*جن باتوں کا ذکر قرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں*

 

امام اہل سنت نے ایک فائدہ نفیسہ بیان فرمایا ہے جو چار احادیث اور ایک آیت قرآنی پر مشتمل ہے جس سے بہت سی فروعات مثل عید میلادالنبی، گیارہویں شریف، تیجا، دسواں، چہلم وغیرہ دیگر معمولات اہل سنت کے جواز کا ثبوت ملتا ہے۔

 

امام اہل سنت فرماتے ہیں: بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ ان کا حکم دیتے تو فرض ہوجاتیں اور بہت ایسی کہ منع کرتے تو حرام ہوجاتیں پھر جو انہیں چھوڑتا یا کرتا گناہ میں پڑتا، اس مالک مہربان نے اپنے احکام میں ان کا ذکر نہ فرمایا یہ کچھ بھول کر نہیں کہ وہ تو بھول اور ہر عیب سے پاک ہے بلکہ ہمیں پر مہربانی کے لئے کہ یہ مشقت میں نہ پڑیں تو مسلمانوں کو فرماتا ہے تم بھی ان کی چھیڑ نہ کرو کہ پوچھوگے حکم مناسب دیاجائے گا اور تمہیں کودقت ہوگی۔

ترمذی و ابن ماجہ و حاکم سیدنا سلمان فارسی رضی ﷲ تعالی عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*الحلال ما احل ﷲ فی کتابه والحرام ماحرم ﷲ فی کتابه و ما سکت فھو مما عفا عنه*

مفھوم: حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جو خدانے اپنی کتاب میں حرام بتایا اور جس سے سکوت فرمایا وہ عفو ہے یعنی اس میں کچھ مواخذہ نہیں،

(جامع الترمذی ابواب اللباس ، باب ماجاء فی لبس الفراء مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۲۰۶

سنن ابن ماجہ باب اکل الجبن والسمن مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲/ ۲۴۹)

 

اور اس کی تصدیق قرآن عظیم میں موجود کہ فرماتا ہے جل ذکرہ: *یایھا الذین امنوا لاتسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم وان تسئلوا عنها حین ینزل القران تبدلکم عفا ﷲ عنھا وﷲ غفور رحیم.*

مفھوم؛ اے ایمان والو! وہ باتیں نہ پوچھو کہ تم پر کھول دی جائیں تو تمہیں برا لگے اور اگر قرآن اترتے وقت پوچھوگے تو تم پر ظاہر کردی جائیں گے ﷲ نے ان سے معافی فرمائی ہے اور ﷲ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔

(القرآن ۵ / ۱۰۱)

 

اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ *جن باتوں کا ذکر قرآن وحدیث میں نہ نکلے وہ ہرگز منع نہیں بلکہ ﷲ کی معافی میں ہیں*

 

دارقطنی ابوثعلبہ خشنی رضی ﷲ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: *ان ﷲ تعالی فرض فرائض فلا تضیعوھا، و حرم حرمات فلا تعتدوھا، وسکت عن اشیئاء من غیر نسیان فلا تبحثوا عنها.*

 

مفھوم: بیشک ﷲ تعالی نے کچھ باتیں فرض کیں انہیں ہاتھ سے نہ جانے دو اور کچھ حرام فرمائیں ان کی حرمت نہ توڑو اور کچھ حدیں باندھیں ان سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں سے بے بھولے سکوت فرمایا ان میں کاوش نہ کرو۔

(سنن الدارقطنی باب الرضاع مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ۴/ ۱۸۴)

 

احمد و بخاری و مسلم و نسائی و ابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالی عنہ سے راوی سید عالم صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : *ذرونی ما ترکتکم فانما ھلك من کان قبلکم بکثرۃ سؤالھم واختلافھم علی انبیائھم فاذا نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ واذا امرتکم بامر فأتوا منه ما استطعتم.*

 

مفھوم؛ یعنی جس بات میں، میں نے تم پر تضییق نہ کی اس میں مجھ سے تفتیش نہ کرو کہ اگلی امتیں اسی بلا سے ہلاک ہوئیں، میں جس بات کو منع کروں اس سے بچو اور جس کا حکم دوں اسے بقدر قدرت بجا لاؤ۔

(صحیح مسلم باب فرض الححج فی العمر، حدیث ۴۱۲ مطبوعہ نورمحمداصح المطابع کراچی ۱/ ۴۳۲

سنن ابن ماجہ باب اتباع سنت رسول اﷲ مطبوعہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲

مسند احمدبن حنبل ازمسند ابوہریرہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۲ /۲۴۷)

 

احمد، بخاری، مسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی ﷲ تعالی عنہ سے راوی سیدعالم صلی ﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : *ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیئ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألته.*

 

مفھوم؛ بیشک مسلمانوں کے بارے میں ان کا بڑا گناہگار وہ ہے جو ایسی چیز سے سوال کرے کہ حرام نہ تھی اس کے سوال کے بعد حرام کردی گئی۔

 

(صحیح بخاری باب مایکرہ من کثرۃ السوال مطبوعہ اصح المطابع کراچی ۲ /۱۰۸۲)

 

یہ احادیث باعلی ندا منادی کہ قرآن و حدیث میں جن باتوں کا ذکر نہیں، نہ ان کی اجازت ثابت نہ ممانعت وارد، اصل جواز پر ہیں ورنہ اگر جس چیز کا کتاب و سنت میں ذکر نہ ہو مطلقا ممنوع و نادرست ٹھہرے تو اس سوال کرنے والے کی کیا خطا، اس کے بغیر پوچھے بھی وہ چیز ناجائز ہی رہتی۔ بالجملہ *یہ قاعدہ نفیسہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ قرآن و حدیث سے جس چیز کی بھلائی یا برائی ثابت ہو وہ بھلی یا بری ہے ور جس کی نسبت کچھ ثبوت نہ ہو وہ معاف و جائز و مباح و روا اور اس کو حرام و گناہ و نادرست و ممنوع کہنا شریعت مطہرہ پرافترا۔* قال ربنا تبارك وتعالی: لاتقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام لتفتروا علی ادﷲ الکذب ان الذین یفترون علی ﷲ الکذب لایفلحون.

 

مفھوم: ہمارے رب تعالی نے فرمایا: اپنی زبانوں کا من گھڑت جھوٹ مت کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے، ﷲ تعالی پر جھوٹ افتراء کرتے ہو، بیشک جو لوگ ﷲ تعالی پر افتراء کریں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔

(القرآن ۱۶/۱۱۶)

(فتاوي رضوية ٧/٥٧٧. ٥٨٣)

 

نوٹ: ترتیب میں تبدیلی کی ہے۔

 

ابو الحسن محمد شعيب خان

٢٦ اگست ٢٠٢١