منہاجیت و رافضیت
صوفیاء برصغیر میں اعتقادی بے زاری ‘ فتنہ اور شر کی اصل بنیاد ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
حقیقت حال : محمد قاسم چشتی بریلوی غفرلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت مولانا مفتی فیض احمد اویسی محدث بہاول پوری نور اللہ مرقدہ نے آج سے تقریبا چالیس سال قبل منہاج القرآن کے سرکردہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ایک فقہی معاملہ پر لاف زنی (دیت المرات) پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ “یہ سنیوں کا مودودی ہے بظاھر سنی بنتا ہے مگر بغل میں چھرا مودودی کا چھپائے پھرتا ہے (فتاویٰ اویسیہ جلد اول )” یہ اس وقت کی بات ہے جب ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو انکی طلاقت لسانی اور جھنگوی دبنگ لہجہ کی بنیاد پر عشق رسول ﷺ کے عناوین پر لاہور و مضافات کے علاقوں میں بہت زیادہ سنا جاتا تھا ۔ اس درویش کی اس فراست انگیز گفتگو کی جانب صوفی حلقوں میں کوئی توجہ نہ دی گئی ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت صوفیائے کرام اور سنیت کے اسٹیج پر طاہر القادری صاحب شعلہ بیانی فرماتے تھے تو کچھ بزرگ اللہ کی خفیہ تدبیر کے بارے میں بات کرتے تھے اور ان خدشات کا اظہار کیا کرتے تھے کہ یہ بندہ جس قدر جری ہے تو اس کے پھسلنے کے مواقع بھی اس قدر شدید ہیں ۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جو شخص فقہ حنفی کے ایک معاملے پر پھسلا۔پھر وہ ایسا پھسلا کہ آج بات مسلک کی بجاۓ مذھب پر آن پہنچی ہے ۔ جو بندہ کہتا اور لکھتا تھا کہ جس زمین پر گستاخ رسول ﷺ زندہ ہو اس زمین کے باسیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے(ملاحظہ کیجئے طاہر القادری کی کتاب تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا پہلا ایڈیشن ) آج اسکی ذاتی اور اسکی تنظیم کی حالت یہ ہے کہ منہاج القرآن کے زیر انتظام مراکز و مساجد میں رافضی دوران ماتم اصحاب رسول پر تبرا کرتے ہیں ۔مخلوط طرز پر محافل کا انعقاد بڑے ہی فخریہ انداز میں کیا جاتا ہے ۔ میلاد النبی ﷺ کے نام پر ڈانس پارٹیاں ہو رہی ہیں ۔عقیدہ توحید کی حریت کو کرسمس ٹری کھا گیا ۔ عورتوں نے جان بوجھ کر منہ کا نقاب اتار پھینکا جس کی ترویج و اشاعت کا سہرا منہاج القرآن و طاہر القادری کی تعلیمات ہیں ۔ نوجوان لڑکیوں کو شیخ المنہاج کے ساتھ آئے دن فوٹو سیشن کرتے دیکھا جاتا ہے ۔ داڑھی جیسی سنّت کا مدلل قتل عام ہو رہا ہے اور اس قبیح و شنیع عمل کی سرپرستی و حوصلہ افزائی منہاج القرآن خود کرتی ہے ۔ اسلامی شعائر دینیہ اور مسلمات امت کے متوازی شاذ ۔مرجوح ۔منکر موقف کو بڑے دھڑلے سے مسلمان معاشرے میں رائج کیا جا رہا ہے ۔مسلک اہل سنت تو رہا ایک طرف اب تو مسلمات اسلام پر بہت بے باکی سے منہاج القرآن اور اس کے ارباب اختیار تیشہ زنی کرتے پاۓ گئے ہیں ۔
بدمذھب کی صحبت جس کو ہمارے اکابر صوفی بزرگان دین نے کم از کم مبتدی کے لیے زہر قاتل اور ایمان کے خطرہ قرار دیا ہے ۔منہاج القرآن اس عمل کو ایک منصوبہ بندی کے تحت سوسائٹی میں رواج دے رہی ہے ۔آج یہ حالات ہیں کہ اکراہ ۔مجبوری کے تحت بدمذھب اور غیر مذہب سے مجالست و ملاقات کے محدود و مشروط جواز کو اہل منہاج نے مطلق بنا دیا ہے ۔ایک ہی اسٹیج پر اللہ ۔رام ۔گرو ۔اوم شانتی اوم ۔اور ہرے کرشنا ہرے رام پکارے جا رہے ہیں ۔ ایک ہی پنڈال میں قرآن ۔گرنتھ ۔ رگ وید ۔ کو پڑھا جا رہا ہے ۔مغرب کو خوش کرنے کی خاطر اقدامی ج ہ ا د کا مطلقا انکار ۔ ج ہ ا د فی القتال پر قدغن۔حریت کو دہشت گردی ۔ تصلب کو تشدد ۔مداہنت کو امن و شانتی ۔وحدت ادیان کو رواداری قرار دیا جا رہا ہے ۔ انہیں معاملات کی وجہ سے آج صوفی سوسائٹیوں اور مسلم معاشرے میں الحاد اور وحدت الادیان جیسے جرثومے پھل پھول رہے ہیں ۔ حب اہل بیت کی آڑ میں مسلمات اہل سنت پر رندا پھیرا جا رہا ہے ۔ حب اہل بیت کے اعتدال پسند نظریات کی جگہ رافضیت کے غلو آمیز بیانیہ کو بڑی کامیابی سے منہاج القرآن کا پلیٹ فارم پروموٹ کر رہا ہے ۔
اور بذریعہ منہاج القرآن یہ سب مفاسد ہمسایہ ملک میں خانقاہ عارفیہ سرسراواں الہ آباد سے بھی صوفیت کی امن پسندی کے نام پر خوب نشر کئے جا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
قافلہ کہاں لٹا ۔۔۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔
مذکورہ بالا قبائع ایک سو سال قبل بھی موجود تھے۔مگر انکا ذکر گلی کوچوں میں ۔بند کمروں میں یا انتہائی نجی محافل میں بھی دبے الفاظ میں ہوتا تھا ۔وجہ یہ کہ راسخ العقیدہ صوفی سنی اکابر دین کی ہیبت ۔انکی امر بلمعروف و نہی عن منکر کا جذبہ ۔بے لاگ و بے رحم احتساب ۔تصلب فی الدین آڑے آ جاتا تھا ۔
بد قسمتی کہئے کہ شامت اعمال ۔ حب جاہ کی چاہت کہیئے یا کہ لا علمی ۔جہالت کہیے کہ پلپلا پن ۔۔۔جن اکابر صوفیاءنے ایک ایک عمل ۔ایک ایک نظریہ کی حفاظت کیلئے دن رات ایک کر دی ۔دنیاوی تعلقات کی پروا کئے بغیر۔کسی کی وجاہت و کروفر کو خاطر میں لاۓ بغیر احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ ادا کیا ۔جان کی پروا کئے بغیر کسی بھی اصولی موقف سے دست بردار نہ ہوۓ۔آج انکی آل اولاد منہاج القرآن کا ظاہری حسن انتظام ۔روپے ۔پیسے کی ریل پیل کثرت مراکز پر عقیدہ عمل ۔اصول ۔تصلب فی الدین کو مال دنیا سمجھ کر بیچتی جا رہی ہے ۔ اور انہی سجادگان ۔صاحبزادگان ۔گدی نشین ۔سادات کرام یہاں تک کہ بعض اہل علم و نام نہاد مذہبی قائدین کے ان افعال قبیحہ کو قرآن و حدیث ۔اثار سلف ۔اعمال اکابر کے بالمقابل دین اسلام کی تعلیمات بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔جن کے باب دادا بے وضو اور بے نمازی کے ساتھ مل کر کھانا کھانے سے پرہیز کیا کرتے تھے وہ آج سود خور کے چرنوں میں خود کو نچھاور کئے ہیں ۔ جن کے دادا پردادا بد مذھب کی شکل دیکھنے کے روادار نہ تھے ۔وہ ہندو سادھوں ۔عیسائی پادریوں کے ساتھ مل کر مندر و چرچ میں شرکیہ افعال میں مشغول ہیں ۔الامان الحفیظ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کیا کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ۔تو سادہ سا جواب یہ کہ ہم
1۔ علمی میدان میں حیات اہل علم میں حضرت مولنا تطہیر احمد رضوی بریلوی ۔مفتی راشد محمود رضوی ۔حضور كنز العلماء ۔ حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ۔جیسے راسخ العقیدہ بزرگوں کی تعلیمات کو عام کریں ۔
فوت شدگان میں اعلی حضرت امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا قادری ۔سے لے کر۔ شیخ الحدیث حضرت عبد الحکیم شرف قادری ۔۔ حضور مفتی اعظم ھند ۔فقیه ھند مفتی شریف الحق امجدی رحمت اللہ اجمعین کی تعلیمات کو نمونہ عمل بنائیں ۔
2۔ صاحبزادگان ۔سجادگان ۔گدی نشین یا سادات کی پیروی کرنے کی بجاۓ محض علم دین ۔تقوی ۔للہیت ۔رسوخ فی العمل سے مستنیر حضرات کو اپنا مرجع ۔مرشد یا منظور نظر بنائیں چاہے لسانی یا قومی سطح وہ کچھ بھی ہو ۔
3۔کتاب کلچر کو عام کریں ۔خصوصی طور پر راسخ العقیدہ صوفی حلقوں کی مساجد میں قرآن و سنت کے ساتھ امام اجری کی الشریعہ ۔ خلال کی السنہ ۔اعلی حضرت کی تمہیدالایمان ۔قاضی عیاض مالکی کی الشفا ۔مولانا محبوب علی خان کی اربعین شدت ۔ابو الفیض قلندر علی سہروردی کی جمال رسول ﷺ اور جمال الہی کے دروس کا انعقاد کروائیں ۔
4۔مدارس میں منتہی طلبا و طالبات کو تین سے چھ ماہ کے دورانیے پر مشتمل اصلاح فکر و اعتقاد کے موضوع پر مباحثہ کریں جس کے اصول اکابر کی جانب سے طے شدہ ہوں ۔
5۔ عوام اہل سنت میں دعوت اسلامی سے وابستگی کا جذبہ مزید پروان چڑھایا جاے ۔
6۔ پیروں ۔سجادہ نشینوں ۔کا ایک نصاب طے کیا جائے ۔
راسخ العقیدہ سنیت (ھند و پاک کے تناظر میں ) جتنی تیز رفتاری سے سکڑ رہی ہے
اگر ہم نے اپنے موجودہ رویوں کو نہ بدلا اور حالات حاضرہ پر نظر نہ ڈالی تو وہ وقت اب دور نہیں جب سنی خانقاہوں پر رافضی مجآور ہوں گے ۔ راسخ العقیدہ مسلمانوں کو تعویذ دینے والے ندوی ہوں گے اور مدارس میں تدریس کرنے والے صرف دیوبندی ہوں گے ۔۔۔۔۔