بچے کی نمازِ جنازہ پڑھے بغیر دفنا دیا

سوال:آج سے پندرہ سال پہلے ہمارے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا جو پندرہ بیس منٹ زندہ رہا اور اس کے بعد فوت ہوگیا تھا تو ہمیں کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کے کان میں اذان نہیں دی تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اس کو گھر کے کسی کونے میں یا پھر قبرستان کے باہر دفن کریں۔ ہم نے لوگوں کے کہنے پر اپنے گھر کی ایک خالی جگہ کے کونے میں بغیر نمازِ جنازہ پڑھے اُسے دفن کر دیا اور اب وہاں پر ہم نے اپنے رہنے کے لیے ایک کمرہ (Room)بنایا ہوا ہے، میری بیوی جب بھی اس کمرے میں سوتی ہے تو وہ بہت ڈرتی ہے اور اس کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کسی نے اس کا سانس بند کر دیا ہو۔ ہمیں اب پتا چلا ہے کہ بچہ ایک سانس بھی لے لے تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا ضروری ہے اور ہم نے اس کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی تو اس کا ہم کیا کفارہ ادا کریں؟ ہمیں اس کا کفارہ بتا دیجیے۔

جواب:بڑا نازک دور آگیا ہے، ہر دوسرا شخص مفتی بنا پھر رہا ہے، ایسے میں ہمیں چاہیے کہ جب بھی کوئی مسئلہ در پیش ہو تو عوام یا بڑے بوڑھوں سے پوچھنے کے بجائے کسی صحیح العقیدہ سُنی عالمِ دین سے پوچھیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو جن لوگوں نے یہ سب بتایا ہو وہ زندہ بھی نہ ہوں اور اگر وہ زندہ ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ فوراً توبہ کریں، اس لیے کہ وہ بچہ زندہ پیدا ہوا تھا اور اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھنی تھی اور اسے غسل و کفن بھی دینا تھا۔ اب چونکہ یہ کام جو فرائض پر مشتمل تھے نہیں کیے گئے اور یہ ایسے فرائض چھوڑے ہیں کہ جن کا کفارہ ادا نہیں کیا جاتا بلکہ توبہ کرنی ہوتی ہے لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں گِڑگڑا کر توبہ کریں اور جہاں اس بچے کو دفن کر کے قبر بنائی ہے اس پر نہ پاؤں رکھنا ہے نہ اس پر سونا ہے نہ بیٹھنا ہے بلکہ کمرے میں اس حصّے کو جس جگہ آپ نے قبر بنائی تھی دوبارہ ایک بالشت اونچا کر دیں کیونکہ ایک بالشت اونچی اونٹ کے کوہان کی طرح قبر بنانا سنت ہے۔ 

اگر اس کمرے میں آپ کو ڈر لگتا ہے تو آپ قبر کے آگے کوئی دیوار کھینچ کر اس کو بالکل پَیک(Pack) کر دیں تاکہ وہ نظر ہی نہ آئے اور نہ ہی آپ کو ڈر لگے۔ اسی طرح بچے کی والدہ اور جن جن لوگوں کو اس کی خبر پہنچی وہ سب فرضِ کفایہ ادا نہ کرنے کے گناہ سے سچی توبہ کریں کیونکہ مسلمان کی نمازِ جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے۔ جن جن کو پتہ چلا ان میں سے کسی ایک نے بھی پڑھ لی اگرچہ عورت نے ہی پڑھ لی ہو، تو سب کی طرف سے یہ فرض ساقط ہوجائے گا۔ ہاں! البتہ اگر بچے کی والدہ اس وقت نفاس والی تھی تو اس پر توبہ نہیں کہ اس پر نمازِ جنازہ فرض نہیں تھی۔ عورت کو حیض و نفاس کی حالت میں نمازِ جنازہ یا کوئی اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ حیض ونفاس کی حالت میں عورت پر کوئی بھی نماز فرض نہیں ہوتی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبْ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی