وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی انکے رب کی نشانیوں سے نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیرلیتے ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی بھی نشانی نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

{وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ:اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی نہیں آتی۔} اس سے پہلی آیات میں مشرکین کے اس کفر کو بیان کیاگیا جو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتے تھے اور اس آیت سے مشرکین کے ا س کفر کو بیان کیا گیا ہے جو وہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ کرتے تھے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ مکہ کا کفر وسرکشی میں حال یہ ہے کہ ان کے پاس جب بھی قرآنِ مجید کی آیات آتی ہیں یا وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے معجزات دیکھتے ہیں تو وہ ا س سے منہ پھیر لیتے ہیں۔(خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۴، ۲ / ۴، ملتقطاً)