شیخ طریقت سید محفوظ الحق شاہ علیہ الرحمہ کا سانحہ ارتحال
شیخ طریقت سید محفوظ الحق شاہ علیہ الرحمہ کا سانحہ ارتحال
ہمارے شیخ کریم، نائب محدثِ اعظم مولانا محمد عبد الرشید رضوی علیہ الرحمہ کا وصال 6 ستمبر 2002 جمعہ کے دن ہوا تھا۔ دور ہونے کی وجہ سے میں نماز جنازہ میں شرکت سے محروم رہا لیکن مجھے مسلسل یہ تجسس تھا کہ نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی ہو گی۔ اگلے روز چچا جان حاجی گلزار احمد دام ظلہ نے بتایا کہ حضرت علیہ الرحمہ کے دوست سید محفوظ الحق شاہ (بورے والا) نے نمازِ جنازہ پڑھائی تھی۔ بقیۃ السلف، عالم ربانی، برکۃ العصر سید محفوظ الحق شاہ جی سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ آج بروز ہفتہ 4 ستمبر 2021 بمطابق 26 محرم الحرام 1443 کی صبح اس مردِ عظیم کی دار فانی سے دار بقا کوچ کرنے کی خبر ملی۔ حضرت کا انتقال فقط اس خاندان کا نقصان نہیں بلکہ جماعت اہل سنت ایک بڑے رہبر سے محروم ہو گئی ہے اور خصوصاً بورے والا کے علاقے میں ان کا خلا تادیر پورا نہ ہو سکے گا۔
اس خاندان کے ساتھ محبت و مودت کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ ستھرے سید تھے اور ہمارے شیخ کے ساتھ قلبی لگاؤ تھا لیکن یہ تعلق اس وقت مزید مضبوط ہو گیا جب حضرت کے بھتیجے یعنی پیر طریقت سید عبد الخالق شاہ رحمہ اللہ (سید محفوظ الحق شاہ صاحب کے برادر اکبر) کے صاحبزادے سید محمد ضیاء الحق شاہ صاحب ہمارے شریکِ سفر بن گئے ۔ بلا شبہ سید ضیاء الحق شاہ صاحب ہماری ٹیم میں مرکزی کردار کے حامل ہیں۔
گزشتہ برس ایک فون کال کے دوران انہیں عرب تشریف لانے کی دعوت پیش کی، کورونا کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوا لیکن دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرمایا تھا کہ جب بھی حالات نارمل ہوئے تو آپ لوگوں کے پاس آؤں گا۔ حالیہ دنوں میں بھی ہم دل میں یہ تمنا و آرزو جگائے بیٹھے تھے کہ حالات نارمل ہوں گے تو شاہ جی ہمارے یہاں تشریف لائیں گے لیکن قسمت میں دن نامرادی کے لکھے تھے۔ انہیں جب جب ہماری دینی و فلاحی کاموں کی خبر ملتی، وہ دعاؤں سے نوازتے اور ہماری حفاظت و بہتری کے لیے دعا گو رہتے۔ وہ خوشگوار حیرت کا اظہار بھی فرماتے کہ سخت حالات کے باوجود یہ بچے اس مشن پر کاربند ہیں۔
تقوٰی و پرہیز گاری میں وہ یادگار اسلاف تھے۔ شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑوی ، محدث اعظم مولانا سردار احمد لائل پوری اور شیخ ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہم کی صحبت و تربیت کا عملی نمونہ تھے۔ علماء و مشائخ گواہ ہیں کہ ان کے ہاں روز مرہ کی زندگی میں بھی سنتوں کی پابندی تھی۔ امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فکر پر عملاً پابند تھے ۔ چشتی صابری سلسلہ کے شیخ ہونے کے باوجود ان کے ہاں قادری تعلیمات مروج تھیں اور مشائخ چشتیہ کے متعدد متنازعہ معاملات سے خود کو دور رکھتے تھے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ ایک ہی مسجد میں ، استقامت کے ساتھ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ڈٹ کر رہنا کسی کرامت سے کم نہیں۔ ان کے ہاں پیری مریدی علم و عمل، زہد و تقوٰی اور قرآن و سنت پر مبنی زندگی کا نام تھا۔ بورے والا کے لوگ گواہ ہیں کہ شاہ جی نے نماز فجر کے بعد مسلسل درسِ قرآن کی مجالس سے اس علاقے کو برکات سے بھرپور ماحول عطا کیے رکھا۔ اللہ کریم نے انہیں اس قدر جلالت علمی اور اپنی قہاری و غفاری کی صفات کے ساتھ نوازا تھا کہ ملی و ملکی معاملات میں وہ اپنے علاقے کے نمائندہ عالم دین کے طور پر سامنے آتے تھے اور ان کی سامنے سب لوگ دبے لچے نظر آتے تھے۔ آج جب ٹیکنالوجی اپنے عروج پر ہے تو اس دور میں بھی وہ موبائل فون وغیرہ سے دور تھے اور ان کی زندگی میں وہی اسلاف کی سادگی اور قناعت موجود تھی۔
حضرت شاہ جی علیہ الرحمہ خدادا صلاحیات کے مالک تھے۔ میدان خطابت میں نکات بیان کرنا ان کا خاصہ تھا۔ پیچیدہ مسائل ، جزئیات اور عبارات کی توضیح و تشریح کرنا ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ پیچیدہ ابحاث میں عقدہ کشائی شرحِ صدر کے بغیر ممکن نہیں۔ وہ بلند پایہ خطیب اور بہترین واعظ ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست محقق و مصنف بھی تھے۔ مجھے ان کی تصانیف پر غور کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ وہ بلند پایہ صوفی تھے لیکن امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فکر کے داعی تھے اسی لیے انہوں نے تصوف کو شریعت کے تابع ہی سمجھا اور اسی کا پرچار کیا۔ دسویں صدی کے معروف بزرگ امام عبد الوہاب انصاری الشعرانی علیہ الرحمہ کی کتب پر کیا گیا کام بلا شبہ ان کا خاصہ ہے۔ امام شعرانی کی لطائف المنن، طبقات شعرانی اور الیواقیت والجواہر جیسی کتب کا اردو ترجمہ فرمایا۔ شاہ عبد العزیز دہلوی کی تفسیر عزیزی اور شیخ ابراہیم عبید مالکی کی عمدۃ التحقیق فی بشائر ال الصدیق کا ترجمہ بھی حضرت شاہ جی علیہ الرحمہ کی عظیم تصنیفی خدمات میں شامل ہے۔
ہم دعا گو ہوں ، اللہ کریم ان کی امثال پیدا فرمائے، ان کے اہل خانہ ، تلامذہ و متعلقین کو صبر عطا فرمائے اور ان جیسے جری و دلیر سید علماء مزید پیدا فرمائے۔ آمین
افتخار الحسن رضوی
4 ستمبر 2021 بمطابق 26 محرم الحرام 1443