أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَفِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ ۞

ترجمہ:

اور ان کے مالوں میں سائلوں اور محروموں کا حق ثابت تھا

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت

الذریت : ١٩ میں فرمایا : اور انکے مالوں میں سائلوں اور محروموں کا حق ثابت تھا۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا اسلوب یہ ہے کہ پہلے ان آیات کا ذکر فرماتا ہے جن میں اللہ کی تعظیم اور اس کی عبادت کا ذکر ہوتا ہے ‘ پھر ان آیات کا ذکر فرماتا ہے جن میں مخلوق پر رحم کرنے اور ان پر شفقت کا ذکر ہوتا ہے ‘ سو اس سے پہلی آیات میں سحر کے وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر تھا اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تمہارے مالوں میں سائلوں اور محروموں کا بھی حق ہے۔

اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں رزق اور مال کی اپنی طرف نسبت فرمائی ہے ‘ جیسے فرمایا :

ومما رزقنہم ینفقون۔ (الشوری : ٣٨) اور جو ہم نے ان کو رزق عطا کیا ہے ‘ اس میں سے بعض کو وہ خرچ کرتے ہیں۔

انفقوا مما رزقکم اللہ لا۔ (یس : ٤٧) تم کو اللہ نے جو رزق عطا کیا ہے اس میں سے بعض کو خرچ کرو۔

اور زیر تفسیر آیت میں مال کی نسبت لوگوں کی طرف کی ہے ‘ اس میں لوگوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کہ اے لوگو ! اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور تنگی اور کمی کا خوف نہ کرو ‘ کیونکہ تمہارے پاس جو مال ہے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے ‘ اگر یہ مال ختم ہوجائے گا یا کم ہوجائے گا تو اللہ تعالیٰ تم کو اور عطا فرمائے گا۔

حضرت اسماء (رض) بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی مشک کے منہ کو بند نہ کرنا ورنہ اللہ سبحانہ ‘ بھی تمہارے اوپر اپنی عطاء کو بند کردے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٣٣)

نیز فرمایا : تم گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تمہیں گن گن کردے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٣٣‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٤٦١‘ عالم الکتب)

حضرت اسماء بن ابی بکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو آپ نے فرمایا : تم اپنی تھیلی کا منہ بند نہ کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے خزانہ کا منہ تم پر بند کردے گا ‘ تم جس قدر خرچ کرسکتی ہو خرچ کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٣٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٣٤‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٧٥٣١)

زکوۃ اور صدقات کی تعریفات

مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اس آیت سے یہ مراد ہے کہ تمہاری زکوۃ اور تمہارے صدقات میں سائلوں اور محروموں کا بھی حق ہے اور زکوۃ کا شرعی معنی یہ ہے کہ جو شخص صاحب نصاب ہو اور اس کے پاس اس کی ضروریات سے زائد بہ قدر نصاب یا اس سے زائد مال ہو اور اس مال پر ایک سال گزرجائے تو وہ اس مال کا چالیسواں حصہ کسی ایسے شخص کو دے جو خود صاحب نصاب نہ ہو اور ہاشمی بھی نہہو۔ اسی طرح جس کے پاس چالیس بکریاں ہوں وہ ایک سو انیس بکریوں تک ایک بکری زکوۃ میں دے گا اور جس کے پاس ٠ ٣ سے ٣٩ گائے ہوں وہ ایک سالہ بچھڑی زکوۃ میں دے گا ‘ اسی طرح جانوروں کا بھی نصاب ہے ‘ تاہم یہ نصاب ٢ ہجری میں مدینہ منورہ میں مقرر کیا گیا ہے اور تفصیل سے زکوۃ مدینہ منورہ میں فرض ہوئی ہے ‘ لیکن اجمالی طور پر زکوۃ مکہ مکرمہ میں بھی فرض تھی کیونکہ سورة مزمل مکہ میں نازل ہوئی اور وہ ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور اس میں بھی زکوۃ ادا کرنے کا حکم ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

واقیموالصلوۃ واتوا الزکوۃ واقرضوا اللہ قرضا حسنا ط۔ (المزمل : ٢٠) اور نماز پڑھتے رہو اور زکوۃ ادا کرتے ہو اور اللہ کو اچھا قرض دو ۔

اور زیر تفسیر سورت الذریت بھی مکی سورت ہے ‘ اس لیے الذریت : ١٩ میں بھی ان کے مالوں میں زکوۃ سے مراد زکوۃ کی وہ تفصیلات نہیں ہیں جو ہجرت کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائیں ہیں بلکہ اس سے مراد مطلقاً صدقات اور خیرات ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔

سائل اور محروم کی تعبیرات

اس آیت میں سائل اور محروم کا ذکر فرمایا ہے ‘ سائل اور محروم کی حسب ذیل تعبیریں بیان کی گئیں ہیں :

(١) سائل سے مراد ہے : سوال کرنے والا اور بولنے والا ‘ یعنی ناطق اور انسان اور محروم سے مراد ہے : غیر ناطق جان دار ‘ کیونکہ انسان اپنے مال سے جانوروں پر خرچ کرے تو اس پر بھی اس کو اجر ملتا ہے ‘ حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص ایک راستہ میں جارہا تھا اسکو بہت زور کی پیاس لگی ‘ اس نے ایک کنواں دیکھا تو وہ اس میں اتر گیا ‘ اس نے اس کنویں سے پانی پیا اور پھر کنویں سے باہر آگیا ‘ اس نے ایک کتے کو ہانپتے ہوئے دیکھا وہ پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا ‘ اس شخص نے دل میں سوچا : اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگی ہوئی ہے جس طرح مجھے پیاس لگی ہوئی تھی ‘ وہ پھر کنویں میں اترا اور اس نے اپنے چمڑے کے موزے میں پانی بھر لیا پھر کتے کو پانی پلایا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ نیکی قبول فرما لی اور اس کو بخش دیا ‘ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیا ہم کو ان جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے کا اجر ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : ہر تر جگر والے کے ساتھ نیکی کرنے کا اجر ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٤٦٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٤٤‘ سنن ابودائود : ٢٥٥٠ )

اور جب جانوروں کے ساتھ نیکی کرنے کا بھی اجر ملتا ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ متقین کے مالوں میں سوال کرنے والے انسانوں کا بھی حق ہے اور جو ضرورت مند جانور سوال نہیں کرسکتے ‘ ان کا بھی ان متقین کے مالوں میں حق ہے اور قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں بھی جانوروں پر اپنا مال خرچ کرنے کی دلیل ہے :

کلوا وارعوا انعامکم ط۔ (طہ : ٥٤) تم خود بھی کھائو اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو۔

(٢) دوسری تعبیر یہ ہے کہ سائل سے مراد ہے : وہ ضرورت مند جو اپنی ضرورت کا سوال کرتا ہے اور محروم سے مراد ہے : وہ ضرورت مند جو اپنی ضرورت کا سوال نہیں کرتا اور سوال نہ کرنے کی وجہ سے اس کے حال سے ناواقف لوگ اس کو غنی اور خوشحال سمجھتے ہیں اس کا ذکر قرآن مجید میں ہے :

للفقرآء الذین احصروا فی سبیل اللہ لا یستطیعون ضربا فی الارض یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف ج تعرفھم بسیمھم ج لا یسئلون الناس الحافا ط وما تنفقوا من خیر فان اللہ بہ علیم۔ (البقرہ : ٢٧٣) صدقات کے مستحق صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے ہیں ‘ وہ زمین میں سفر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ‘ ان کے حال سے ناواقف لوگ ان کے سوال نہ کرنے کی وجہ سے ان کو مال دار گمان کرتے ہیں ‘ تم ان کے چہرے کو دیکھ کر قیاس سے) انکے فقر کو پہچان سکتے ہو ‘ وہ لوگوں سے گڑ گڑا کر سوال نہیں کرتے ‘ تم جس قدر مال خرچ کرو گے تو اللہ اس کو جاننے الا ہے۔

سو محروم سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس اور خود داری کو قائم رکھنے کے لیے سوال نہیں کرتے۔ اسی طرح اس آیت میں فرمایا ہے :

فکلوا منھا و اطعموا القانع والمعتر ط (الحج : ٣٦) (قربانی کے گوشت سے) تم خود بھی کھائو ‘ اور اس مسکین کو بھی کھلائو جو سوال نہیں کرتا اور اس مسکین کو بھی کھلائو جو سوال کرتا ہے۔

یعنی محروم اور سائل دونوں کو کھلائو۔

(٣) زیر تفسیر آیت میں ہی اشارہ ہے کہ متقین بہت زیادہ عطا کرتے ہیں ‘ جو سوال کرتے ہیں ان کو بھی عطا کرتے ہیں اور جو سوال نہیں کرتے ان کو بھی عطا کرتے ہیں۔

اور اس آیت میں سائل کو محروم پر مقدم فرمایا ہے کیونکہ سائل کی ضرورت کا تو اس کے سوال سے پتا چل جاتا ہے اور جو سوال نہیں کرتا اس کی ضرورت کا قیاس اور قیافہ سے پتا چلتا ہے یا کسی کے بتانے سے ‘ اس لیے اس کی ضرور مخفی ہے ‘ اور سائل کی ضرورت ظاہر ہے اور ظاہر خفی پر مقدم ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سائل سے مراد اس کو زکوۃ ادا کرنا وہ اور محروم سے مراد اس کو صدقات ادا کرنے ہوں اور زکوۃ صدقات پر مقدم ہے اس لیے پہلے سائل کا ذکر فرمایا اور پھر محروم کا ذکر فرمایا۔

نیز اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگر کوئی شخص سائل اور محروم کو عطا کرتا ہے تو وہ ان پر کوئی احسان نہیں کرتا ‘ بلکہ اس کے مال میں ان کا حق تھا جو ان حق داروں کو ادا کررہا ہے ‘ اور اگر ان کا حق ان کو ادا نہیں کرے گا تو وہ ظالم اور گناہ گار ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ جس کو اس کی ضرورت سے زیادہ کوئی چیز دیتا ہے تو وہ زیادتی دوسروں کے حقوق کی وجہ سے ہوتی ہے ‘ گائے ‘ بکری اور اونٹنی کا دودھ لوگ پیتے ہیں اس لیے ان میں ان کی ضرورت سے زیادہ دودھ رکھا ہے اور حرام جانوروں کا دودھ کوئی انسان نہیں پیتا ‘ اس لیے ان میں اتنا ہی دودھ رکھا ہے جو ان کے بچوں کی ضرورت کے لیے کافی ہو۔

اسلام میں سوال کرنے کی شرعی حیثیت

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سائل کے حق کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس کے علاوہ حسب ذیل آیات میں بھی سائلین کا ذکر فرمایا ہے :

والذین فی اموالہم حق معلوم۔ للسآ ئل والمحروم۔ (المعارج : ٢٥۔ ٢٤) اور جن کے مالوں میں مقرر حصہ ہے۔ سوال کرنے والوں کے لیے اور سوال سے رکنے والوں کے لیے۔

واما السآ ئل فلا تنھر۔ (الضحی : ١٠) اور رہا تو آپ اس کو مت جھڑکیں۔

واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتمی و المسکین وابن السبیل والسآ ئلین۔ (القرہ : ١٧٧) اور جو شخص مال سے محبت کے باوجود ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں اور سوال کرنے والوں کو مال عطا کرے۔

لیکن ان تمام آیات میں مال عطاکر نے والوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ سوال کرنے والوں کو مال عطاکریں یا مال عطا کرنے والوں کو یہ ترغیب دی ہے اور مال عطا کرنے والوں کی تحسین فرمائی ہے اور ضرورت مندوں کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ اپنی ضرورت کے لیے لوگوں سے سوال کریں بلکہ ان لوگوں کی تحسین فرمائی ہے جو ضرورت کے باوجود لوگوں سے سوال نہیں کرتے بلکہ سوال کرنے سے اپنے آپ کو روکے رکھتے ہیں حتیٰ کہ جو شخص ان کیا حوال سے ناواقف ہو وہ ان کے متعلق یہ گمان کرتا ہے وہ غنی اور خوش حال ہیں جیسا کہ البقرہ : ١٧٣ میں گزر چکا ہے اور اس کے علاوہ بہ کثرت احادیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال سے رکنے کی ہدایت دی ہے۔

سوال نہ کرنے کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس سخص نے اپنا مال زیادہ کرنے کے لیے لوگوں سے سوال کیا وہ صرف انگاروں کا سوال کررہا ہے ‘ خواہ سوال کم کرے یا زیادہ کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤١‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٣٨)

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک شخص ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہیں ہوگی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٧٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٥)

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گڑ گڑا کر سوال نہ کرو ‘ اگر تم نے مجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال کیا جس کو میں دینا ناپسند کرتا ہوں ‘ پھر میں تم کو وہ چیز دے دوں تو اس میں برکت نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٨‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٩٣‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ١٦٤٤‘ مسنداحمد ج ٤ ص ٩٨)

حضرت زبیر بن عوام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے ‘ پھر لکڑیوں کا گٹھا اپنی کمر پر لاد کر لائے اور ان لکڑیوں کو فروخت کرے اور اس سے اللہ اس کے چہرے کو سوال سے محفوظ رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور وہ اس کو دیں یا منع کریں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٧١‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٣٦)

حضرت حکیم بن حزام (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے مجھ کو عطا فرمایا ‘ میں نے آپ سے پھر سوال کیا تو آپ نے مجھے پھر عطا فرمایا ‘ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے حکیم ! یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ‘ جو اس مال کو سخاوت نفس (استغنائ) سے لے گا تو اس میں برکت دی جائے گی اور جو شخص اپنے آپ کو گراکر اس مال کو لے گا تو اس میں برکت نہیں دی جائے گی اور وہ اس شخص کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے ‘ حضرت حکیم بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے کہا : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ! اب میں آپ کے بعد کسی کے مال کو کم نہیں کروں گا حتیٰ کہ میں دنیا سے چلا جائوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٧٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٥‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٦٣‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٦٠١‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٤٧٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٣٤)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر صدقہ کا ذکر فرما رہے تھے اور سوال سے رکنے کا ‘ آپ نے فرمایا : اوپر والا ہاتھ نیجے والے ہاتھ سے بہتر ہے ‘ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والاہاتھ مانگنے والا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٢٩‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٣‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٤٨‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٣٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٦٧ )

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عطا فرما رہے تھے اور میں آپ سے کہہ رہا تھا کہ جو مجھ سے زیادہ ضرور تمند ہو اسکو عطاکیجئے ‘ آپ نے فرمایا : اس کو لے لو اور اس سے مال دار بنو اور اس کو صدقہ کردو ‘ تمہارے پاس جب مال اس حال میں آئے کہ تم اس کو طلب کرنے والے ہو نہ اس کے لیے اپنے آپ کو گرانے والے ہو تو اس مال کو لے لو اور جو مال اس طرح نہ ہو تو اس کے لیے اپنے آپ کو نہ تھکائو۔

سوال کرنے کے جواز اور عدم جواز کا معیار

حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص کے ذمہ رقم کا کفیل بن گیا تھا ‘ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں نے آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا ‘ آپ نے فرمایا : تم ہمارے پاس ٹھہرو حتیٰ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے پھر ہم تمہیں اس میں سے دینے کا حکم دیں گے ‘ پھر فرمایا : اے قبیصہ ! سوال کرنا صرف تین شخصوں میں سے کسی ایک شخص کے لیے جائز ہے (١) وہ شخص جو کسی شخص کی طرف سے (جائز ادائیگی) کا کفیل ہو ‘ اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے حتی کہ وہ کفالت کی رقم کو حاصل کرلے (٢) جس شخص پر کوئی ناگہانی آفت آجائے ‘ جس کی وجہ سے اس کے سارے مال کا نقصان ہوجائے تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے تاکہ اس کی گزر اوقات کا سبب مہیا ہوجائے (٣) وہ شخص جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین معتبر شخص اس کے فاقہ زدہ ہونے کی گواہی دیں ‘ اے قبیصہ ! ان تین صورتوں کے علاوہ کسی صورت میں بھی سوال کرنا جائز نہیں ہے اور اگر وہ سوال کرکے کھائے گا تو وہ حرام کھائے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٤‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٤٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٨٠‘ سنن داری رقم الحدیث : ١٦٧٨‘ مسند احمد ج ٣ ص ٤٧٧)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے پاس اتنی رقم نہ ہو جس سے وہ ایک دن کی خوراک حاصل کرسکے یا اس کے گھر میں اتنا اثاثہنہ ہو جس کو فروخت کر کے وہ ایک دن کی خوراک حاصل کرسکے اور اس پر ایک دن فاقہ کا گزر جائے ‘ اس کے لیے اتنی رقم کا سوال کرنا جائز ہے جس سے وہ ایک دن کی خوراک حاصل کرسکے یا اس کے پاس ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑا نہ ہو تو وہ اپنی ستر پوشی کے لیے رقم کا سوال کرسکتا ہے ‘ باقی اس حدیث میں جو ارشاد ہے کہ اس کی قوم کے تین معتبر آدمی اس کے فاقہ زدہ ہونے کی گواہی دیں ‘ یہ شرط بہ طور استحباب ہے ضروری نہیں ہے یا یہ شرط اس شخص کے لیے ہے جس کا جھوٹا اور بہانہ ساز ہونا لوگوں کے درمیان معروف ہو۔

فقیر وہ شخص ہے جس کے پاس اپنے اور اپنے اہل و عیال کیلیے صرف ایک دن کی خوراک ہو اور وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے کمانے پر قادر ہو ‘ اس کے لیے زکوٰۃ لینا اور اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ‘ لیکن اس کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے اور مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک بھی نہ ہو اور وہ کمانے پر قادر نہ ہو اس کے لیے ایک دن کی خوراک کی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے اور فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ بغیر ضرورت کے سوال کرنا جائز نہیں ہے۔

علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :

اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک ہو یا وہ ایک دن کی خوراک کمانے پر قادر ہو ‘ مثلاً وہ صحت مند اور توانا ہو اور کسی قسم کا کام کرسکتا ہو اور اگر اس کے سوال پر دینے والے کو اس کا علم ہو تو وہ بھی گناہ گار ہوگا کیونکہ وہ ایک حرام کام پر اس کی مدد کررہا ہے اور اگر اس کو کپڑے کی ضرورت ہو تو اس کا سوال کرنا جائز ہے یا وہ شخص جہاد میں مشغول ہونے کی وجہ سے کمانے پر قادر نہ ہو یا علم دین حاصل کرنے کی وجہ سے وہ کمانے پر قادر نہ ہو پھر بھی اس کا سوال کرنا جائز ہے۔

علامہ شامی نے بھی اسی طرح لکھا ہے اور اس کی تائید میں دیگر فقہاء کی عبارات پیش کی ہیں۔ (الدرالمختار ج ٣ ص ٢٧٦‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 19