نعمة الباری کی خصوصیات

(1) عام طور پر کتب احادیث کے تراجم اور اردو شروح میں سند حدیث کا ترجمہ نہیں کیا جاتا میں نے “صحیح بخاری ” کی ہر حدیث کی سند کا مکمل ترجمہ کیا ہے۔

(۲) سند کے رجال کا مکمل تعارف پیش کیا ہے۔

(۳) سند حدیث میں جس صحابی کا پہلی بار نام آیا اس کے کوائف اور اس کا سن وفات ذکر کیا ہے۔

(۴) امام بخاری نے حدیث کا جو عنوان ذکر کیا ہے اس کی وضاحت کی ہے اس کا لغوی اور شرعی معنی بیان کیا ہے اور اس عنوان کی عنوان سابق کے ساتھ مناسبت بیان کی ہے۔

(۵) باب کے عنوان کی حدیث کے ساتھ مناسبت بیان کی ہے۔

(6) امام بخاری نے باب کے عنوان میں جو قرآن مجید کی آیات پیش کی ہیں ان کی تفسیر معتمد کتب تفسیر سے باحوالہ بیان کی ہے ۔

(۷) امام بخاری نے جو تعلیقات ذکر کی ہیں ان کی اصل حديث، جلد، صفحہ،یا حدیث نمبر کے اعتبار سے باحوالہ بیان کی ہیں۔

(۸) تعلیقات کی بھی کہیں مفصل اور کہیں بہ قدر ضروت تشریح کی ہے۔

(۹) صحیح بخاری کی ہر حدیث کی مکمل تخریج کی ہے اور تمام احادیث کو باحوالہ بیان کیا ہے۔

(10) صحیح بخاری کی حدیث کی مؤید دیگر احادیث کا باحوالہ بیان کی ہیں ۔

(11) جس جگہ ضروری ہوا وہاں الفاظ حدیث کے اختلاف کو بھی باحوالہ بیان کیا ہے۔

(۱۲) حدیث کی تشریح میں جن احادیث کو ذکر کیا ہے ان کے بھی حوالہ جات ذکر کیے ہیں ۔

(۱۳) استنباط مسائل کے ضمن میں مذاہب ائمہ ان کے دلائل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔

(14) امام ابوحنیفہ کے مذہب تائید میں بہ کثرت دلائل ذکر کیے ہیں ۔

(۱۵) امام ابوحنیفہ کے مذہب پر جہاں علامہ ابن بطال مالکی علامہ ابن قدامہ حنبلی یا حافظ ابن حجر عسقلانی نے اعتراضات کیے ہیں ان کے

مستحکم جوابات دیئے ہیں۔

(16) حافظ بدرالدین عینی اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی شروح کے اختلاف کو ذکر کیا ہے اور حسب ضرورت ان کے درمیان محالمہ کیاہے۔

(17) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات تمام نبیوں پر آپ کی فضیلت اور آپ کے دیگر فضائل اور کمالات بارگاه الوہیت میں آپ کی،وجاہت آپ کی شفاعت آپ کی شفارسانی آپ کے تصرفات اور آپ کے اختیارات کے ثبوت میں احادیث پیش کی ہیں اس کی تائید میں مسلم علماء کی عبارات پیش کی ہیں۔

(۱۸) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے ثبوت میں احادیث کو واضح کیا ہے اور مخالفین کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیئے ہیں ۔

(19) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کی وسعت کو اکابر علماء دیوبند کے حوالہ جات سے ثابت کیا ہے۔

(۲۰) غیر مقلدین کا مسلک جہاں جمہور علماء اسلام سے مختلف ہے وہاں ان کا ٹھوس دلائل سے رد کیا گیا ہے۔

(۲۱) منکرین حدیث کے حدیث پر اعتراضات کے متین جوابات دیئے گئے ہیں۔

(۲۳) عصرحاضر کے مسائل کا قرآن اور سنت سے حل پیش کیا گیا ہے۔

(۲۳) مغرب زدہ لوگوں کے اور مستشرقین کے جو اسلام پر اعتراضات ہیں ان کے شافی جوابات دیئے گئے ہیں۔

(24) خصوصیت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد ازواج کے مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

(۲۵) صحیح بخاری میں علم اصول حدیث کی جو اصطلاحات آئی ہیں مثلا مناولہ اور متابع وغیرہ ان کی آسان عبارت سے وضاحت کی گئی ہے۔

(۲۶) شرح صحیح مسلم میں صحیح بخاری کی جو احاد آ چکی ہیں ان کا شرح صحیح مسلم میں جلد،صفحہ اور حدیث نمبرسے حوالہ دیا ہے اور” شرح صحیح مسلم میں ان کی شرح کے جو عنوانات ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح تبیان القرآن میں جو بحث آچکی ہے اس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

(۲۷) شرح صحیح مسلم میں بعض احادیث کی بہت زیادہ شرح کی گئی ہے اور بعض احادیث کی بالکل شرح نہیں کی گئی میں نے نعمة الباری میں توازن کو قائم رکھا ہے اور مکررات کے علاوہ ہر حدیث کی اعتدال سے شرح کی ہے البتہ جو اعتقاد اور فقہ کے معرکہ آرا و مباحث ہیں وہاں بسط او تفصیل سے کام لیا ہے ہر مکرر حدیث کا ترجمہ کیا ہے۔

(۲۸) اس شرح کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اردو کی دیگر شروح حدیث کی طرح علمی با اصطلاحی لب ولہجہ اختیار نہیں کیا گیا بلک حتی الامکان زبان و بیان کو عام فہم اور آسان رکھا گیا ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ قارئین کے علمی اور عوامی تمام ہی طبقات اس سے نفع اندوز ہوگئیں۔

(۲۹) حافظ ابن حجر عسقلانی “علامہ بدرالدین عینی علامہ ابن بطال اور دیگر مصنفین کی عبارات میں جن احادیث کا ذکر آیا ہے ان احادیث کی بھی مفصل تخریج کر دی گئی ہے۔

حدیث کے مقدمه ،امام بخاری اور صحیح بخاری کے تعارف صحیح بخاری پر تبصرہ صحیح بخاری کی شروحات کے ذکر اور نعمة الباری کی خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالی کی توفیق اور اس کی تائید سے میں صحیح بخاری کی شرح لکھنے کا آغاز کر رہا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں: الہ العالمین ! مجھے اس شرح میں صراط مستقیم پر قائم رکھتا اور وہی بات لکھوانا جو حق اور صواب ہو اور جو باطل اور ناصواب ہو اس کا رد کرنے کی مجھے جرأت اور ہمت عطا فرماتا۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم)

غلام رسول سعیدی غفرلہ

خادم الحدیث دارالعلوم نعیمیہ

بلاگ 15 فیڈرل بی ایریا کراچی ۳۸