قصہ مختصر 😭😭

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم ثناخواں

جناب خالد حسنین خالد رحمت اللہ علیہ

 

خالد حسنین صاحب چکوال سٹی کے رہائشی جبکہ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے ۔

اس وقت انکے والدین میں سے کوئی بھی حیات نہیں ۔

انہوں نے علومِ اسلامیہ کی تحصیل کیلئے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف کی شاخ چک شہزاد ( اسلام آباد ) کا انتخاب کیا اور وہاں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی ۔

نعت خوانی میں بہت نام کمایا بلکہ اپنا لوہا منوایا ، سُر وغیرہ کوسمجھنا اور بات ہے لیکن شعر وسخن کو سمجھنا اور پھر قرآن وسنت کے معیار پر اُسے قائم رکھنا یہ بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ، وہ ہمیشہ کلام کو سمجھ کر پڑھا کرتے ۔

عہدِ موجود میں نعت خوانی کے قدیم انداز کو جن چند شخصیات نے سنبھالا دیا ہے ان میں سے ایک جناب سید زبیب مسعود شاہ صاحب ہیں ، دوسرے خالد حسنین خالدتھے جبکہ چند ایک مزید نام اس فن میں نمایاں نظر آتے ہیں ۔

مادیت کے اس دور میں جہاں بڑے بڑے نعت خواں اور خطیب حضرات دنیاداروں کے تلوے چاٹتے پھرتے ہیں وہاں خالد بھائی نے کسی اور پر بوجھ بننا تو درکنار بلکہ کئی ایسے گھرانے ہیں جنکی کفالت اپنے ذمہ لے رکھی تھی ۔

 

اپنے ہی شہر چکوال میں جامعہ المصطفیٰ کے نام سے ایک دینی ادارہ بھی قائم رکھا ہے جسکے اکثر اخراجات وہ اپنی جیب سے ہی ادا کِیا کرتے ۔

 

انہیں حضرت ضیاء الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمت اللہ علیہ جیسی نابغۂ روزگارشخصیت کے دستِ حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔

ہمارے پاس عرسِ شاہِ لاثانی علیہ الرحمہ دربارِ عالیہ لاثانیہ علی پور سیداں شریف میں بارہا انکی حاضری ہوئی اور کبھی انکی طرف سے ہمیں کوئی تکلیف نہ پہنچی ۔ وہ ہمیشہ محترم سید زبیب مسعود شاہ صاحب کے ہمراہ تشریف لائے اور شاہ جی ہی انکو مدعو کیا کرتے ۔

انہوں نے پسماندگان میں دو صاحبزادیاں اور ایک بیوہ چھوڑی ہیں ،

میرا مالک جلَّ جلالُہ اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسل سے انکے پسماندگان کو صبر ارزانی فرمائے اور خالد بھائی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے ۔

میں اپنے تمام معزز نعت خوان بھائی جو خالد بھائی کے ہم فکر ہونے کے ساتھ ساتھ انکے مخلص بھی ہیں ان تمام سے تعزیت کرتاہوں ۔

انکے چلے جانے سے اس فن میں جو خلاپیدا ہوا ہے مولاتعالیٰ اُسے اپنی رحمت سے پورا فرمائے۔

انکی نمازِ جنازہ کل 19 دسمبر 2021 بروز اتوار ریلوے گراؤنڈ چکوال شہر میں ادا کی جائے گی۔

انکی عمر 43 برس تھی۔

ازقلم: صاحبزادہ پیر سید کرامت علی حسین

سجادہ نشین علی پور سیداں شریف ( نارووال)