أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ يَّسۡئَــلۡكُمُوۡهَا فَيُحۡفِكُمۡ تَبۡخَلُوۡا وَيُخۡرِجۡ اَضۡغَانَكُمۡ ۞

ترجمہ:

اگر وہ تم سے تمہارے اموال طلب کرے پس شدت سے طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے دلوں کے زنگ کو ظاہر کر ردے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ تم سے تمہارے اموال طلب کرے پس شدت سے طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے دلوں کے زنگ کو ظاہر کر ردے گا ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جن کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، پس تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ صرف اپنی جان سے ہی بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو اور اگر تم نے دین حق سے روگردانی کی تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے (محمد : ٣٨۔ ٣٧)

اس آیت میں ہے : ” فیحفکم “ اس کا مصدر ” احفائ “ ہے ” احفائ “ کا معنی ہے : کسی کام میں زیادتی کرنا، بہت زیادہ پوچھ گچھ اور تفتیش کرنا ” احفی شاربہ “ کا معنی ہے : اس نے اپنی مونچھیں بہت زیادہ تراشیں ‘” احفی السوال “ کا معنی ہے : اس نے بار بار سوال کیا۔ ” حفی یحفی “ معنی ہے : ننگے پائوں ہونا۔ (المفردات ج ا ص ١٦٥۔ ١٦٤ ’ ملخصا، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ)

یعنی اگر اللہ تعالیٰ تم سے شدت کے ساتھ تمہارے اموال کا سوال کرے تو تم بخل کرو گے اور اس کی راہ میں خرچ نہیں کرو گے، اور اللہ تمہارے دلوں کے زنگ اور میل کو ظاہر کردے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 37