توہین رسالت کا پس منظر

جب آفتاب رسالت طلوع ہوا تو اس کے نور سے جزیرہ نمائے عرب منور ہونے لگا۔ ابتداء میں تو قریش مکہ نے اس پیغام حق کو اتنی اہمیت نہ دی ۔ لیکن جب قریش مکہ کے شرفاء اس پیغام حق کے دامن میں پناہ لینے لگے تو انہیں اپنی سیاسی، معاشرتی، سماجی، معاشی اور مذہبی برتری و سیادت خطرے میں دکھائی دینے لگی ۔ انہوں نے ہر ممکن ترغیب و ترہیب سے کام لیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبلیغ حق سے باز رکھا جا سکے ۔ کہیں مال و دولت کی پیشکش کی ، کبھی پورے عرب کی بادشاہت کا لالچ دیا اور کبھی قریش کی حسین ترین عورتوں سے نکاح کی ترغیب دی لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تبلیغ حق سے روکنے میں بری طرح ناکام رہے۔ اس پیغام حق کی حقانیت ان پر روز روشن کی طرح عیاں تھی لیکن اپنی برتری کے خمار میں مبتلاء اسے ماننے سے انکاری تھے۔ رات کے اندھیروں میں چھپ چھپ کر کلام الٰہی سننے کے لیے آتے اور دن کے اجالوں میں اس کی تکذیب کر دیتے۔

جب انہیں ہر طرح سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ اتو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زات اقدس کو اپنے رکیک حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساحر و مجنون کہا گیا ، کبھی آپ کو کاہن اور کبھی شاعر قرار دیا گیا لیکن رب تعالیٰ نے قریش کے ان الزامات کی بھرپور انداز میں سختی کے ساتھ تردید کی ۔ قریش کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس توہین و تنقیص کا مقصد لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے متنفر کرنا اور انہیں قبول حق سے روکنا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اسلام کے دامن میں پناہ لینے سے روکنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔

یونہی جب اسلام جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکل کر دنیا کے کونے کونے تک جا پہنچا تو عالمی سطح پر برتری کے خمار میں مبتلاء اقوام کو اپنی سیادت خطرے میں نظر آ نے لگی ۔ ان کا ردعمل بھی قریش مکہ کے رد عمل سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا ۔ پہلے پہل انہوں نے عسکری محاذ پر قسمت آزمائی کی لیکن بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اپنے لوگوں کو دامن اسلام میں پناہ لینے سے روکنے کے لیے انہوں نے پیغمبر اسلام کی ذات اقدس کو مشکوک بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا ۔ اس سلسلے میں ہر ممکن الزامات و اتہامات سے کام لیا ۔ عالم عیسائیت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین و تنقیص کے لیے باقاعدہ اور منظم طور پر تحاریک وجود میں آئیں جن کے بانیان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیوں کو باعث ثواب سمجھتے تھے ۔ ہر دور میں دشمنان اسلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کو مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا

اس سب کی بنیادی وجہ اس پیغام حق کی حقانیت کے سامنے عاجز آ جانا تھا ۔ اور اس پیغام حق کی آفاقیت، عالمگیریت، فلاح انسانی پر مشتمل قوانین و احکامات کی صورت میں انہیں اپنی سیادت و برتری خطرے میں دکھائی دینے لگی تھی ۔ اپنی بقاء کے خطرے کے پیش نظر ان کے پاس یہ آخری ہتھیار بچا تھا جس سے وہ اپنی برتری کو قائم رکھنے میں کسی حد تک کامیاب رہ سکتے تھے اور اس ہتھیار کو ان لوگوں نے ہر دور میں جی بھر کر استعمال کیا ۔ جہاں ان لوگوں نے گستاخی کو بطور ہتھیار استعمال کیا وہیں ہر دور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس پر قربان ہو جانے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی ۔ شمع رسالت کے ان پروانوں نے ہر دور کے شاتمین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ اور اپنے عمل سے دنیا کو بتا دیا کہ غیرت مسلم ابھی زندہ ہے ۔

 

محمد إسحٰق قریشی ألسلطاني

Sirat al Mustaqeem - توہین رسالت کی جرات کیوں؟ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم  کا ارشاد ِگرامی ہے ”لا یوٴ من احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والنا  س