《امام اعظم ابو حنیفہؒ کے بارے اصحاب رسولﷺ کے پوتوں کی گواہی جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد بنے》

 

امام ابن عبدالبر المالکی اپنی سند صحیح سے روایت لاتے ہیں :

 

¤الامام الْقَاسِم بن معن

 

نَا عبد الوارث بْنُ سُفْيَانَ (ثقہ) نَا قَاسِمُ بْنُ أَصْبَغَ (ثقہ) نَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ (ثقہ) نَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي شيخ (ثقہ)

قَالَ نَا حجر بن عبد الجبار قَالَ قيل للقاسم ابْن معن أَنْت ابْن عبد الله بْنِ مَسْعُودٍ تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنْ غِلْمَانِ أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ مَا جَلَسَ النَّاسُ إِلَى أَحَدٍ أَنْفَعَ مُجَالَسَةً مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَقَالَ لَهُ الْقَاسِمُ تَعَالَ مَعِي إِلَيْهِ فَجَاءَ فَلَمَّا جَلَسَ إِلَيْهِ لَزِمَهُ وَقَالَ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا قَالَ سُلَيْمَانُ وَكَانَ أَبُو حَنِيفَةَ حَلِيمًا ورعا سخيا

 

صحابی رسولؐ وائل بن حجر کے پوتے امام حجر بن عبدالجبار بیان کرتے ہیں : قاسم بن معن (حضرت عبداللہ بن مسعود کے پوتے ) سے کہا گیا : آپ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ، تو آپ اس بات پر کیسے راضی ہو جاتے ہیں ؟ کہ آپ کا شمار امام ابو حنیفہ ؒ کے شاگردوں میں ہو؟ تو انہوں نے فرمایا : لوگ کسی بھی ایسے شخص کے ساتھ نہیں بیٹھتے ہونگے ، جس کی محفل امام ابو حنیفہ سے زیادہ نفع بخش ہو ، پھر امام قاسم بن معن نے اس شخص سے فرمایا : تم میرے ساتھ انکے پاس چلنا ۔ وہ شخص گیا اور امام ابو حنیفہ کے پاس بیٹھا تو پھر انہی کے ساتھ رہنے لگا ، اور اس نے کہا : میں نے ان (ابو حنیفہؒ) جیسا کوئی نہیں دیکھا ،

 

¤امام حجر بن عبد الجبار

وَذَكَرَ الدُّولابِيُّ أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمَّادٍ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الدُّولابِيُّ (ثقہ) ني أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ نَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْخٍ (ثقہ)

قَالَ ني حَجَرُ بْنُ عبد الجبار الْحَضْرَمِيُّ قَالَ مَا رَأَى النَّاسُ أَحَدًا أَكْرَمَ مُجَالَسَةً مِنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَلا أَشَدَّ إِكْرَامًا لأَصْحَابِهِ مِنْهُ

پھر امام عبدالجبار (حضرت وائل بن حجر کے پوتے) فرماتے ہیں: لوگوں نے امام ابو حنیفہؒ کی محفل سے زیادہ معزز محفل اور کسی کی نہیں دیکھی ہوگی اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا شخص دیکھا ہوگا جو اپنے شاگردوں کی امام ابو حنیفہ سے زیادہ عزت افزائی کرتا ہو

ْ

[الانقاء، سندہ صحیح]

 

☆اسی لیے امام ابو حنیفہ کو امام اعظم کہا جاتا ہے کہ جو خیر القرون میں واحد مجتہد ہیں ائمہ اربعہ میں سے جو تابعی ہیں اور اصحاب رسولﷺ کی نسلیں بھی ان سے علمی فیض لیتی اور انکی مداح و ثناء کرتی تھیں☆

 

سبحان اللہ

 

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی