يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞- سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 13
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞
ترجمہ:
اے لوگو ! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور ہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرو، بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا بےحد خبر رکھنے والا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! بیشک ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور ہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنادیا تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرو، بیشک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا بےحد خبر رکھنے والا ہے۔ دیہاتیوں نے کہا : ہم ایمان لائے، آپ کہیے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں ! یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی اور ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا، اور اگر تم اللہ کی اطاعت کرو، اور اس کے رسول کی تو اللہ تمہارے (نیک) اعمال سے کوئی کمی نہیں کرے گا، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔(الحجرات :13-14)
علامہ آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
امام ابو داؤد نے اپنی ” مراسیل “ میں امام ابن مردویہ اور امام بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں زہری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو بیاضہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی عورت کا ابوہند سے نکاح کردیں، انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنی بیٹیوں کا اپنے آزاد شدہ غلاموں سے نکاح کردیں ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اے لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا، الایۃ۔
زہری نے کہا : یہ آیت بالخصوص ابوہند کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فصد لگاتا تھا (الیٰ قولہ) ، یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نسب پر فخر نہیں کرنا چاہیے، احادیث میں بھی اس کی صراحت ہے۔
علامہ آلوسی اس بحث میں مزید لکھتے ہیں :
امام بیہقی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے باپ دادا کی وجہ سے جاہلیت کی نخوت اور تکبر کو دور کردیا ہے، تم سب آدم اور حوا کی اولاد ہو جس طرح دو صاع برابر برابر ہوتے ہیں اور بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو پس تمہارے پاس جو بھی ایسا شخص آئے جس کے دین اور امانت پر تم راضی ہو اس سے (اپنی لڑکیوں کا) نکاح کردو۔ اس حدیث کو امام احمد اور محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، لیکن امام احمد کی روایت میں ” تمہارے پاس جو بھی آئے “ یہ الفاظ نہیں ہیں۔(شعب الایمان ج 4 ص 288-289، طبع بیروت)
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنوبیاضہ ! ابوہند سے نکاح کردو، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنی لڑکیوں کا اپنے (آزاد شدہ) غلاموں سے نکاح کردیں ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :” یایھا الناس انا خلقنکم من ذکرٍ وانثی “ (الحجرات :13) ۔ (عمدۃ القاری ج 20 ص 163-164، مصر)
علامہ قرطبی مالکی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
حدیث صحیح میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ (یہ بدری صحابی تھے) نے سالم کو اپنا بیٹا بنایا اور ان کے ساتھ اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی (ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ قرشیہ) کا نکاح کردیا، حالانکہ سالم انصار کی ایک عورت کے آزاد شدہ غلام تھے اور حضرت ضباعہ بنت الزبیر (یہ ہاشمی خاتون تھیں) حضرت مقداد بن اسود کے نکاح میں تھیں (یہ غیر قرشی تھے) ۔ (صحیح البخاری ج 2 ص 762، طبع کراچی، صحیح البخاری رقم الحدیث :5088، بیروت)
میں کہتا ہوں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (قرشی) کی بہن حضرت بلال کے عقد میں تھیں اور حضرت زینب بنت حجش، حضرت زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں، ان مثالوں سے معلوم ہوا کہ آزاد شدہ غلاموں سے عرب عورتوں کا نکاح جائز ہے۔ اور کفاءۃ کا اعتبار صرف دین میں ہے۔ (الیٰ قولہ) حضرت سلمان فارسی نے حضرت ابوبکر سے ان کی صاحبزادی کا رشتہ مانگا تو انہوں نے منظور کرلیا، اور حضرت سلمان فاسری نے حضرت عمر (رض) سے ان کی صاحبزادی کا رشتہ مانگا تو ان پر یہ امر دشوار ہوا، پھر حضرت عمر نے خود حضرت سلمان سے نکاح کی درخواست کی، لیکن حضرت سلمان نے نکاح نہیں کیا، حضرت بلال نے بکیر کی بیٹی کا رشتہ مانگا، اس کے بھائیوں نے انکار کیا، حضرت بلال نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے بنو بکیر سے کیا سانحہ پیش آیا ؟ میں نے ان کی بہن کا رشتہ مانگا، انہوں نے مجھے انکار کردیا اور مجھ کو اذیت دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت بلال کی وجہ سے غضب ناک ہوئے، یہ خبر ان لوگوں کو پہنچی تو وہ اپنی بہن کے پاس گئے اور کہا : تمہاری وجہ سے ہمیں کیسی پریشانی ہوئی ہے ؟ ان کی بہن نے کہا : میرا معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ہے، پھر انہوں نے اس کا نکاح کردیا، اور جب ابوہند نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فصد لگائی تو آپ نے اس کے متعلق فرمایا : ابوہند سے نکاح کرو اور اس کی طرف رشتہ کرو، حالانکہ ابوہند بنو بیاضہ کا آزاد شدہ غلام تھا۔ اور امام دارقطنی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ابوہند بنو بیاضہ کا آزاد شدہ غلام تھا جو فصد لگاتا تھا، اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فصد لگائی، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ایسے آدمی کو دیکھنے سے خوش ہو جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کی تصویر بنائی ہو وہ ابوہند کو دیکھ لے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (بنو بیاضہ سے) فرمایا : اس کے ساتھ نکاح کردو۔
علامہ ابن قدامہ حنبلی نے بھی اس آیت کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (المغنی ج 7 ص 226، اسی طرح علامہ سیوطی شافعی نے ” الدرالمنثور “ ج 7 ص 503-508 میں اور انہوں نے ذات پات کا امتیاز نہ کرنے پر وہ تمام احادیث بیان کی ہیں جن کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔ )
استدلال مذکور پر ایک اعتراض کا جواب
بعض اہل علم لکھتے ہیں :
مذکورہ آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ ایک دوسرے پر طعن کریں، نام بگاڑیں، ایک دوسرے کے نسب پر چوٹیں کریں اور ایک دوسرے کو برے القاب و اوصاف سے ایذاء پہنچائیں یا تمسخر اڑائیں، ان سب خرابیوں کے ازالہ کے لیے آیت میں ارشاد ہوا کہ خدا کے نزدیک تمہارے کام آنے والی اصل چیز تقویٰ اور ایمان ہیں جن کا ظہور مکمل طور پر دار آخرت میں ہوگا۔
اس کلام کی متنانت سے ہمیں انکار نہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے کہ اس آیت کا نزول ابوہند کے بارے میں ہوا، جب بنو بیاضہ نے اس کے غلام ہونے کی وجہ سے اس کو رشتہ دینے سے انکار کردیا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو بیاضہ کو حکم دیا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کردیں حالانکہ وہ ایک فصد لگانے والا غلام تھا اور اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، جیسا کہ علامہ آلوسی حنفی، علامہ عینی حنفی، علامہ قرطبی مالکی، علامہ سیوطی شافعی اور علامہ ابن قدامہ حنبلی نے لکھا ہے۔ لہٰذا اس آیت کے شان نزول سے بھی یہ ثابت ہوا کہ غیر کفو میں نکاح جائز ہے۔
عہدِ رسالت میں غیر کفو میں نکاح کے بہ کثرت واقعات ہوئے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی نکاح کے موقع پر یہ نہیں فرمایا کہ صرف تمہارے لیے یہ نکاح جائز ہے اور کسی کے لیے یہ نکاح جائز نہیں ہے، اگر نکاح کے یہ واقعات استثنائی ہوتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی موقع پر تو اس استثناء کو بیان فرماتے۔
غیر کفو میں کیے گئے رشتوں کو استثناء پر محمول کرنا اس وقت صحیح ہوتا جب قرآن مجید کی کسی صریح آیت یا خبر متواتر یا کسی حدیث صحیح سے غیر کفو میں نکاح کرنے کی ممانعت ہوتی اور جب اس سلسلہ میں کوئی سند صحیح سے خبر واحد بھی مروی نہیں ہے تو اس استثناء کا دعویٰ کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :
ولم یثبت فی اعتبار الکفاء ۃ بالنسب (حدیث۔ فتح الباری 9 ص 133، لاہور)
ترجمہ : کفو میں نسب کا اعتبار کرنے کے سلسلہ میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔
بلکہ اس کے برعکس بہ کثرت احادیث سے یہ ثابت ہے کہ کفو کی برتری پر گھمنڈ نہ کیا جائے اور کسی مسلمان کو کفو کی وجہ سے حقیر نہ گردانا جائے اور کسی مسلمان کے رشتہ کے پیغام کو کفو کی وجہ سے مسترد نہ کیا جائے، اب ہم اعلاء کلمۃ الحق کے لیے ان احادیث کا بیان کرتے ہیں : فنقول وباللّٰہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔
اسلام میں ذات پات کا امتیاز نہ کرنے پر احادیث سے دلائل
امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عن ابی ذر ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال لہ انظر فانک لیس بخیر من احمر ولا اسود الا ان تفضلہ بالتقوی۔ (مسند احمد ج 5 ص 158، طبع قدیم)
ترجمہ : حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیکھو تم کسی گورے یا کالے سے افضل نہیں ہو، البتہ تم اس پر تقویٰ سے فضیلت حاصل کرو گے۔
عن ابی نضرۃ حدثنی من سمع خطبۃ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی وسط ایام التشریق فقال یا ایھا الناس الا ان ربکم واحد الا لافضل لعربی علی اعجمی و لا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا اسود علی احمر الا بالتقوی ابلغت قالوا بلغ رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الحدیث۔ (مسند احمد ج 5 ص 411)
ترجمہ : ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ ایام تشریق کے وسط میں جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سنا، اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے رب ایک ہے، سنو ! کسی عربی کی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ عجمی کی عربی پر کوئی فضیلت ہے، کسی گورے کی کالے پر کوئی فضیلت ہے نہ کسی کالے کی گورے پر کوئی فضیلت ہے، فضیلت صرف تقویٰ کی ہے، کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟ صحابہ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبلیغ کردی ہے۔
ابوبکر احمد بن حسن بیہقی متوفی 458 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عن جابر بن عبداللّٰہ قال خطبنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی وسط ایام التشریق خطبۃ الوداع فقال یا ایھا الناس ان ربکم واحد و انا اباکم واحد الا لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا اسود علی احمر الا بالتقوی ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقاکم الاہل بلغت قالوا بی یا رسول اللہ قال فلیبغ الشاہد الغائب۔(شعب الایمان ج 4 ص 289، الدر المنثورج 7 ص 504)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایام تشریق کے وسط میں خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! تمہارا رب ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے، سنو کسی عربی کی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ عجمی کی عربی پر کوئی فضیلت ہے، کسی گورے کی کالے پر کوئی فضیلت ہے نہ کسی کالے کی گورے پر کوئی فضیلت ہے مگر تقویٰ سے، بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ سنو ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ؟ صحابہ نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : پھر حاضر غائب کو تبلیغ کر دے۔
اس حدیث کو امام بزار کی مکمل سند کے ساتھ بھی حافظ الہیشمی نے بیان کیا ہے۔ (کشف الاستارج 4 ص 435)
امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان اللّٰہ قد اذھب عنکم عیبۃ الجاھلیۃ و فخرھا بالاباء الناس بنو ادم و ادم من تراب مومن تقی و فاجر شقی لینتھین اقوام یفخرون برجال انما ہم فحکم من فحم جہنم او لیکونن اہوں علی اللّٰہ من الجعلان التی ترقع۔
(شعب الایمان ج 4 ص 286)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہء جاہلیت کی عیب جوئی اور باپ دادا پر فخر کرنے (کی خصلت) کو دور کردیا ہے، سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، مومن متقی ہے اور فاجر درشت خو ہے، لوگ (اپنے) آدمیوں پر فخر کرنے سے باز آجائیں، یہ لوگ جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں، ورنہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر ہیں۔
اس حدیث کو امام بیہقی نے متعدد اسانید سے روایت کیا ہے اور امام بزار نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔(کشف الاستارج 3 ص 435)
امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عن ابن عمر قال خطب رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوم فتح مکۃ فقال اما بعد ایھا الناس فان اللّٰہ عزوجل قد اذہب عنکم عیبۃ الجاہلیۃ وتعاظمہا بابائھا فالناس رجلان مومن تقی کریم وفاجر شقی مہین والناس کلہم بنو ادم و خلق اللّٰہ ادم من تراب۔(شعب الایمان ج 4 ص 284)
ترجمہ : حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن خطبہ میں فرمایا : اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہء جاہلیت کی عیب جوئی اور اپنے باپ دادا پر فخر کرنے کو دور کردیا ہے، لوگوں کی دو قسمیں ہیں، مومن، متقی کریم اور فاجر درشت خو ذلیل، سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
نیز امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان اللّٰہ عزوجل یقول یوم القیمۃ امرتکم فضیعتم ما عہدت الیکم فیہ و رفعتم انسابکم فالیوم ارفع نسبی واضیع انسابکم این المتقون این المتقون ان اکرمکم عنداللّٰہ اتاقکم۔ (شعب الایمان ج 4 ص 289)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : میں نے تم کو حکم دیا تھا تم نے مجھ سے کیا عہد ضائع کردیا، تم نے اپنے اپنے نسب بلند کیے آج میں اپنا (پسندیدہ) نسب بلند کروں گا، اور تمہارے نسبوں کو ضائع کر دوں گا، متقی کہاں ہیں ؟ متقی کہاں ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
عن ابی مالک الاشعری ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان فی امتی اربعامن امر الجاہلیۃ لیسوا بتارکین الفخر فی الانساب والطعن فی الانساب والاستسقاء بالنجوم والنیاحۃ علی المیت الحدیث۔
(شعب الایمان ج 4 ص 29)
ترجمہ : حضرت ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں زمانہء جاہلیت کی چار خصلتیں ایسی ہیں جن کو وہ ترک نہیں کرے گی، (اپنے) نسب پر فخر کرنا، (دوسروں کے) نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام بیہقی لکھتے ہیں :
اگر اس حدیث کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث سے معارضہ کیا جائے جس میں آپ نے بنو ہاشم کی فضیلت بیان کی تو اس کے جواب میں علامہ حلیمی نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو ہاشم کی فضیلت سے فخر کا ارادہ نہیں کیا بلکہ آپ نے صرف ان کے مرتبہ اور مقام کو باین کرنے کا ارادہ فرمایا جیسے کوئی شخص کہے : میرا باپ فقیہ ہے اور اس سے اس کی غرض صرف اس کا تعارف کرانا ہو نہ کہ اس کی فقاہت پر فخر کرنا، نیز اس حدیث سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے آباء و اجداد پر جو انعامات کیے آپ نے بہ طور شکر ان کا بیان فرمایا ہو۔ (شعب الایمان ج 4 ص 289)
اسلام اور اچھے اخلاق کی بناء پر رشتہ دینے کا حکم، عام ازیں کہ کفو ہو یا غیر کفو
یہاں تک کہ ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ اسلام میں ذات پات کا امتیاز نہیں ہے اور عہد رسالت میں غیر کفو میں نکاح کرنے کا عام معمول تھا، ہرچند کہ زمانہء جاہلیت کے اثرات کی وجہ سے بعض لوگ اپنے آپ کو نسبی اعتبار سے برتر اور دوسروں کو نسبی اعتبار سے فروتر گردانتے تھے، لیکن جیسے جیسے اسلام کی روشنی پھیل رہی تھی اور ایمان کی اقدار دلوں میں راسخ ہو رہی تھیں، نسب پر فخر کرنے کے جذبات مٹتے جا رہے تھے اور اس کے بجائے زہد وتقویٰ کو معیارِ فضیلت قرار دیا جانے لگا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہی تعلیم تھی کہ نام و نسب پر فخر کرنے کے بجائے اسلام اور تقویٰ کو اہمیت دی جائے اور جب بھی کوئی موزوں رشتہ مل جائے تو حسب و نسب کا لحاظ کیے بغیر اس سے نکاح کردیا جائے۔
امام ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں :
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا خطب الیکم من ترضون دینہ و خلقہ فزوجوہ الا تفعلوا تکن فتنۃ فی الارض و فساد عریض و فی الباب عن ابی حاتم المزنی و عائشۃ۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : 1084، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1967، سنن ترمذی ص 175، طبع کراچی)
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کو ایسا شخص نکاح کا پیغام دے، جس کا دین اور خلق تم کو پسند ہو تو اس سے نکاح کردو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد ہوگا۔ اس باب میں حضرت ابو حاتم مزنی اور حضرت عائشہ (رض) سے بھی احادیث مروی ہیں۔
نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں :
عن ابی حاتم المزنی قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اذا جاء من ترضون دینہ و خلقہ فانکحوہ الا تفعلوا تکن فتنۃ فی الارض و فساد الاتفعلوا تکن فتنۃ فی الارض و فساد قالوا یا رسول اللہ و ان کان فیہ قال اذا جاء کم من ترضون دینہ و خلقہ فانکحوہ ثلاث مرات ہذا حدیث حسن غریب۔
ترجمہ : حضرت ابو حاتم مزنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کو ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کا دین اور خلق تم کو پسند ہو تو اس سے نکاح کردو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد ہوگا، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد ہوگا، صحابہ نے کہا : ہرچند کہ وہ شخص (غریب یا غیر کفو) ہو ؟ آپ نے تین بار فرمایا : جب تم کو ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین اور اخلاق پر تم راضی ہو تو اس سے نکاح کردو، یہ حدیث حسن غریب ہے۔
اس مسئلہ کی زیادہ تحقیق کے لیے ” شرح صحیح مسلم “ ج 6 ص 1023-1105 کا مطالعہ فرمائیں۔
تبیان القرآن – سورۃ نمبر 49 الحجرات آیت نمبر 13