هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ۞- سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 28
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ۞
ترجمہ:
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے اور اللہ (اپنے رسول پر) کافی گواہ ہے
دینِ اسلام کے غلبہ کے محامل
الفتح : ٢٨ میں فرمایا : وہی جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اور اللہ (اپنے رسول پر) کافی گواہ ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ آپ کو تمام ادیان کے اوپر دلائل کے ساتھ غلبہ عطا فرمائے یا جہاد کے ذریعہ آپ کو غلبہ عطا فرمائے یا اس طرح غلبہ عطا فرمائے کہ آپ کی شریعت تمام پہلی شریعتوں کے لئے ناسخ ہوجائے۔
اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ کی شہادت کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کو ثابت کرنے کے لئے آپ کو معجزات عطا فرمائے۔ یہ آیت ان کافروں کے رد میں نازل فرمائی جنہوں نے صلح حدیبیہ کے سرمانہ پر ”……“ لکھنے سے منع کردیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ مان لیں تو پھر جھگڑا کیا رہ جاتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اگر یہ آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے تو کیا فرق پڑتا ہے ؟ اللہ آپ کے رسول اللہ ہونے کی گواہی دیتا ہے اور آپ کے لئے اللہ کی گواہی کافی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 48 الفتح آیت نمبر 28