أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا كَثِيۡرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ‌ۖ وَّلَا تَجَسَّسُوۡا وَلَا يَغۡتَبْ بَّعۡضُكُمۡ بَعۡضًا‌ ؕ اَ يُحِبُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ يَّاۡكُلَ لَحۡمَ اَخِيۡهِ مَيۡتًا فَكَرِهۡتُمُوۡهُ‌ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم (کسی کے متعلق) تجسس کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس کو ناپسند کرون گے، اور اللہ سے ڈرتے، بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے

الحجرات : ١٢ میں فرمایا : اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم (کسی کے متعلق) تجسس کرو، اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو، کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس کو ناپسند کرو گے، اور اللہ سے ڈرتے ہو، بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

مسلمان کے متعلق بدگمانی کے حرام ہونے پر دلائل

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم گمان کرنے سے بچو کیونکہ گمان کرنا سب سے جھوٹی بات ہے اور تجسس نہ کرو اور (کسی کے حالات جاننے کے لئے) تفتیش نہ کرو اور کسی سے حسد نہ کرو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو اور نہ کسی بعغض رکھو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جائو۔ ایک روایت میں ہے : اور کسی مسلما کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی کو چھوڑ رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٦٥۔ ٦٠٦٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٥٩، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٩١٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٨٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٨٤٥، عالم الکتب)

بعض علماء نے کہا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں اور مذکور الصدر حدیث میں گمان کی ممانعت سے مراد بدگمانی سے منع کرنا ہے اور کسی پر تہمت لگانے سے منع کرنا ہے، مثلاً کوئی شخص بغیر کسی قوی دلیل کے اور بغیر کسی سبب موجب کے یہ گمان کرے کہ وہ شراب پیتا یا زنا کرتا ہے یا اور کوئی بےحیائی کا کام کرتا ہے۔ یعنی ایسے ہی کسی کے دل میں خیال آجائے کہ فلاں شخص فلاں برا کام کرتا ہے تو یہ بدگمانی ہے۔

بعض گمان صحیح ہوتے ہیں اور بعض گمان فاسد ہوتے ہیں، ان میں فرق یہ ہے کہ جس گمان کی کوئی صحیح علامت نہ ہو اور اس کا کوئی ظا پر سبب نہ ہو وہ بدگمانی ہے اور حرام ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ جس شخص کے متعلق معروف اور مشہور یہ ہو کہ وہ نیک آدمی ہے یا اس کا حال مستور ہے اور کوئی شخص محض کسی شبہ کی وجہ سے اس کے متعلق بدگمانی کرے، جیسے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے متعلق منافقوں ور بعض مسلمانوں نے محض اس شبہ کی وجہ سے بدگمانی کی کہ وہ قافلہ سے بچھر گئی تھیں اور بعد میں حضرت صفوان بن معطل (رض) کے ساتھ آئی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بدگمانی کے رد میں آیت نازل فرمائی :

………(ایسا کیوں نہ ہوا کہ جیسے ہی تم نے اس بات (حضرت عائشہ پر بےحیائی کی تہمت) کو سنا تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنوں کے متلق نیک گمان کیا ہوتا اور یہ کہا ہوتا کہ یہ صریح بہتان ہے۔

اسی طرح جب چھ ہجری کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرہ کرنے کے لئے مکہ روانہ ہوئے اور صلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا، تو منافق آپ کے ساتھ اس شبہ کی وجہ سے نہیں گئے تھے کہ یہ بغیر ہتھیار لئے مشرکین کی طرف جا رہے ہیں اور مسلمانوں کے متعلق یہ بدگمانی کی کہ وہ مارے جائیں گے اور اب واپس مدینہ نہیں آئیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بدگمانی کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی :

………(الفتح : ١٢)

بلکہ تم نے یہ گمان کیا تھا کہ اب رسول اور مؤمنین کبھی بھی اپنے گھروں کی طرف نہیں لوٹ سکیں گے اور یہی گمان تمہارے دلوں میں خوش نما بن گیا تھ اور تم نے بہت برا گمان کیا تھا اور (دراصل) تم ہلاک ہونے والے لوگ ہو۔

اور حافظ یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البرمال کی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

بے شک اللہ نے مسلمان کے خون اور اس کی جان کو حرم کردیا ہے اور فرمایا : مسلمانوں کے متعلق خبر کے سوا اور کوئی گمان نہ کیا جائے، اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کسی کے متعلق (بد) گمانی کرو تو اس کی تحقیق نہ کرو اور حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا : کسی مسلمان شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے کوئی بات سن کر اس کے متعلق بدگمانی کرے جب کہ اس کی بات کا کوئی نیک محمل نکل سکتا ہو اور سفیان نے کہا : ظن کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ ہے اور ایک وہ ظن ہے جس میں گناہ نہیں ہے، جس ظن میں گناہ ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام کیا جائے اور جس ظن میں گناہ نہیں ہے یہ وہ ظن ہے جس کے موافق کلام نہ کیا جائے۔ (التمہید ج ٧ س ٢١١۔ ٢١٠، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

حافظ ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٧ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مومن کو بدگمانی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : ٦٣٣٣، جامع البیان رقم الحدیث : ٢٤٥٧٥)

ظن اور گمان کے جواز اور عدم جواز کے محمل

امام محمد ابن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ لکھتے ہیں :

شیطان آدمی کے دل میں بدگمانی ڈالتا ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اور اس کو خوش نہ کرے حتیٰ کہ اگر کسی کے منہ سے شراب کی بو آرہی ہو تو پھر بھی اس حد لگانا جائز نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے شراب کا ایک گھونٹ پی کر گلی کردی ہو یا کسی نے اس کو ب جبراً شراب پلا دی ہو اور اس کا احتمال ہے، تو وہ دل کے خون کو، اس کے مال کو اور اس کے متعلق بدگمانی کا حرام کردیا ہے، اس لئے جب تک وہ خود کسی چیز کا مشاہدہ نہ کرے یا اس پر دو نیک گواہ قائم نہ ہوجائیں اس وقت تک مسلمان کے متعلق بدگمانی کرنا جائز نہیں ہے اور جب اس طرح نہ ہو اور شیطان تمہارے دل میں کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی کا وسوسہ ڈالے تو تم اس وسوسہ کو دور کرو اور اس پر جمے رہو کہ اس کا حال تم سے مستور ہے اور اس شخص کے حق میں نیک پر قائم رہنے اور گناہ سے باز رہنے کی دعا کرو اور شیطان کو ناکام اور نامراد کرکے اس کو غضب میں لائو۔ (احیاء العلوم ج ٣ ص ١٣٥، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اگر کوئی شخص نیکی میں مشہور ہو تو اس کے متعلق بدگمانی جائز نہیں اور جو علانیہ گناہ کبیرہ کو مرتکب ہو اور فسق میں مشہور ہو اس کے متعلق بدگمانی کرنا جائز ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٦ ص ٣٠٠، دار الفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

میں کہتا ہوں کہ امام غزالی کا قول صائب اور صحیح ہے۔

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

جو گمان ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور نیک مسلمانوں کے متعلق برا گمان کیا جائے اور جس گمان کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس حکم کے حصول کی دلیل قطعی میسر نہ ہو اور کسی معاملہ میں اس پر حکم نافذ کرنا مقصود ہو تو اس معاملہ میں طن غالب پر عمل کرکے حکم نافذ کرنا واجب ہے، جس طرح ہم پر واجب ہے کہ ہم نیک مسلمانوں کی شہادت قبول کریں (اور ان کا نیک ہونا ظن غالب سے معلوم ہوگا) اور جنگل میں غور و فکر کرکے ظن غالب سے سمت قبلہ معلوم کرنا، اسی طرح اگر محرم نے کسی جانور کا شکار کرکے اس کو ہلاک کردیا اور شریعت میں اس جانور کی مقدار اور قیمت متعین نہیں ہے تو اس کا تاوان ادا کرنے کے لئے ظن غالب سے اس کی قیمت کو تعین کرنا۔ اس قسم کی مثالوں میں ہمیں ظن گا لب کے تقاضے پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور جو ظن مباح ہے وہ یہ ہے کہ جب امام کو رکعات کی تعداد میں شک پڑجائے تو وہ غور و فکر کرے اور جتنی تعداد پر ظن غالب ہو اس پر عمل کرے، اگرچہ دوبارہ نماز پڑھنا افضل ہے اور جو ظن مستحب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے متعلق نیک گمان کرے، خواہ لوگ اس کو بلا دلیل برا کہہ رہے ہوں۔ (عمدۃ القاری ج ٢٢ ص ٢١٥، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

مسلمانوں کے عیوب تلاش کرنے کی ممانعت

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : اور تجسس نہ کرو یعنی کسی مسلمان کے عیوب اور اس کی کوتاہیوں کو تلاش نہ کرو۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان کے ظاہر حال پر عمل کرو اور اس کے عیوب کو تلاش نہ کرو اور اللہ تعالیٰ نے جس مسلمان کے عیوب پر پردہ رکھا ہوا ہے اس کے پردہ کو چاک نہ کرو۔ حدیث میں ہے :

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم لوگوں کے عیوب تلاش کروگے تو تم ان کو خراب کردو گے۔ (سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٨٨)

زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کی ڈاڑھی سے شراب چمک رہی تھی، حضرت ابن مسعود نے فرمایا : ہم کو تجسس کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہوگی تو اہم کے تقاضے پر عمل کریں گے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٩٠)

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی مسلمان کے عیب پر دہ رکھا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ رکھے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٩٥١، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٨٩٣، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٦٣٢٦ )

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) نے فرمایا : کسی شخص کے گمراہ ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ لوگوں میں وہ چیزیں دیکھے جو اس کو اپنے اندر نظر نہیں آتیں اور جو کام وہ خود کرتا ہے ان کاموں پر دوسروں کی مذمت کرے، اور لا یعنی باتوں سے اپنے ہم نشین کو ایذاء پہنچائے۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : ٦٣٣٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کو بھول جاتا ہے۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : ٦٣٣٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٣١، حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٩٩)

عام لوگوں کے لئے لوگوں کے احوال کو تلاش کرنا ممنوع ہے لیکن حکومت داخلی اور خارجی معاملات کی حفاظت کے لئے جاسوسی کا محکمہ قائم کرے تو یہ جائز ہے۔

ملک کے داخلی اور خارجی استحکام کے لیے محکمہ جاسوی قائم کرنے کا جواز

ملک کے داخلی معاملات کی اصلاح کے لیے جاسوس مقرر کرنے کی اصل یہ حدیث ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حضرت زبیرکو اور حضرت مقدار کو بھیجا اور فرمایا: تم روانہ ہو تاکہ روضة خاخ ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک باغ) میں بچ جاؤ وہاں ایک مسافرہ ہوگی اور اس کے پاس ایک خط ہو گا وہ اس سے لے کر قبضہ میں کر لو ہم گھوڑے دوڑاتے ہوئے گئے حتی کہ ہم اس باغ میں پہنچ گئے ہم نے اس سے کہا کہ خط نکالو اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا: تم خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے پھر اس نے اپنے بالوں کے جوڑے کے اندر سے خط نکالا ہم اس خط کو لے کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اس خط میں لکھا تھا: مکتوب حاطب بن ابی بلتعتہ کی جانب سے مشرکین مکہ کی جانب ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض کارروائیوں کی خبر دی تھی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے حاطب ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! میرے خلاف کارروائی میں جلدی نہ کریں میں قریش کے قبیلہ سے نہیں ہوں لیکن میں وہیں رہتا تھا اور مہاجرین کی مکہ میں رشتہ داریاں ہیں جن کی وجہ سے ان کے اہل اور مال محفوظ رہیں گے اور میری ان کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں تھی تو میں نے چاہا کہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں تا کہ وہ میرے رشتہ داروں کی وہاں حفاظت کریں میں نے یہ کام کسی کفر یا ارتداد کی وجہ سے یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے نہیں کیا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا ہے حضرت عمر نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس منافقت کی گردن اڑا دوں آپ نے فرمایا: یہ شخص غزوہ بدر میں شریک تھا اور تمہیں کیا پتا کہ الله تعالی نے اہل بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم جو چاہو کرو میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (کی صحیح البخاری رقم الحدیث: 3007 صحیح مسلم رقم الحدیث: ۲۴۹۴، سنن ابوداود ورقم الحدیث:2650، سنن ترمذی رقم الحدیث: ۳۳۰۵،سنن الکبری للنسائی رقم الحدیث:11585)

علامہ بدرالدین عینی نے لکھا ہے کہ اگر مسلمان مسلمانوں کے خلاف جاسوی کرے تو اس پر تعیر لگائی جائے گی اور اگر اس کا عذرصحیح ہو تو اس کو معاف کر دیا جائے گا اور اگر کافر مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرے تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔

( عمدة القاری ج 14، ص356 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)

اور دشمن ملک کی طرف جاسوں روانہ کرنے کی اصل یہ حدیث ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دس جاسوں روانہ کیے اور حضرت عاصم بن ثابت انصاری کو ان کا امیر بنا دیا ۔ الحدیث (صحیح البخاری رقم الحدیث :۳۹۸۹ صحیح مسلم رقم الحدیث:1776،سنن ابوداؤد رقم الحدیث:2660)

غیبت کی تعریف اور غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دینا

نیز اس آیت میں فرمایا ہے اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کیا کرو کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو تم اس کو نا پسند کرو گے۔ اس آیت میں الله عز وجل نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے، غیبت کی تعریف یہ ہے کہ کی مسلمان کو ذلیل اور رسوا کرنے کے لیے اس کی پیٹھ پیچھے اس کا وہ عیب بیان کیا جائے جو اس میں ہو اور اگر کسی غرض سے اس کا عیب بیان کیا جائے تو وہ غیبت نہیں ہے اور اگر اس کے متعلق ایسا عیب بیان کیا جائے جو اس میں نہیں ہے تو پھر وہ بہتان ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرو جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہے، کہا گیا : یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کو میں بیان کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : اگر تم جو عیب بیان کررہے ہو وہ عیب اس میں ہو جب ہی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہیں تو پھر وہ بہتان ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث :2589، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4874)

بہتان اور تہمت ایک ہی چیز ہیں اس کی مثال وہ ہے جو حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی گئی تھی، غیبت کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے، اس کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ماعزاسلمی (رض) (جن کو زنا کا اعتراف کرنے کے بعد رجم کردیا گیا تھا) کے اصحاب میں سے دو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شخص نے کہا : دیکھو ! اس شخص (حضرت ماعز) پر اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا تھا، اور اس شخص نے خود اپنی جان نہیں چھوڑی حتیٰ کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کردیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ روانہ ہوئے حتیٰ کہ آپ ایک مردہ گودھے کے پاس سے گزر، آپ نے فرمایا : وہ فلاں، فلاں کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم یہاں ہیں، یا رسول الہ ! آپ نے فرمایا : آؤ اور اس مردہ گدھے کو کھاؤ، انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! اس کو، کون کھائے گا ؟ آپ نے فرمایا : تم نے جو ابھی اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے وہ اس مردہ کو کھانے سے زیادہ سخت تھی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! وہ تو اب جنت کے دریاؤں میں غوطے لگا رہا ہے۔(سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4428)

غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کی وجوہ

اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کی مثال مردار کھانے سے دی ہے، کیونکہ جس طرح جس مردار کا گوشت کھایا جائے اس کو علم نہیں ہوتا کہ اس کا گوشت کھایا جا رہا ہے، اسی طرح جس شخص کا پسِ پشت عیب بیان کیا جائے اس کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کا پسِ پشت عیب بیان کیا جا رہا ہے، نیز جس طرح مردار کا گوشت کھانا حرام ہے اور گھناؤنا فعل ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کی غیبت کرنا بھی حرام ہے اور گھناؤنا فعل ہے نیز کسی مسلمان کی جب غیبت کی جائے تو وہ اپنے واقف لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہوجاتا ہے اور کسی مسلمان کو بےعزت کرنا اس کو قتل کردینے کے مترادف ہے اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں پر جس طرح ایک دوسرے کی جان اور مال کو حرام کیا ہے، اسی طرح اس کی عزت کو بھی حرام کیا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ نے تمہاری جانوں کو اور تمہارے مالوں کو اور تمہاری عزتوں کو ایک دوسرے پر اس طرح حرام کردیا ہے جیسے آج کے دن، اس مہینہ میں تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث :1742، سنن ابوداؤد رقم الحدیث :4686، سنن نسائی رقم الحدیث : 4125، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3943)

نیز اس آیت کا یہ معنی بھی ہے : جس طرح تم میں سے کوئی شخص مردار کھانے سے اجتناب کرتا ہے اسی طرح کو غیبت کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

غیبت کرنے پر عذاب کی وعیدیں

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ تو وہ غیبت نہیں ہے اور اگر اس کے متعلق ایسا عیب بیان کیا جائے جو اس میں نہیں ہے تو پھر وہ بہتان ہے، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے ؟ صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں، آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرو جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہے، کہا گیا : یہ بتائیں اگر میرے بھائی میں وہ عیب ہو جس کو میں بیان کرتا ہوں، آپ نے فرمایا : اگر تم جو عیب بیان کررہے ہو وہ عیب اس میں ہو جب ہی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہیں تو پھر وہ بہتان ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث :2589، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4874)

بہتان اور تہمت ایک ہی چیز ہیں اس کی مثال وہ ہے جو حضرت عائشہ (رض) پر تہمت لگائی گئی تھی، غیبت کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے، اس کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ماعزاسلمی (رض) (جن کو زنا کا اعتراف کرنے کے بعد رجم کردیا گیا تھا) کے اصحاب میں سے دو شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ان میں سے ایک شخص نے کہا : دیکھو ! اس شخص (حضرت ماعز) پر اللہ تعالیٰ نے پردہ رکھا تھا، اور اس شخص نے خود اپنی جان نہیں چھوڑی حتیٰ کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کردیا گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ روانہ ہوئے حتیٰ کہ آپ ایک مردہ گودھے کے پاس سے گزر، آپ نے فرمایا : وہ فلاں، فلاں کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم یہاں ہیں، یا رسول الہ ! آپ نے فرمایا : آؤ اور اس مردہ گدھے کو کھاؤ، انہوں نے کہا : یا نبی اللہ ! اس کو، کون کھائے گا ؟ آپ نے فرمایا : تم نے جو ابھی اپنے بھائی کی عزت پامال کی ہے وہ اس مردہ کو کھانے سے زیادہ سخت تھی اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! وہ تو اب جنت کے دریاؤں میں غوطے لگا رہا ہے۔(سنن ابو داؤد رقم الحدیث :4428)

غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دینے کی وجوہ

اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کی مثال مردار کھانے سے دی ہے، کیونکہ جس طرح جس مردار کا گوشت کھایا جائے اس کو علم نہیں ہوتا کہ اس کا گوشت کھایا جا رہا ہے، اسی طرح جس شخص کا پسِ پشت عیب بیان کیا جائے اس کو بھی یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کا پسِ پشت عیب بیان کیا جا رہا ہے، نیز جس طرح مردار کا گوشت کھانا حرام ہے اور گھناؤنا فعل ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کی غیبت کرنا بھی حرام ہے اور گھناؤنا فعل ہے نیز کسی مسلمان کی جب غیبت کی جائے تو وہ اپنے واقف لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہوجاتا ہے اور کسی مسلمان کو بےعزت کرنا اس کو قتل کردینے کے مترادف ہے اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں پر جس طرح ایک دوسرے کی جان اور مال کو حرام کیا ہے، اسی طرح اس کی عزت کو بھی حرام کیا ہے، حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ نے تمہاری جانوں کو اور تمہارے مالوں کو اور تمہاری عزتوں کو ایک دوسرے پر اس طرح حرام کردیا ہے جیسے آج کے دن، اس مہینہ میں تمہارے اس شہر کی حرمت ہے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث :1742، سنن ابوداؤد رقم الحدیث :4686، سنن نسائی رقم الحدیث : 4125، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3943)

نیز اس آیت کا یہ معنی بھی ہے : جس طرح تم میں سے کوئی شخص مردار کھانے سے اجتناب کرتا ہے اسی طرح کو غیبت کرنے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

غیبت کرنے پر عذاب کی وعیدیں

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے پیتل کے ناخن تھے اور وہ ان ناخنوں سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا : اے جبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو پامال کرتے تھے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث، 4878)

حضرت مستورد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان شخص کا گوشت کھایا، اللہ تعالیٰ اس کو اتنی ہی دوزخ کی آگ کھلائے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان شخص کا (حرام) کپڑا پہنا، اللہ تعالیٰ اس کو اتناہی دوزخ کا کپڑا پہنائے گا، اور جس نے کسی شخص کو دکھاوے اور ستانے کے لیے کھڑا کیا، اللہ سبحانہٗ اس کو قیامت کے دن دکھاوے اور ستانے کے لیے کھڑا کرے گا۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 488)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی موومن یا مومنہ پر بہتان باندھا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن خبال (دوزخ کے ایک طبقہ کی کیچڑ) میں بند رکھے گا حتیٰ کہ وہ اپنے بہتان سے نکل آئے اور وہ اس سے نہیں نکل سکے گا۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : 13435، تاریخ بغداد ج 8 ص 201، مسند الشامیین رقم الحدیث : 2460، حافظ الہیشمی نے کہا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مجمع الزوائد ج 10 ص 91)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا اس کے پاس اس کے بھائی کا گوشت لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا : تم جس طرح دنیا میں اپنے زندہ بھائی کا گوشت کھاتے تھے اب مردہ گوشت کھاؤ، وہ اس کو چیخ مارتا ہوں اور منہ بگاڑتا ہوا کھائے گا۔(المعجم الاوسط رقم الحدیث : 1677، اس حدیث کی روایت میں مجہول رواوی بھی ہیں۔ مجمع الزوائد رقم الحدیث : 13129)

حضرت ابو سعید اور حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غیبت زنا سے زیادہ سخت گناہ ہے، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! غیبت کرنا زنا سے زیادہ سخت گناہ کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ایک آدمی زنا کرتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور غیبت کرنے والے کو اس وقت تک مغفرت نہیں ہوتی حتیٰ کہ جس کی غیبت کی ہے وہ اس کو معاف نہ کر دے۔ (شعب الایمان ج 5 ص 306، الترغیب والترہیب ج 3 ص 511، مشکوٰۃ رقم الحدیث : 4874)

یحییٰ بن جابر بیان کرتے ہیں کہ جس نے کسی شخص کا عیب بیان کیا اللہ تعالیٰ اس کو بھی اسی عیب میں مبتلا کردیتا ہے۔(الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : 6354)

مالک بن دینار کہتے تھے کہ کسی شخص کے برے ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ خود نیک نہ ہو اور نیک لوگوں کی برائی کرتا ہو۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : 6359)

غیبت کا کفارہ

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لئے استغفار کرو جس کی غیبت کی ہے۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : 6368، اللآلی المصنوعۃ ج 2 ص 303)

عبداللہ بن مبارک نے کہا : جب کوئی شخص کسی کی غیبت کرے تو اس کو نہ بتائے لیکن اللہ سے استغفار کرے۔(الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : 6366)

امام احمد (رح) نے کہا : غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس کی غیبت کی ہے اس کے لیے استغفار کرو۔(الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث : 6367)

جن صورتوں میں پس پشت عیب بیان کرنا جائز ہے

شعبہ نے کہا : شکایت کرنے کے لیے اور لوگوں کو ضرر سے بچانے کے لیے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں ہے۔(الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث :6372)

ابن عیینہ نے کہا : تین آدمیوں کا عیب بیان کرنا غیبت نہیں ہے، (1) ظالم حکمران (2) جو شخص لوگوں کے سامنے اللہ کی نافرمانی کرتا ہو (3) وہ بدعتی جو لوگوں کو اپنی بدعت کی دعوت دیتا ہو۔ (الجامع لشعب الایمان رقم الحدیث :6374)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی 676 ھ لکھتے ہیں :

جس سبب صحیح اور غرض شرعی کو کسی کا پس پشت عیب بیان کیے بغیر پورا نہ کیا جاسکے اس غرض کو پورا کرنے کے لیے غیبت کرنا مباح ہے اور اس کے چھ اسباب ہیں۔ پہلا سبب یہ ہے کہ مظلوم اپنی دادرسی کے لیے سلطان، قاضی یا اس کے قائم مقام شخص کے سامنے ظالم کا ظلم بیان کرے کہ فلاں شخص نے مجھ پر یہ ظلم کیا ہے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ کسی برائی کو ختم کرنے اور بدکار کو نیکی کی طرف راجع کرنے کے لیے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اس کی غیبت کی جائے کہ فلاں شخص یہ بُرا کام کرتا ہے اس کو اس برائی سے روکو اور اس سے مقصود صرف برائی کا ازالہ ہو، اگر یہ مقصد نہ ہو تو غیبت حرام ہے۔ تیسرا سبب ہے استفسار، کوئی شخص مفتی سے پوچھے : فلاں شخص نے میرے ساتھ یہ ظلم یا یہ برائی کی ہے کیا یہ جائز ہے ؟ میں اس ظلم سے کیسے نجات پاؤں ؟ یا اپنا حق کس طرح حاصل کروں ؟ اس میں بھی افضل یہ ہے کہ اس شخص کی تعیین کیے بغیر سوال کرے کہ ایسے شخص کا کیا شرعی حکم ہے ؟ تاہم تعیین بھی جائز ہے۔ چوتھا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا اور اس کو کسی شخص کے ضرر سے بچانا اور اس کی متعدد صورتیں ہیں (ا) مجروح راویوں پر جرح کرنا اور فاسق گواہوں کے عیوب نکالنا، یہ اجماع مسلمین سے جائز ہے بلکہ ضرورت کی وجہ سے واجب ہے (ب) کوئی شخص کسی جگہ شادی کرنے کے لیے مشورہ کر، یا کسی شخص سے شراکت کے لیے مشورہ کرے یا کسی بھی قسم کا معاملہ کرنے کے لیے مشورہ کرے اور اس شخص میں کوئی عیب ہو تو مشورہ دینے والے پر واجب ہے کہ وہ اس عیب کو ظاہر کر دے (ج) جب انسان یہ دیکھے کہ ایک طالب علم کسی بدعتی یا فاسق سے علم حاصل کر رہا ہے اور اس سے علم حاصل کرنے میں اس کے ضرر کا اندیشہ ہے تو وہ اس کی خیرخواہی کے لیے اس بدعتی یا فاسق کی بدعت اور فسق پر اسے متنبہ کرے۔ (د) کسی ایسے شخص کو علاقہ کا حاکم بنایا ہوا جو اس منصب کا ہل نہ ہو، اس کو صحیح طریقہ پر انجام نہ دے سکتا ہو یا غافل ہو یا اور کوئی عیب ہو تو ضروری ہے کہ حاکم اعلیٰ کے سامنے اس کے عیوب بیان کیے جائیں، تاکہ اہل اور کارآمد شخص کو حاکم بنایا جاسکے۔ پانچواں سبب یہ ہے کہ کوئی شخص علی الاعلان فسق و فجور اور بدعات کا ارتکاب کرتا ہو، مثلاً شراب نوشی، جواء کھیلنا، لوگوں کے اموال لوٹنا وغیرہ تو ایسے شخص کے ان عیوب کو پس پشت بیان کرنا جائز ہے، جن کو وہ علی الاعلان کرتا ہو، ان کے علاوہ اس کے دوسرے عیوب کو بیان کرنا جائز نہیں ہے اور چھٹا سبب ہے تعریف اور تعیین مثلاً کوئی شخص اعرج (لنگڑے) ، اصم (بہرے) ، اعمی (اندھے) احول (بھینگے) کے لقب سے مشہور ہو تو اس کی تعریف اور تعیین کے لیے اس کا ذکر ان اوصاف کے ساتھ کرنا جائز ہے اور اس کی تنقیص کے ارادے سے ان اوصاف کے ساتھ اس کا ذکر جائز نہیں ہے اور اگر اس کی تعریف اور تعیین کسی اور طریقہ سے ہو سکے پھر بھی اس عیب کا ذکر جائز نہیں ہے۔ (ریاض الصالحین ص 579-581، کراچی)

غیبت کے موضوع پر اس سے بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ میں نے ” شرح صحیح مسلم “ ج 7 ص 167 تا 196 میں لکھا ہے۔شاید قارئین کو اس سے زیادہ بحث کہیں نہ ملے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 12