{صحابہ کرام علیہم الرضوان واہلبیت کی توہین کاحکم }

مسئلہ : خلفائے راشدین کی توہین بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہاء کے نزدیک کفر ہے ۔(قانونِ شریعت)

مسئلہ : کسی صحابی کے ساتھ بد عقیدگی ،گمراہی وبد مذہبی ہے ۔ حضرت امیر معاویہ ، حضرت عمرو بن عاص، حضرت وحشی رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کی شان میں بے ادبی تبرّاً ہے اورتبرا کرنے والا رافضی ہے ۔

مسئلہ: کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رُتبے کو نہیں پہنچتا ۔حضرت علی ومعاویہ علیہم الرضوان کی جنگ خطائے اجتہادی ہے جو گناہ نہیں اس لئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے ظالم ، باغی ، سرکش یا کوئی دوسرے بُرے کلمات نکالنا حرام و ناجائز ہیں۔ (قانونِ شریعت)

مسئلہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو افک کی تہمت لگانے والا قطعاً کافر مرتد ہے۔(شرح عقائد وتکمیل وہندیہ وغیرہ)

مسئلہ : حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ کو جو شخص باغی کہے یا یزید کو حق پر بتائے وہ مردود ، خارجی اورمستحق جہنم ہے ۔(قانونِ شریعت)