وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖؕ-نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُؕ-اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ(۸۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ ہماری دلیل ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر عطا فرمائی ہم جسے چاہیں درجوں بلند کریں بیشک تمہارا رب علم و حکمت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ ہماری مضبوط دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا فرمائی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا رب حکمت والا ،علم والا ہے۔

{ وَ تِلْكَ حُجَّتُنَا: اور یہ ہماری مضبوط دلیل ہے۔} اس رکوع میں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان اور دیگر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظمت کا بیان ہے اور اس سارے بیان کا مقصد سب انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آقا، امامُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تسکین و تعلیم اور تربیت ہے ،جیسا کہ رکوع کے آخر میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کثرت سے تذکرہ کرنا اور محفلوں ، مجلسوں کو اُن کے ذِکرپاک سے آراستہ کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کو نہایت محبوب ہے اور ایمان کی طاقت اور عقیدہ ِ توحید کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کے سامنے سورج، چاند ، ستاروں کے ذریعے اور دیگر جو دلائل بیان فرمائے وہ سب دلائل اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں عطا فرمائے تھے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا سورج، چاند وغیرہا کو رب کہنا معاذاللہ بطورِ شرک نہیں بلکہ قوم کے سامنے بطورِ دلیل تھا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ یہ باتیں تو ہم نے انہیں بطور ِ دلیل کے عطا فرمائی تھیں۔

{ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ: ہم درجات بلند کرتے ہیں۔} ارشاد فرمایا کہ ہم جس کے چاہتے ہیں علم ،عقل ، فہم اور فضیلت کے ساتھ درجات بلند کردیتے ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دنیا میں علم و حکمت اور نبوت کے ساتھ اور آخرت میں قرب و ثواب کے ساتھ درجے بلند فرمائے۔