اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ-قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠(۹۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تو تم انہیں کی راہ چلو تم فرماؤ میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہان کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہی وہ (مقدس) ہستیاں ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔ تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ۔ یہ صرف سارے جہان والوں کے لئے نصیحت ہے۔
{ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ: تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔}جلیلُ القدر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تذکرے کے بعد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ آپ ان کی اِس ہدایت کی اقتدا کریں۔ علمائے دین نے اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت کیا ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے افضل ہیں کیونکہ جو شرف و کمال اور خصوصیات و اوصاف جدا جدا انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عطا فرمائے گئے تھے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے لئے سب کو جمع فرمادیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حکم دیا ’’ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ‘‘ تو جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَتمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اوصافِ کمالیہ کے جامع ہیں تو بے شک سب سے افضل ہوئے ۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۳۴)
{ ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ: سارے جہان والوں کیلئے نصیحت۔} اس آیت سے ثابت ہوا کہ ہمارے آقا و مولا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمام مخلوق کی طرف مبعوث ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی دعوت تمام مخلوق کو عام ہے اور کل جہان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی اُمت ہے۔ (خازن، الانعام، تحت الآیۃ: ۹۰، ۲ / ۳۵)