أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عِنۡدَ سِدۡرَةِ الۡمُنۡتَهٰى ۞

ترجمہ:

سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک

سدرۃ المنتہیٰ کی تعریف، اس کے متعلق احادیث اور اس کی وجہ تسمیہ میں اقوال

النجم : ١٤ میں فرمایا : سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک۔

” سدرۃ “ بیری کا ایک درخت ہے اور اس کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے اور سدرۃ آسمان اور اس سے اوپر والوں کے درمیان برزخ ہے، نیچے سے جو چیزیں اوپڑ چڑھتی ہیں وہ سدرہ سے اوپر نہیں جا سکتیں، اوپر سے جو چیزیں نیچے اترتی ہیں وہ سدرہ سے نیچے نہیں جاسکتی اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شب معراج جاتے ہوئے سدرہ سے اوپر گئے اور واپسی میں سدرہ سے نیچے بھی آئے، اس سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق کی ایک حد ہے اور تمام مخلوق میں صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے ہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے، آپ جب نیچے سے اوپر گئے تو نیچے والوں کی حد توڑدی اور جب اوپر سے نیچے آئے تو اوپر والوں کی حد توڑدی۔ علامہ بوصیری نے کہا :

فان رسول اللہ لیس لہ حد فیعرب عنہ ناطق بفسم

بے شک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمالات کی کوئی ایسی حد نہیں ہے جس کو کوئی بتانے والا اپنے منہ سے بتا سکے

( الزبدۃ العمدۃ ص ٥٩، جمعیت علماء، سکندریہ، سندھ، خیر پور)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مجھے اوپر کی طرف لے جایا گیا تو وہاں ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ تھی جس پر مقام ہجر کے مٹکوں کے برابر بیر تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے اور اس کے تنے سے دو ظاہری در یا نکل رہے تھے اور دو باطنی، میں نے جبریل سے پوچھا : یہ کیسے دریا ہیں ؟ انہوں نے کہا : وہ باطنی دریا تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری دریا فرات اور دجلہ میں ہیں۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٤، سنن دارقطنی رقم الحدیث : ٢٩ )

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنیسدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کیا گیا تو میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سدرہ کی ایک شاخ کے سائے میں ایک سوار سو سال تک سفر کرتا رہے گا یا ایک سو سوار اس کے سائے میں ہوں گے۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٥٤١ )

علامہ ابو عبد اللہ قرطبی نے کہا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کی وجہ تسمیہ میں نو اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : نیچے کی تمام چیزوں کی انتہاء اس درخت پر ہوتی ہے اور اوپر کی تمام چیزوں کی انتہاء بھی اس درخت پر ہوتی ہے۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : تمام نبیوں کے علوم کی انتہاء سدرہ پر ہوجاتی ہے اور اس کے پار کی چیزوں کا علم ان سے غائب ہے۔

(٣) ضحاک نے کہا کہ اعمال کے اوپر چڑھنے کی انتہاء سدرہ پر ہوتی ہے اور یہاں سے ان کو وصول کرلیا جاتا ہے۔

(٤) کعب نے کہا کہ ملائکہ اور عام انبیاء کی انتہاء سدرہ پر ہے۔

(٥) ربیع بن انس نے کہا کہ ارواح شہدا کی انتہاء سدرہ پر ہے ( اس میں یہ اشکال ہے کہ شہداء کی روحیڈ جنت کی کیا ریوں میں چرتی ہیں اور عرش کی قندیلوں میں لٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔ سعیدی غفرلہٗ )

(٦) قتادہ نے کہا کہ ارواح مؤمنین کی انتہاء سدرہ پر ہے۔

(٧) حضرت علی (رض) نے فرمایا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور آپ کے منہاج کے موافق چلنے والے ہر شخص کی انتہاء سدرہ پر ہے۔

(٨) کعب کا دوسرا قول ہے کہ اس درخت کی بلند شاخوں کی انتہاء حاملین عرش کے سروں کے اوپر ہے اور وہیں مخلوق کے علوم کی انتہاء ہوتی ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ اس درخت کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے۔

(٩) جو سدرہ تک پہنچ گیا وہ اپنے کمالات کی انتہاء تک پہنچ گیا۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٧ ص ٨٩، دارلفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 14