کشف الباری عمافی صحیح البخاری

اس کتاب کی اب تک نوجلدیں چھی ہیں اور یہ ہنوز نامکمل ہے اور اس کے مصنف شیخ سلیم الله خان ابھی بقید حیات ہیں۔ جلد اول میں مقدمہ ہے اور اکابر علماء دیوبند کا تعارف ہے ص 207 سے بدء الوحی کی احادیث کی شرح ہے اس جلد میں باب بدء الوحی کی سات احادیث کی شرح می ۲۰۷سے 555 تک ہے اس کے بعد کتاب الایمان شروع ہے اس جلد میں کل بارہ احادیث کی شرح کی گئی ہے اور بہت زیادہ طول دیا ہے۔ جلد ثانی بھی کتاب الایمان کی شرح میں ہے اس میں حدیث: ۵۸ کی شرح آگئی ہے جلد ثالث کتاب العلم میں ہے اور اس میں حدیث :97 تک کی شرح آگئی ہے پھر انہوں نے کتاب العلم کو نامکمل چھوڑ دیا ہے اس کے بعد جلد رابع کتاب الجهاد والسیر سے شروع کی ہے اور درمیان میں کتاب الوضو کتاب الصلوة، کتاب الزکوتہ کتاب الحج کتاب الصیام اور کتاب البیوع وغیرہ عبادات اور معاملات کے تمام اہم مباحث چھوڑ دیے ہیں اس جلد میں حدیث : ۲۶۳۰ سے حدیث 2777 تک کی شرح ہے کتاب الجهاد والسیر بھی نامکمل ہے جلد خامس میں کتاب المغازی ہے اور درمیان میں کتاب بدء الخلق اور کتاب المناقب کو چھوڑ دیا ہے وہ بھی نامکمل ہے جلد سادس میں کتاب التفسیر ہے جلد سابع فضائل قرآن کتاب النکاح اور کتاب الطلاق میں ہے جلد ثامن النفقات الاطعمة العتيقة الذبائح و الصيد الاضاحی الاشر به المرضی اور الطب میں ہے اور جلد تاسع الطب اللباس اور ادب میں ہے انہوں نے لکھا ہے، اس کے بعد دسویں جلد “کتاب الاستیذان سے شروع ہوگی۔

شیخ سلیم اللہ خان کا ابتدائی چار جلدوں میں اسلوب یہ ہے کہ صحیح بخاری‘ کی سند کے رجال کے تعارف میں “تهذیب الکمال تہذیب الاسماء ، واللغات و دیگر کتب اساءورجال سے انہیں جو کچھ ملا لکھ دیا” شرح ابن بطال فتح الباری اور عمدة القاری سے استفادہ کیا ہے اور ہر بات کا حوالہ دیا ہے ان چار جلدوں میں بہت زیادہ طوالت ہے جس کی وجہ سے حدیث کے اساتذہ اور طلبہ بھی اکتاہٹ کا شکار ہوں گے ۔ عام اردو قارئین کے استفادہ کے لیے اس میں کچھ نہیں ہے زیادہ علمی اصطلاحات کو استعمال کیا گیا ہے زبان سہل اور رواں نہیں ہے۔ ہر جلدتقریبا ۸۰۰ صفحات کی ہے آخری پانچ جلدوں میں انہوں نے اسماء رجال کی ابحاث کولانا چھوڑ دیا ہے اور اعتدال کی راہ اختیار کرلی ہے دیوبندی بریلوی مختلف فیہ مسائل میں ان کا انداز غیر سنجیدہ غیر منصفانہ اور جارحانہ ہے۔