حافظ ابن حجر عسقلانی کی عبارات میں تعارض اور تضاد

صحیح البخاری: ۳۴۸ تک کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے بھولنے کی یہ چند مثالیں ہیں اور پوری” فتح الباری میں حافظ ابن حجر عسقلانی کے بھولنے کی یہی کیفیت ہے ایک جگہ وہ ایک بات لکھتے ہیں اور دوسری جگہ اس کے بالکل برعکس لکھ دیتے ہیں۔ مثلا ایک تعلیق میں ہے: حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالی عنہ نے دارالبرید میں گوبر پر نماز پڑھی اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کے نزدیک گوبر پاک ہے علامه ابن بطال نے اس حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو موسی نے اس گوبر کے اوپر کپڑا یا مصلی بچھا کر نماز پڑھی ہو، حافظ ابن حجر نے اس جواب کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ اصل کپڑا نہ بچھانا ہے اور سعید بن المسيب سے روایت ہے کہ کپڑا بچھا کر نماز پڑھنا بدعت ہے۔ (فتح الباری ج 1 ص 762-763، دارالمعرفہ بیروت) حافظ ابن حجر کی یہ تقریر اس حدیث کے عنوان کی شرح میں ہے اس کے چار صفحے بعد حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: کپڑا بچھا کر نماز پڑھنے کی اصل صحیحین کی یہ حدیث ہے: حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں چٹائی پر نماز پڑھائی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خمرہ (مصلی ) پر نماز پڑھتے تھے۔ (فتح الباری ج 1 ص 767، دار المعرفہ بیروت 1426ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی کی شرح کی عبارات میں تعارض کی دوسری مثال یہ ہے کہ کتاب الحیض میں باب : ۲۳ عرق الجنب کی شرح میں انہوں نے لکھا: اس باب کا عنوان ہے کہ مسلمان نجس نہیں ہوتا اور جب مسلمان نجس نہیں ہوتا تو اس کا پسینہ نجس نہیں ہے اور اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کافر نجس ہوتا ہے اور اس کا پسینہ نجس ہے۔ (فتح الباری ج 1 ص 806 دار المعرفہ بیروت ) اس کے ایک صفحہ بعد اس باب کی حدیث: 283 کی شرح میں وہ لکھتے ہیں کہ اہل ظاہر (غیر مقلدین ) یہ کہتے ہیں کہ کافر نجس العین ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

إنما المشركون نجس. (التوبہ:۲۸)

مشرکین محض نجس ہیں۔

(ابن حجر لکھتے ہیں) : اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ مشرکین صرف اپنے اعتقاد میں نجس ہیں اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے ابدان نجس ہیں اور جمہور کی دلیل یہ ہے کہ الله تعالی نے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اہل کتاب عورتوں کو پسینہ بھی آتا ہے تو جب مسلمان اپنی اہل کتاب بیوی کے ساتھ لیٹے گا اور اپنا بدن اس کے بدن کے ساتھ مس کرے گا تو اس اہل کتاب عورت کا پسینہ مسلمان مرد کے جسم پر لگے گا اس کے باوجود اہل کتاب عورت پر صرف اسی صورت میں غسل واجب ہوتا ہے جس صورت میں مسلمان عورت پرغسل واجب ہوتا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ زنده آدمی (خواہ کافر ہو یا مومن) نجس العین نہیں ہوتا ہے اور اس میں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے اس باب کے عنوان کی شرح میں لکھا کہ کافر نجس ہے اور اس کا پسینہ نجس ہے اور اس باب کی حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ کافرنجس نہیں ہے اور نہ اس کا پسینہ نجس ہے۔ دیکھئے :فتح الباری ج 1 ص 807 دارالمعرفه بیروت۔