أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانْـتَصِرۡ ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں، تو میرا بدلہ لے

حضرت نوح (علیہ السلام) کے اپنے آپ کو مغلوب فرمانے کی توجیہ

القمر :10 میں فرمایا : سو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے۔

حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو حسب ذیل وجوہ سے مغلوب فرمایا :

(1) کفار مجھ پر غالب آگئے تو تو ان سے میرا بدلہ لے، یعنی وہ میرے عرصہ دراز کی تبلیغ کے باوجود ایمان نہیں لائے۔

( 2) کوئی نبی (علیہ السلام) اس وقت تک اپنی قوم کے خلاف دعا ضرر نہیں کرتا جب تک اس کو ان کے ایمان لانے کی معمولی سی بھی امید ہو، پھر جب ایک مدت گزر جائے اور وہ ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوجائے تو پھر ان کے خلاف دعا ضرر کرتا ہے اور حضرت نوح ان کے ایمان لانے سے اس لئے مایوس ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا :

آپ ان ظالموں کی مجھ سے سفارش نہ کریں، بیشک یہ غرق کئے جائیں گے۔ (المومنون :27)

پس گویا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یوں دعا کی : اے میرے معبود ! بیشک میرا نفس مجھ پر غالب آگیا اور تو نے مجھے ان کے خلاف دعا کرنے کا حکم دیا ہے سو تو ان کو ہلاک کر دے، یعنی میں اپنی بشریت کے تقاضے سے مغلوب ہوں۔

اور تو میرا بدلہ لے، اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے تیرا کفر کیا ہے اور تیری توحید کا انکار کیا ہے، لہٰذا تو اپنے لئے اور اپنے دین کی برتری کے لئے ان سے بدلہ لے۔

القرآن – سورۃ نمبر 54 القمر آیت نمبر 10