أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا فِىۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّۙ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن بھیجی

عاد پر آندھی کا عذاب بھیجنا

القمر :19-20 میں فرمایا : بیشک ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی آندھی منحسو دن میں بھیجی۔ وہ ان کو اٹھا کر زمین پر اس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔

اس آیت میں ” ربح صرصر “ کے الفاظ ہیں، قتادہ اور ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے : وہ بہت سخت ٹھنڈک والی آندھی تھی : ایک قول یہ ہے کہ وہ آندھی بہت گرج دار آواز کے ساتھ آئی تھی، اس کی تفصیل حمّ السجدۃ :16 میں گزر چکی ہے اور اس آیت میں فرمایا : ” فی یوم نحسن مستمر “ یعنی اس دن جو ان کے حق میں نحوست والا (بےبرکت) ثابت ہوا، یا وہ خود اس دن کو منحوس کہتے تھے۔ حضرت انب عباس (رض) نے فرمایا : ان پر آندھی کا عذاب بدھ کے دن آیا تھا اور وہ اس دن کو منحوس کہتے تھے، وہ اس مہینے کا آخری دن تھا اور اس عذاب سے ان کے چھوٹے اور بڑے سب مرگئے، ” مستمر “ کا معنی ہے : دائم، یعنی ان پر وہ عذاب ان کے ہلاک ہونے تک جاری رہا۔

معین دنوں کے منحوس ہونے یا مبارک ہونے کی تحقیق

بعض روایات میں ہے کہ بدھ کا دن ہمیشہ منحوس ہوتا ہے

مسروق بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ایک قسم اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کردیں اور فرمایا : بدھ کا دن ہمیشہ منحوس رہتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ ابن الجوزی نے کہا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن ابی حیہ ہے، امام دارقطنی نے کہا : یہ متروک ہے۔ (کتاب الموضوعات ج 2 ص 74)

اور برتقدیر تسلیم اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ بدھ کا دن کفار، فساق، فجار اور مفسدین پر منحوس ہوتا ہے، اور مسلمانوں اور نیک لوگوں پر منحوس نہیں ہو تھا، کیونکہ جن ایام میں عاد پر آندھی چل رہی تھی اور ان کو ہلاک کر رہی تھی ان آیا میں حضرت ھود (علیہ السلام) اور دیگر مومنین بھی موجود تھے اور ان کو ان ایام میں آندھی سے کوئی ضرر نہیں ہوا۔

پس واضح ہوا کہ یہ ایام صرف عاد کے حق میں منحوس تھے، انبیاء اور صالحین کے لئے منحوس نہیں تھے۔

نیز دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :

سو ہم نے ان پر تند و تیز آندھی منحوس ایام میں بھیج دی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھا دیں۔ (حمّ السجدۃ :16)

نیز عاد کے متعلق فرمایا :

اور عاد کو خوفناک آواز والی تند و تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا ان پر لگاتار سات راتیں اور آٹھ دنوں تک (اللہ نے) عذاب مسلّط رکھا، سو تم دیکھتے ہو یہ لوگ زمین پر اس طرح گرگئے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ (الحاقۃ :6-7)

ان پر بدھ سے عذاب شروع ہوا اور اگلے بدھ تک جاری رہا اور ہفتہ کے تمام دنوں میں ان پر عذاب جاری رہا اور حمّ السجدۃ :16 میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام دنوں کو منحوس فرمایا : پس صرف بدھ کے دن کو منحوس قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں رہی، کیونکہ ان کے حق میں ہفتہ کے ساتوں دن منحوس (بےبرکت تھے) اور تمام ایام کے منحوس ہونے کا تو کوئی بھی قائل نہیں ہے، پس واضح ہوگیا کہ یہ ایام صرف ان کے حق میں منحوس تھے نہ کہ دنیا کے تمام لوگوں کے لئے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ اتفاق سے کسی شخص کے گھر میں ہر منگل کے دن کوئی نہ کوئی مرجاتا ہے یا کسی شخص کو ہر منگل کے دن تجارت میں نقصان ہوجاتا ہو تو وہ منگل کے دن کو منحوس سمجھتے لگتا ہے، حالانکہ منگل کے دن کا منحوس اور بےبرکت ہونا صرف ان لوگوں کے اعتبار سے ہے نہ کہ ساری دنیا کے لوگوں کے لئے، اسی طرح کسی اور شخص کے گھر میں ہر منگل کے دن ایک بیٹا پیدا ہوتا ہو اور ہر منگل کے دن اس کو تجارت میں غیر معمولی نفع ہوتا ہو تو وہ منگل کے دن کو سعد اور مبارک سمجھتا ہے، حالانکہ اس کا مبارک دن ہونا صرف اس کے اعتبار سے ہے، ساری دنیا کے اعتبار سے نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ کسی دن کا سعد یا نحس ہونا ایک اضافی اور اعتباری چیز ہے اور کسی دن کے متعلق بھی یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ منحوس ہو یا ہمیشہ مبارک ہو۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 19