اسلوب

ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ تالیف صحیح سے امام بخاری کا مقصد صرف جمع احادیث نہیں ہے بلکہ تراجم ابواب پر استدلال اور احادیث سے مسائل کا استنباط بھی ان کا مقصود تھا چنانچہ ترجمة الباب کے اثبات کے لیے وہ سب سے پہلے قرآن کریم کی آیت پیش کرتے ہیں پھر کبھی اسی پر اکتفا کر لیتے ہیں اور بعض اوقات آثار صحابه اقوال تابعین ارشادات ائمہ فتوی سے اس کی تائید کرتے ہیں اس کے بعد اس باب کے تحت اپنی پوری سند کے ساتھ حدیث کی روایت کرتے ہیں اور کبھی سند معلق سے حدیث وارد کرتے ہیں اور کبھی بغیر سند کے حدیث ذکر کر دیتے ہیں ۔

امام بخاری کبھی ایک باب کے تحت احادیث کثیرہ روایت کرتے ہیں اور کبھی صرف ایک حدیث ذکر کرتے ہیں کہ یہ اس صورت میں ہے جب انہیں ترجمته الباب کے لیے اپنی شرائط پر احادیث مل جائیں اور بھی ترجمۃ الباب کے تحت کسی حدیث ذکر نہیں کرتے ۔ بلکہ کسی حدیث کے بعینہ الفاظ یا اس کے ہم معنی الفاظ کو عنوان باب بنا کر یہ اشارہ کرتے ہیں کہ اس عنوان کے تحت ان کی شرائط پر حدیث نہیں مل سکی اور عنوان باب کو الفاظ حدیث کے ساتھ تعبیر کر کے یہ اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حدیث فی نفسہ لائق حجت ۔

کبھی امام بخاری ایک حدیث کو متعدد جگہ ذکر کرتے ہیں کہ اس سے ان کا مقصود اس حدیث سے ان متعدد مسائل کا استنباط ہوتا ہے جن سے متعلق ابواب کے تحت وہ اس حدیث کو ذکر کرتے ہیں۔