سلف صالحین کا ایک کتاب کو متعدد بار پڑھنا!

 

مطالعہ ایک دفعہ کر لینا اچھی بات ہے لیکن تثبت اور پختگی کے لیے کسی کتاب کا بار بار مطالعہ کرنا علما کا طریقہ رہا ہے.

اور بُہت بار مطالعہ کرنا خواص کا طریقہ رہا ہے.

 

امام نووی رحمہ اللہ نے کتاب الوسیط کا 400 مرتبہ مطالعہ کیا.

 

شیخ المالکیۃ ابوبکر ابھری متوفی 289 ھ

فرماتے ہیں میں نے مختصر ابن عبد الحکم کا 500 مرتبہ، کتاب الاسدیہ کا 70 مرتبہ، موطا امام مالک کا 45 مرتبہ اور مختصر البرقی کا 70 مرتبہ مطالعہ کیا.

 

سید جمال الدین المحدث اپنے استاد سید اصیل الدین سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بخاری شریف کا 120 مرتبہ مطالعہ کیا.

 

حافظ برہان الدین حلبی نے صحیح بخاری کا 60 مرتبہ اور صحیح مسلم کا 20 مرتبہ مطالعہ کیا.

محدث فیروزآبادی نے بخاری شریف کا 50 سے زیادہ مرتبہ مطالعہ کیا.

 

ملتقطا قیمۃ الزمن صفحہ 175 تا 181

 

ہمیں بھی چاہیے ضروری ( عقائد، مسائل،اعمال صالحہ اور احادیث پر مبنی) کتب کا بار بار مطالعہ کریں تاکہ ان پر عمل ہمارا اوڑھنا بچھونا بن جائے…

 

اگر کوئی کسی غیر مخلقہ نومولود محقق کو مجدد مان کر سلف صالحین کو مامے بابے جیسے الفاظ سے یاد کرنے کا شوقین ہو تو مذکورہ تعداد مرتبہ اپنے محققین کے گریبان میں جھانکے تاکہ ان کی اوقات اور اصلیت جان کر سلف صالحین کی بے ادبی سے محفوظ رہ سکے.

 

نیز ہمارے وہ طلبہ جو چار لفظ پڑھ کر اکابر پر تبصرے کرتے نہیں تھکتے ان کو بھی اپنے حال پر رحم کھانا چاہیے..

 

خاص کر فیس بک کے حنفی شافعی کلین شیوی عربی عبارت گھسٹ گھسٹ کر پڑھنے والے محدثین جو آجکل سلف صالحین پر تبرہ کرنے کو عبادت سمجھے بیٹھے ہیں ان کو اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیے.

 

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

13/4/2022