ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے کی قربانی
sulemansubhani نے Wednesday، 25 August 2021 کو شائع کیا.
حدیث نمبر 690
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے کی قربانی کریں ۱؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ کیونکہ اس سے جانور کے حسن میں کمی ہوتی ہے۔خیال رہے کہ بنڈے اور بوچے جانور کی قربانی جائز ہے،یعنی جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا کان چھوٹے ہوں کیونکہ اعضب وہ کہلاتا ہے جس کے کان یاسینگ کٹے ہوں،جس کے سینگوں کاچھلکا اتر گیا ہو،مغز باقی ہو اس کی قربانی جائزہے کیونکہ وہ بھی اعضب نہیں۔
ٹیگز:-