتی ہے کہ آپ فساد کرانا چاہتے ہیں؟
دہلی پولیس کو اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ آخر دہلی فسادات میں مجرمانہ غفلت کے لیے کورٹ نے دہلی پولیس پر جرمانہ کیوں لگایا؟
نرسنگھانند نے دہلی پریس کلب میں بیٹھ کر پیغمبر اسلام کی شان میں شدید گستاخیاں کیں لیکن ایف آئی آر کے بعد بھی اسے آج تک گرفتار نہیں کیا گیا۔
وہ شرپسند آئے دن مسلمانوں کو مارنے قتل کرنے کی دھمکی دیتا ہے درجنوں ایف آئی آر کے بعد بھی وہ آزاد گھوم رہا ہے اس وقت پولیس کو اپنا فرض یاد کیوں نہیں آتا؟
آج جب کہ تحریک فروغ اسلام پر امن طریقے سے ان سارے مدعوں پر اپنا احتجاج درج کرانا چاہتی تھی تو پہلے رات میں تحریک کے صدر ودیگر ذمہ داران کو تھانے لے جاکر ڈرانے کی کوشش کی گئی جب وہ کوشش ناکام رہی تو جنتر منتر پر پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا۔آخر انہیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟
کیا کسی تنظیم/فرد کو احتجاج کرنے کا قانونی حق نہیں ہے؟
آخر کب تک مسلمانوں کے ساتھ دہرا رویہ چلتا رہے گا؟
ایک طرف وزیر اعظم سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس کی بات کرتے ہیں لیکن وزیر اعظم کی ناک کے نیچے ہی ملک کی اقلیت کے ساتھ ایسا امتیازی اور متعصبانہ سلوک کیا جارہا ہے۔دہلی پولیس کو چاہیے کہ وہ فی الفور تحریک فروغ اسلام کے صدر جناب قمر عثمانی اور جملہ ذمہ داران کو رہا کرے اور جنتر منتر پر مسلمانوں کو قتل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے پنکی چودھری اور نرسنگھانند کو جلد از جلد گرفتار کرے تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو۔ان فسادیوں کو آزاد چھوڑنا امن وسکون کو غارت کرنا ہے۔
14 محرم الحرام 1443ھ
24 اگست 2021 بروز منگل