أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَفِى السَّمَآءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوۡعَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

آسمان میں مخلوق کے رزق کی تفسیر میں

الذریت : ٢٢ میں فرمایا : آسمان میں تمہارا رزق ہے اور وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔

سعید بن جبیر اور ضحاک نے کہا : رزق سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آسمان کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً بارش اور برف وغیرہ ‘ بارش کے پانی سے کھتیاں اگتی ہیں اور بارش کا پانی پی کر مخلوق زندہ رہتی ہے اور برف سے چشمے قائم رہتے ہیں۔

حسن بصری جب بادل کو دیکھتے تو کہتے تھے : اللہ کی قسم ! اس میں تمہارا رزق ہے ‘ لیکن تم اپنے گناہوں کی وجہ سے اس رزق سے محروم کردیئے جاتے ہو۔

ابن کیسان نے کہا : یعنی آسمانکے رب کے ذمہ تمہارا رزق ہے اور اس کی نظیر یہ آیت ہے :

وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔ (ھود : ٦) روئے زمین کے ہر چوپائے (جاندار) کا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔

سفیان ثوری نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : اللہ کے نزدیک آسمان میں تمہارا رزق ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ آسمان میں تمہارے رزق کی تقدیر ہے اور جو بھی تمہارا رزق مقدر ہے وہ ام الکتاب میں لکھا ہوا ہے۔

نیز فرمایا : اور وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ‘ عام ازیں کہ تم سے ثواب اور جنت کا وعدہ کیا گیا ہو یا تم کو قیامت اور دوزخ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 22