حضرت ام حرامؓ کیا حضور اکرمﷺ کی نامحرم تھیں؟
صحابیہ رسولﷺ حضرت ام حرامؓ کیا حضور اکرمﷺ کی نامحرم تھیں؟
تحقیق: ازقلم اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
معلوم نہیں تھا کہ اس ماہ رمضان کے مبارک مہینے میں بھی لوگ اپنے نفس کے ڈسے اتنے زہریلے ہو چکے ہیں کہ اس برکتوں والے رمضان میں بھی یہاں صحابہ کرامؓ و اہل بیت ؓ کرام کے مقابلے کروائے جا رہے ہیں اور لوگوں نے اپنی زندگی کا بنیادی مقصدہی اس مسلہ کو بنا لیا ہے اور دن رات انکا لکھنا پڑھنا ، اور سوچنا فقط ایک موضوع ہے۔ اور یاد رہے جب انسان کسی ایک ہی مسلہ ، یا کیفیت میں زیادہ وقت تک رہے تو ضرور زہنی مفلوج ہو جاتا ہے اور وہ اسی کیفیت کو حقیقی چیز سمجھنے لگتا ہے اور باقی تمام چیزیں اسکے لیے ثانوی ہو جاتی ہیں تو وہ ہر موضوع ، ہر بحث میں مسلہ مذکورہ سے پیچھے ہٹنے کے لیے راضی نہیں ہوتا ہے۔
اور ایسا حال ان لوگوں کا بھی ہے جو اصحاب رسولﷺ پر طعن کو محبت اہلبیت کا معیار بناتے ہیں اور یہ اپنے اس قبیح فعل میں ان تمام حدود کو بھی پار کرنے میں نہیں ڈرتے کے کہیں اللہ ایمان نہ ثلب کرلے یا کہیں ان دونوں مبارک ہستوں کی گستاخی کے سبب ایمان ضایع ہونے کا پتہ بھی نہ لگے اور موت کا فرشتہ اچک جائے۔
میں نے تھوڑی تمہید اس لیے باندھی کے روزہ مرہ کی زندگی اور عام لوگوں میں رہنے کے بعد فیسبک پر ایسی لا یعنی ابحاث دیکھنے سے شروع میں گھن آنے لگتی ہے کہ عام لوگوں کا ایمان واقعی ان فیسبکیوں کی با نسبت زیادہ محفوظ ہیں جنکو علم کی الٹیاں لگی رہتی ہیں خیر اللہ سب کو ہدایت دے آمین!
اس مسلہ پر ہم ایک روایت پر مطلع ہوئے جو کچھ ان الفاظ کے ساتھ تھی!
”صحیح بخاری 2924 جناب معاویہ کے جنتی ہونے میں پیش کی جاتی ہے۔
جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔
کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے گھر دوپہر کو کیوں جاتے تھے حالانکہ وہ غیر محرم تھیں اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکال رہیں تھیں اور معاذ الله ثم معاذ الله رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ان کی گود میں سر رکھ کر سو جاتے ہیں۔
اہل علم حضرات اس پر روشنی ڈالیں”
:::: الجواب اسد الطحاوی::::
اب یہاں متعرض کو یہ معلوم نہیں ہو رہا یا اس کا اس طرف دیہان ہی نہیں کہ وہ فضیلت امیر المومنین حضرت معاویہؓ کی فضیلت کی روایت کی نفی کے چکر میں حضور اکرمﷺ پر منسوب ایسا اعتراض جڑ رہا ہے جو کہ ملحدین اور مستشرین مسلمانوں کے خلاف پیش کرکے دو جہانوں کے سردار حضور اکرمﷺ کی شان پر سوالات پیدا کرنے کی جسارت کرتے ہیں ۔ لیکن یہ دور بھی آنا تھا کہ ایسے اعتراضات ہم مسلمانوں سے بھی سننے تھے!
خیر مذکورہ روایت میں اس روایت مشکوک کرنے کے لیے حدیث کے متن پر اعتراض جڑ دیا گیا ہے تاکہ بغیر علت اسناد کے اس روایت کو کسی کا وھم یا کسی کی خطاء ثابت کی جا سکے کیونکہ یہ محال ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک غیر محرم کے گھر جائیں اور موصوف نے دوسری صورت میں قطعی طور پر حضرت ام حرام بنت ملحان کو نا محرم ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔ اب ہم اس پر اللہ و رسولﷺ کے کرم سے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں :
سب سے پہلی بات یہ ہے امام نووی ؒ علیہ رحمہ نے اس مسلہ پر اتفاق لکھا ہے علماء کا کہ یہ حضور پر نورﷺ کی نا محرم تھی لیکن اختلاف اس پر ہے کہ انکا حتمی رشتہ کیا تھا ؟
جیسا کہ وہ فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على أنها كانت محرما له صلى الله عليه وسلم واختلفوا فى كيفية ذلك فقال بن عبد البر وغيره كانت إحدى خالاته من الرضاعة وقال آخرون بل كانت خالة لأبيه أو لجده لأن عبد المطلب كانت أمه من بني النجار
امام نووی فرماتے ہیں :
کہ اس مسلہ پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی محرم تھیں۔ لیکن اختلاف اس امر پر ہے کہ یہ کیفیت یعنی رشتہ کیا تھا ؟ جیسا کہ امام ابن عبد البر علیہ رحمہ نے فرمایا ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی رضاعی خالہ تھیں، اور انکے بعد والے ائمہ نے کہا بلکہ یہ انکے والد کی رضاعی خالہ تھیں یا انکے دادا عبد المطلب انکی والدہ بنی نجار میں سے تھیں۔
[شرح مسلم للنوی ،ج۱۳، ص۵۸]
اور یہی بات محدث و فقیہ امام شارح صحیح البخاری عمدتہ القاری علامہ بد ر الدین عینی علیہ رحمہ نے بھی فرمائی ہے لیکن انہوں نے یہ اضافہ فرمایا ہے کہ امام دیامطی کا امام نووی کے قول پر انکار کرنا نقل کیا اور دیگر ایک قول بھی جیسا کہ وہ شرح میں فرماتے ہیں:
وأنكر الحافظ الدمياطي هذا القول، وذكر أن هذه خؤلة بعيدة لا تثبت حرمة ولا تمنع نكاحا. قال: وفي (الصحيح) أنه، صلى الله عليه وسلم، كان لا يدحل على أحد من النساء إلا على أزواجه إلا على أم سليم، فقيل له في ذلك، قال: أرحمها، قتل أخوها حرام معي، فبين تخصيصها بذلك، فلو كان ثمة علة أخرى لذكرها، لأن تأخير البيان عن وقت الحاجة لا يجوز، وهذه العلة مشتركة بينها وبين أختها أم حرام. قال: وليس في الحديث ما يدل على الخلوة بها، فلعله كان ذلك مع ولد أو خادم أو زوج أو تابع، وأيضا فإن قتل حرام كان يوم بئر معونة في صفر سنة أربع، ونزول الحجاب سنة خمس، فلعل دخوله عليها. كان قبل ذلك، وقال القرطبي: يمكن أن يقال: إنه صلى الله عليه وسلم كان لا تستتر منه النساء لأنه كان معصوما، بخلاف غيره.
امام دمیاطی علیہ رحمہ نے ان (امام نووی)کے اس دعویٰ کا انکار کیا ہے اور کہا کہ یہ بعید قیاس ہے جو محرم ہونے یا نکاح سے روکنے کا ثبوت نہیں دیتا۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ :صحیح حدیث میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے صرف اپنی بیویوں کے علاوہ ،لیکن سوائے امّ سلیم ؓکے پاس جاتے تھے۔ جب انﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوںﷺ نے فرمایا”وہ مجھ پر رحم (خدمت )کرتی تھی، اس کے بھائی کوشہید کر دیا گیا جب وہ میرے ساتھ تھا۔
حافظ عینی مزید امام دیامطی کے حوالے سے کہتے ہیں: لہٰذا، انہوں نے اس بارے میں انﷺ کی خصوصیت بتائی۔ اگر کوئی دوسری وجہ ہوتی تو وہ ضرور بتاتے، کیونکہ ضرورت کے وقت بیان کی تأخیر جائز نہیں ہے، اور یہ وجہ ان کی بہن امّ حرام کی طرح ایک واضح وجہ ہے۔ امام نے مزید کہا کہ : حدیث میں ایسا متن کچھ بھی نہیں ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرے کہ وہﷺ اکیلے ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ شاید ان کے پاس بچہ، نوکر، شوہر یاغلام ہوتے تھے۔ علاوہ ازیں، نا جائز قتل و غارت بئیر معونہ کے دن چار سال کے طور پر ہوا تھا اورپردے کاحکم پانچویں سال میں ہوا تھا، لہٰذامام القرطبی نے اس بارے میں کہا ہے کہ شاید یہ ممکن ہے کہ حضرت پیغمبر ﷺ نے پانچویں سال کے پہلے ان (ام حرام) سے ملاقات کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کے سامنےدوسری عورتوں کا پردہ نہ کرنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حضور اکرمﷺ معصوم تھے اور وہ دوسروں کی طرح نہ تھے
[عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج۱۱، ص۹۹]
یعنی امام دیامطی نے بھی بھی متقدمین ائمہ کا رد فقط قیاس سے ہی کیا ہے اورقرائن کے طور پر دیگر احادیث کو لائے نیز امام قرطبی نے یہ تاویل کی ہے کہ مذکورہ واقعہ پردہ کے حکم سے پہلے کا ہو اور عورتوں کا ان سے پردہ نہ کرنا حضور اکرمﷺ کے معصوم ہونے کی نص کے سبب ہو۔
البتہ انکا قیاس جو بھی ہے کسی بھی امام نے اس سبب مذکورہ روایت کا رد نہیں کیا بلکہ احسن تاویل فرمائی ہے کیونکہ روایت متفق علیہ اور متعدد اسناد کے ساتھ ہے ہم کو نہیں معلوم موصوف کا اس روایت پر متن کے اعتبار سے اعتراض کرنا کس سوچ کا نتیجہ ہے
برحال ان میں سب سے مضبوط موقف یہی ہے کہ حضرت ا م حرام نبی اکرمﷺ کی رضاعی خالہ تھیں اور اسکے کچھ دلائل ہیں
جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ نے صابہ فی تیز الصحابہ میں انکے تعلق سے لکھتے ہیں:
وفي بعض طرقه في البخاري، عن أنس، عن أم حرام بنت ملحان، وكانت خالته- أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال في بيتها فاستيقظ وهو يضحك، وقال: «عرض علي أناس من أمتي يركبون ظهر البحر الأخضر كالملوك على الأسرة»۔۔۔ الخ
اور صحیح بخاری کے بعض نسخاجات یا طرق اسناد میں یہ روایت حضرت انسؓ کے حوالے سے (اس متن) سے مروی ہے کہ انہوں نے ام حرام بنت ملحان سے روایت کیا وہ حضور اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں ۔۔۔۔ الخ
[الإصابة في تمييز الصحابة، ج۸، ص ۳۷۶]
حافط ابن حجر عسقلانی نے بخاری شریف کے بعض طرق کا ذکر کیا ہے جس میں خود حضرت انس بن مالکؓ جنکی یہ خالہ لگتی تھیں انہوں نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ یہ حضور اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں اور امام ابن حجر عسقلانی نے اس بات کا انکار نہیں کیا کیونکہ انکا بعض طرق بخاری کا ذکر کرنے کا مقصد ہی یہی تھا
اس پر مزید دلائل درج ذیل ہیں :
امام ابن اثیر نے اپنی مشہور و معروف تصنیف اسد الغابہ میں جو سند نقل کی ہے اسکا متن میں بھی یہی ہے بقول حضرت انسؓ یہ نبی اکرمﷺ کی (رضاعی) خالہ تھیں۔
أخبرنا أبو ياسر، بإسناده عن عبد الله بن أحمد، حدثني أبي، أخبرنا عبد الصمد، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثني محمد بن يحيى بن حبان، حدثني أنس بن مالك، عن أم حرام بنت ملحان، وكانت خالته، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم۔۔۔الخ
[أسد الغابة في معرفة الصحابة، برقم: ۲۴۲۱]
امام قسطلانی نے جو صحیح بخاری کی شرح فرمائی ہے انہوں نے بھی یہی نقل کیا ہے
(حدّثنا عبد الله بن يوسف) التنيسي قال: (أخبرنا مالك) الإمام (عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة) الأنصاري (أنه سمع أنس بن مالك) -رضي الله عنه- (يقول كان رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يدخل على أم حرام) بالحاء والراء المهملتين المفتوحتين (بنت ملحان) بكسر الميم وسكون اللام بعدها حاء مهملة
”وكانت خالته -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- من الرضاع”
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري برقم:۷۰۰۱]
مزید امام ابن عساکر اس روایت کو بیان کرتے ہیں جن میں یوں الفاط ہیں :
أخبرناه أبو محمد إسماعيل بن أبي القاسم بن أبي بكر أنا عمر بن أحمد بن عمر بن مسرور أنا أبو طاهر بن خزيمة نا أبو العباس الثقفي نا عبد العزيز الدراوردي ح۔۔۔
أخبرناه أبو الفضل محمد بن إسماعيل أنا أبو مضر محلم بن إسماعيل بن مضر الضبي أنا أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد بن الخليل أنا أبو العباس نا قتيبة نا عبد العزيز بن محمد عن عبد الله بن عبد الرحمن عن أنس بن مالك: أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) وضع رأسه في بيت أم ملحان وهي إحدى خالاته۔۔۔الخ
امام ابن عساکر نے مذکورہ روایت کو دو اسناد سے بیان کیا جو ابو عباس ثقفی تک مل جاتی ہیں وہ قتیبہ وہ عبداللہ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضر ت ام ملحان کے گھر آرام کے لیے جاتے جو کہ انکیﷺ خالہ میں سے ایک تھیں ۔۔۔ الخ
[تاريخ دمشق، ج۷۰، ص ۲۱۴]
اور حنفی محدث امام ابی یعلی صاحب مسند وہ اپنے طریق سے بھی اس متن پر مشتمل روایت نقل کرتےہیں:
حدثنا عبد الأعلى، حدثنا بشر بن السري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن معمر بن حزم، عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع رأسه في بيت ابنة ملحان، وهي إحدى خالاته۔۔۔الخ
حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضر ت ام ملحان کے گھر آرام کے لیے جاتے جو کہ انکیﷺ خالہ میں سے ایک تھیں ۔۔۔ الخ
[مسند ابی یعلی برقم:۳۶۷۷،وسندہ صحیح]
اتنے دلائل سے ان ائمہ کا موقف واقعی بہت مضبوط ہے جنکے بارے امام نووی نے ذکر کیا ہے عمومی علماءیعنی ائمہ سلف کا اتفاق ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کی محرم تھیں اور یہ وہ انکی رضاعی خالہ تھیں یہ رشتہ متفقہ نہیں اور جن روایات میں اسکی تصریح ملتی ہے اسکے بعد حافظ ابن عبد البر کا موقف مضبوط نظر آتا ہے اور جمہور ائمہ کرام جن میں محدثین و شارحین ہیں انہوں نے اسی موقف کو ہی اپنایا ہے کیونکہ اس پر روایت کے الفاظ ملتے ہیں
تو اس سے ملحدین کے اعتراض کا جواب بھی مکمل ہوا اور کچھ بیمار زہن لوگوں کا بھی اللہ سب کو ہدایت دے آمین!
دعاگو:اسد الطحاوی
براہ مہربانی میری تمام تحاریر پر میری ویب سائٹ http://www.asadaltahawi.com کا لنک لازمی دیں۔ جس سے مجھے فائدہ ہوگا۔
جزاک اللہ
اسد الطحاوی
محترم آپ اپنی تحاریر میں لنک دے دیا کریں