أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهٖ نَفۡسُهٗ ۖۚ وَنَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان وسوسوں کو جانتے ہیں جو اس کا نفس (امارہ) (اس کے دل میں) ڈالتا رہتا ہے، اور ہم (اس کی) شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان وسوسوں کو جانتے ہیں جو اس کا نفس امارہ اس کے دل میں ڈالتا رہتا ہے، اور ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔ جب اس کے (ہر قول اور فعل کو) دو فرشتے حاصل کرلیتے ہیں جو اس کی دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ جو بات بھی کہتا ہے (اس کو لکھنے کے لیے) اس کا محافظ (فرشتہ) منتظر ہوتا ہے۔ اور موت کی سختی حق کے ساتھ آپہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو انحراف کرتا تھا۔ (قٰٓ:16-19)

اللہ تعالیٰ کے شہ رگ سے قریب ہونے کا معنی

اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم کو علم ہے کہ کیا کیا چیزیں اس کے دل میں کھٹکتی ہیں اور اس میں انسان کو ان گناہوں سے منع کیا ہے جو وہ چھپ کر تنہائی میں کرتا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا : انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور شیطان کے ورغلانے سے ان کے دل میں شجر ممنوع کی خواہش پیدا ہوئی، تاہم انہوں نے معصیت کے قصد سے شجر ممنوع سے نہیں کھایا، بلکہ اجتہادی خطاء سے کھایا، انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ممانعت تنزیہہ کے لیے ہے اور وہ یہ بھول گئے کہ یہ ممانعت تحریم کے لیے تھی، پھر ان کی اولاد کے دل میں ممنوع کاموں کا شوق اور تحریک پیدا ہوئی، اس کو حدیث نفس اور کلام خفی بھی کہتے ہیں۔

اور فرمایا : ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، ” ورید “ اس رگ کو کہتے ہیں جس کے کٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے، یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے کندھے تک ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ہماری ہر ظاہر اور باطن چیز کا علم ہے، حتیٰ کہ اس کو ہمارے دل میں آنے والے خیالات کا بھی علم ہے۔ حسن بصری نے کہا : شہ رگ سے مراد رگِ جان ہے جو دل کے ساتھ معلق ہے اور اس قرب سے مراد قرب مسافت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ انسان کے دل سے زیادہ اس کے قریب ہے یعنی دل میں کسی خیال کے آنے سے پہلے اسے اس خیال کا علم ہوتا ہے۔ مقاتل نے کہا : اس قرب سے مراد علم اور قدرت ہے، انسان کے بعض اعضاء اس کے علم کے لیے حجاب بن جاتے ہیں اور اللہ کے علم کے لیے کوئی چیز حجاب نہیں بنتی، ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے خون میں کیا کیا کیمیاوی اجزاء ہیں، کیا کیا بیماریاں ہیں، ہمارے معدہ اور جگر میں قوت اور ضعف اور صحت اور سقم کی کیا کیفیات ہیں، ہمارے جسم میں کتنے مسامات اور کتنے بال ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو ہمارے جسم کے ہرحال اور ہر کیفیت کا علم ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 50 ق آیت نمبر 16