اجساد اولیاء سے منسوب تبرکات پر تحقیقی جائزہ
اجساد اولیاء سے منسوب تبرکات پر ظہیر امن پوری صاحب کی تحریر کا تحقیقی جائزہ!
قسط اول
ازقلم: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
تمہید!
ہم اس تحریر میں موصوف کی طرف سے فقط ان روایات کا تذکرہ اور موصوف کی تحقیق پیش کرینگے جس میں ہمارے نزدیک موصوف نے کذب بیانی سے کام لیا ہے اور تحقیق کے نام پر اپنے مقلدین حضرات کو دھوکا دیا ہے ۔ موصوف اپنی تحریر کا آغاز ایک جھوٹ سے کیا ہے اور یہ دعویٰ لکھ مارا!
(امن پوری صاحب)
اجساد اولیا سے منسوب اشیا سے تبرک جائز نہیں،بلکہ بدعت ہے،سلف صالحین سے قطعاً اس کا ثبوت نہیں،اس بارے میں بعض الناس کے دلائل کا جائزہ پیش خدمت ہے:
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی)
موصوف نے یہ دعویٰ کیا ”کہ اشیاء سے تبرک جائز نہیں ہے بلکہ بدعت ہے سلف صالحین سے قطعا اسکا ثبوت نہیں ہے ”
جبکہ موصوف نے یہاں مطلق اشیاء سے تبرک کی نفی کرتے ہوئے اس کم علمی کا ثبوت دیا کہ اس بات کا بھی رد کر دیا کہ صحابہ کرامﷺ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد انکی استعمال کردہ اشیاء اور انکے موئے مبارک سے تبرک بھی حاصل کرتے اورشفاء بھی حاصل کرتےتھے ۔
جیسا کہ صحیح مسلم میں روایت موجود ہے!
عن عبداللہ مولی اسماء بنت أبی بکر رضی اللہ عنها أنھا أخرجت إلیّ جبۃ طیالسۃ کسروانیۃ لھا لبنۃ دیباج، وفرجیھا مکفوفین بالدیباج، فقالت : ھذہ کانت عند عائشۃ حتی قُبضتْ، فلما قُبضتْ قبضتھا وکان النبیﷺ یلبسھا، فنحن نغلسلھا للمرضی لنستشفی بھا۔
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے مولی عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر نے کسروانی طیلسان کا جبہ نکالا جس کے گریبان اور چاکوں پر ریشم کا کپڑا لگا ہوا تھا۔ کہنے لگیں : یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا اور نبی کریم ﷺ اس کو پہنتے تھے۔ ہم بیماروں کیلئے اس کو دھوتے اور اس کے ساتھ بیماروں کیلئے شفاء طلب کرتے ہیں
[صحیح مسلم ، برقم:2069]
نیز اس روایت کی شرح کے تحت شارح مسلم امام نووی الشافعی فرماتے ہیں :
هذا الحديث دليل على استحباب التبرك بآثار الصالحين وثيابهم
یہ حدیث دلیل ہے صالحین کی اشیاء اور کپڑوں سے تبرک حاصل کرنے پر
[شرح مسلم للنووی ، ج14و14]
معلوم ہوا اس روایت کے تحت بھی محدثین و مفسرین اور شارحین نےاولیاء اللہ اور صالحین سے تبرک کی عمومی دلیل اخذ کی ہے کیونکہ اگر یہ بدعت و شرک ہوتا تو نبی اکرمﷺ کی اشیاء مبارک کے ساتھ بھی یہ فعل نہ کیا جاتا صحابہ کرام ؓ کی طرف سے !
جیسا کہ امام بخاری علیہ رحمہ اپنی صحیح میں روایت لاتے ہیں :
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا محمد بن عبد الله الأسدي، حدثنا عيسى بن طهمان، قال: أخرج إلينا أنس «نعلين جرداوين لهما قبالان ، فحدثني ثابت البناني بعد، عن أنس أنهما «نعلا النبي صلى الله عليه وسلم
حضرت عیسیٰ بن طھمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو پرانے نعلین مبارک نکال کر دکھائے ان میں سے ایک ایک کے دو تسمے تھے۔ پھر ثابت بُنانی نے اس کے بعد حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ یہ دونوں حضورﷺ کے نعلین مبارک ہیں۔
[صحیح بخاری ، برقم: 3107]
اس روایت کے تحت امام قسطلانی المالکی علیہ رحمہ واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ؛
ومن بعض ما ذكر من فضلها وجرب من نفعها وبركتها، ما ذكره أبو جعفر أحمد بن عبد المجيد، وكان شيخا صالحا قال: حذوت هذا المثال لبعض الطلبة فجاءنى يوما فقال لى رأيت البارحة من بركة هذا النعل عجبا.
أصاب زوجى وجع شديد كاد يهلكها فجعلت النعل على موضع الوجع وقلت: اللهم أرنى بركة صاحب هذا النعل، فشفاها الله للحين.
نعلین پاک کی فضیلت، منفعت اور برکت جو بیان کی گئی ہے، اس میں سے ایک وہ ہے جو صالح شیخ ابو جعفر بن عبدالمجید نے بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے نعلین پاک کا نمونہ اپنے ایک طالب علم کو دیا۔ ایک دن وہ میرے پاس آکر کہنے لگا : کل میں نے نعلین پاک کی عجیب برکت دیکھی۔ میری بیوی شدید درد کی وجہ سے قریب المرگ تھی۔ میں نے نعلین پاک کو درد کی جگہ پر رکھا اور کہا : اے اللہ! مجھے اس نعلین کے مالکﷺ کی کرامت دکھا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور میری بیوی فوراً صحت یاب ہوگئی
[المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، ج2، ص215]
اور بھی بہت سے حوالاجات اصحاب رسوﷺ سے مروی ہیں کہ وہ کیسے نبی اکرمﷺ کی استعمال کردہ اشیاء کو بطور تبرک سنبھال کر رکھتے تھے جن میں نبی اکرمﷺ کے موئے مبارک کا تذکرہ بھی ملتا ہےصحیح بخاری میں ہے کہ اس کو پانی میں ڈبو کر مریضوں کی شفاء کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الغداة جاء خدم المدينة بآنيتهم فيها الماء، فما يؤتى بإناء إلا غمس يده فيها، فربما جاءوه في الغداة الباردة، فيغمس يده فيها
أرسلني أهلي إلى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بقدح من ماء – وقبض إسرائيل ثلاث أصابع من قصة – فيه شعر من شعر النبي صلى الله عليه وسلم، وكان إذا أصاب الإنسان عين أو شيء بعث إليها مخضبه، فاطلعت في الجلجل، فرأيت شعرات حمرا
مجھے میرے گھر والوں نے حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ دے کر بھیجا۔ اسرائیل نے تین انگلیاں پکڑ کر اس پیالے کی طرح بنائیں جس میں نبی اکرمﷺ کا موئے مبارک تھا، اور جب کبھی کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی تکلیف پہنچتی تو وہ حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنہا کے پاس (پانی کا) برتن بھیج دیتا۔ پس میں نے برتن میں جھانک کر دیکھا تو میں نے چند سرخ بال دیکھے
[صحیح بخاری ، برقم: 5896]
یہاں تک موصوف کی اس غلط بیانی کا رد ہو اکہ جو دعویٰ کیا گیا کہ تبر کا مطلقا قطعا ثبوت نہیں سلف سے تو یہ موصوف کا سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے اولیاء اللہ کی قبور سے تبرک کے حوالے سے جس پر موصوف نے سند سند کھیل کر خیانتیں کی ہیں
(ظہری امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 1 :
علامہ سخاوی(831۔902ھ)نے سیدنا حمزہ کے حالات میں لکھا ہے:
وَجُعِلَ عَلٰی قَبْرِہٖ قُبَّۃٌ، فُہُوَ مَزَارٌ وَّیُتَبَرَّکُ بِہٖ ۔
’’سیدنا حمزہ کی قبر پر ایک قبہ بنایا گیا،جو ان کا مزار ہے،اس سے(لوگ) تبرک حاصل کرتے ہیں۔‘‘
(التحفۃ اللطیفۃ في تاریخ المدینۃ الشریفۃ : 307/1)
تبصرہ :
قبروں پر قبے بنانا رافضیوں کی بدعت اور ایجاد ہے۔ظاہر ہے جو قبے بناتے ہیں، ان کا مقصد یہی ہے کہ قبروں سے تبرک اور فیض حاصل کیا جائے۔
مذکورہ نا معلوم رافضیوں اور بدعتیوں کا عمل پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اہل سنت کے ائمہ کا عمل پیش کیا جائے۔اہل سنت والجماعت کے نزدیک قبروں پر قبے بنانا بالاتفاق حرام اور معصیت ہے۔یہ اہل بدعت کی کاررائی ہے، جیسا کہ بعض بدعتیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک قبر پر سبز گنبد بنا دیا،حالانکہ خیر القرون میں ایسا کچھ نہیں تھا۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی)
موصوف نے یہاں یہ کہانی شریف کرا دی کہ گنبد و قبے بنانا تو روافض کا کام تھا اور چونکہ قبروں سے تبرک اور فیض حاصل کیا جاتا ہے اسی مقصد کے لیے یہ بنائے جاتے ہیں تو اب ہم اہلسنت کے ائمہ سے قبر پر قبے بنوانے اور گنبد کی تعریف کی تصریحات پیش کرتا ہو ں
متقدمین سے گنبد کا ثبوت
امام ابن عبد البر (المتوفی 463ھ)
عبد الله بن عبد الحكم
ابن أعين بن الليث مولى عثمان بن عفان رضي الله عنه يكنى أبا محمد روى عن الشافعي وأخذ عنه وكتب كتبه لنفسه ولابنه محمد وكان متحققا بقول مالك وكان صديقا للشافعي وعليه نزل إذ جاء من بغداد إلى مصر وعنده مات الشافعي ودفن في وسط قبور بني عبد الحكم بمصر وبنوا على قبره قبة وتوفي عبد الله بن عبد الحكم في شهر رمضان سنة أربع عشرة ومائتين ومنهم
امام شافعی کے شاگردوں میں عبداللہ بن الحکم تھے پھر انکے بارے مختصر تعارف بیان کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں :
جب امام شافعی بغداد سے مصر تشریف لائے تو انہوں نے ان کے ہاں قیام کیا تھا ، امام شافعی کا انتقال بھی ان کے ہاں ہوا تھا ، انہیں بنو عبدالحکم ی قبر کے درمیان میں دفن کی گیا
، ان لوگوں نے امام شافعی کی قبر پر ایک قبہ بھی بنوایا دیا تھا ، شیخ عبداللہ بن عبدالحکم کا انتقال رمضان کے مہینہ ۲۱۴ھ میں ہوا
[الانتقاء للابن عبد البر ، ص113]
معلوم ہوا امام شافعی کے تلامذہ میں امام ابن عبد الحکم جو امام مالک کے بھی شاگرد تھے انہوں نے امام شافعی کی قبر پر قبہ بنوایا تھا اور یہ ثقہ امام ہیں تو ان پر بھی فتویٰ رافصیت ٹھو ک دیا جائے!!!!
نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قبور پر قبہ و گنبد بنانا متقدمین سے ثابت ہے تو یہ بدعت والی کہانی بھی جھوٹی ثابت ہوئی اور بقول موصوف کے گنبد و قبے بنائے ہی اس لیے جاتے ہیں کہ ان سے تبرک و فیض حاصل ہو تو یہ موقف بھی موصوف کے مطابق متقدمین سے ثابت ہوگیا ۔
آگے چلتے ہیں:
امام نووی رحمتہ اللہ
حضرت محمد ﷺ کے پیارے بیٹے حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے بارے تفصیلی ذکر بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:
ودفن بالبقيع، وقبره مشهور عليه قبة،
وصلى عليه رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وكبر أربع تكبيرات،
هذا قول جمهور العلماء، وهو الصحيح.
اور یہ (ابراہیم رضہ اللہ ) جنت البقیع میں دفن ہیں ، اور انکی قبر مبارکہ مشہور ہے اس پر قبہ (گنبد) بنا ہوا ہے اور نبی کریمﷺ نے ان پر چار تکبیرات پڑھیں اور یہی جمہور کا قول ہے اور یہی صحیح ہے
[تهذيب الأسماء واللغات ،ص ۱۰۳، النووی]
سوال یہ ہے کہ جنت البقیع پر کب رافضیوں کا قبضہ ہوا اور کب یہ چیزیں بنیں ؟ اور امام نووی اس بات کو بطور تحسین بیان کرکے اس بدعت کے کرتکب ہوئے یا نہیں ؟
آگے چلتےہیں :
امام نووی رحمتہ اللہ
حضرت محمد ﷺ کے پیارے بیٹے حضرت ابراہیم بن محمد ﷺ کے بارے تفصیلی ذکر بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:
ودفن بالبقيع، وقبره مشهور عليه قبة،
وصلى عليه رسول الله – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وكبر أربع تكبيرات،
هذا قول جمهور العلماء، وهو الصحيح.
اور یہ (ابراہیم رضہ اللہ ) جنت البقیع میں دفن ہیں ، اور انکی قبر مبارکہ مشہور ہے اس پر قبہ (گنبد) بنا ہوا ہے اور نبی کریمﷺ نے ان پر چار تکبیرات پڑھیں اور یہی جمہور کا قول ہے اور یہی صحیح ہے
[ تهذيب الأسماء واللغات ،ص ۱۰۳، النووی]
امام ابن ابی یعلیؒ مصنف صاحب طبقات حنابلہ
اپنے شیخ ابو جعفر کے تعارف میں لکھتے ہیں :
انکا مکمل نسب :
أَبُو جَعْفَر عبد الخالق بْن عيسى بْن أَحْمَد بن محمد بْنِ عِيسَى بْن أَحْمَد بْن موسى بْن مُحَمَّد بن إبراهيم بْن عَبْدِ اللَّهِ بْن معبد بْن العباس بْن عبد المطلب
پھر تفصیل ذکر کرنے کے بعد مام ابن ابی یعلی فرماتے ہیں :
وتقدم للصلاة عَلَيْهِ أخوه أَبُو الفضل بجامع المدينة وحفر لَهُ بجنب قبر إمامنا أَحْمَد فدفن فِيهِ
وأخذ الناس من تراب قبره الكثير تبركا به.
ان پر انکے بھائی ابو الفضل نے نماز جنازہ پڑھا مدینہ کی مسجد میں
اور ان کے لیے امام احمد بن حنبل کی قبر مبارک کے نزدیک زمین کھودی گئی قبر کے لیے
اور انکی قبر سے بہت سے لوگ مٹی تبرک کے لیے لے جاتے
اسکے بعد آگے امام ابن ابی یعلی فرماتے ہیں :
ولزم الناس قبره ليلا ونهارا مدة طويلة ويقرأون ختمات ويكثرون الدعاء.
اور لوگوں نے اس کی قبر پر دن رات طویل عرصے تک قرآن کے بہت زیادہ ختم کیے اور بہت زیادہ دعا کی (انکی مزار پر)
ولقد بلغني أنه ختم عَلَى قبره فِي مدة شهور ألوف ختمات.
امام ابن ابی یعلی کہتے ہیں اور مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ انکی قبر مبارک پر ایک مہینے میں قرآن کے ہزاروں ختم ہوئے تھے
[طبقات حنابلہ، جلد 2 ص 241 ، امام ابن ابی یعلی ]
امام سمعانی اپنی تصنیف الانساب میں ایک راوی ابو مذاحم کے ترجمہ میں انکا مکمل نسب نقل کرتے ہیں
أبو مزاحم سباع بن النضر بن مسعدة بن بحر بن النضر بن حبيب ابن عبد الله بن قطن بن المنذر بن حذافة بن حبيب بن ثعلبة بن سعد بن قيس بن ثعلبة بن عكابة بن صعب بن على بن بكر بن وائل ابن قاسط، البكري الوذارى،
پھر فرماتے ہیں
كان بنى بها الجامع، وكان من قواد سمرقند وأجلائها وثنائها وأفاضلها ووجوهها ورؤسائها، معروفا بالفضل والديانة والصيانة، له آثار جميلة وأوقاف جليلة على وجوه الخيرات، جالس على بن عبد الله المديني ويحيى بن معين وأخذ عنهما العلم،
کہ انہوں نے جامع (مسجد) تعمیر کرائی ، یہ سمرقند کے قائدین میں سے ایک تھے یہ قابل تعریف ہیں فاضلین میں سے ایک تھے اچھے چہرے والے اور فضل کی معرفت سے موصوف ہیں اور اچھے عادات والے تھے
یہ امام علی بن مدینی اور امام یحییٰ بن معین کی مجلس میں بیٹھتے اور ان سے علم حاصل کیا
پھر انکے تلامذہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
روى عنه أبو عيسى الترمذي ومحمد بن إسحاق الحافظ السمرقندي والحسن بن على بن نصر الطوسي ومحمد بن المنذر الهروي الملقب بشكّر وغيرهم،
رجع أبو مزاحم من العراق سنة ثلاث وثلاثين ومائتين، ومات في جمادى الأولى سنة تسع وستين ومائتين،
ان سے امام ترمذی ، محمد بن اسحاق سمرقندی ، حسن بن علی بن نصر الطوس ی، اور محمد بن منذر الھروی وغیرہ ہم نے روایت کیا ہے
یہ جمادی الاول میں ۱۶۹ھ میں فوت ہوئے
پھر امام سمعانی آخر میں فرماتے ہیں :
قلت: وزرت قبره في قبة بأسفل قرية وذار وصلينا في المسجد بقربة
میں (السمعانی) کہتا ہوں : میں نے ایک گاوں میں انکے قبر کی زیارت کی ہے ایک قبہ( گنبد) کے نیچے اور (مزار) کے قرب میں مسجد میں نماز بھی ادا کی ہے
[الانساب السمعانی ، جلد جلد ۱۳ ، ص ۲۹۵]
امام ذھبی علیہ رحمہ سے ثبوت!
حدیث میں قبہ گنبد عمارت علی قبر یعنی عین قبر پر بنانے کی ممانعت ہے
نہ کہ فوق قبر یعنی قبر کے کے گرد چھت بنانا
جیسا کہ امام حافظ الحدیث و ناقد الرجال الذھبیؒ اپنی تصنیف تاریخ الاسلام میں باب قائم کرتے ہیں
بناء قبة فوق قبر أبي حنيفة
امام ابی حنیفہ کی قبر مبارک کے گرد قبہ یعن گنبد بنانا
پھر اسکے تحت لکھتے ہیں :
وفيها بنى عميد بغداد على قبر أبي حنيفة قبة عظيمة وأنفق عليها الأموال
اور اس سن میں بنی عمید نے بغداد میں امام ابی حنیفہ کی قبر پر اعظیم الشان گنبد تعمیر کرایا اور اس پر کافی پیسہ خرچ کیا
[تاریخ الاسلام ]
حدیث میں جو ممانعت ہے وہ عین قبر پر عمارت بنانا صاحب قبر والے کے لیے
جبکہ زائرین کے لیے گنبد و قبر پر عمارت بنانے پر اہلسنت کا اتفاق ہے کہ لوگ چھاو میں بیٹھ کر قرآن و تلاوت اور دعا کر سکیں
حضرت عباسؓ جو کہ نبی کریمﷺ کے چچا تھے
انکا تفصیلی ترجمہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ومات: سنة اثنتين وثلاثين، فصلى عليه عثمان، ودفن بالبقيع.
وعلى قبره اليوم قبة عظيمة من بناء خلفاء آل العباس
اور انکی وفات ۳۲ہ میں ہوئی ، اور ان پر حضرت عثمانؓ نے نماز جنازہ پڑھی اور انکو جنت البقیع میں دفن کیا گیا
اور انکی قبر مبارک پرآج ایک اعظیم قبہ (گنبد) ہے جو کہ آل عباس کےخاندان کی طرف سے بنایا گیا
[سیر اعلام النبلاء جلد ۲ ، ص ۹۷]
تو موصوف کے لیے اتنے حوالے بطور مثال کافی ہونگے کہ ائمہ اہلسنت کے نزدیک متقدمین سے متاخرین تک قبور اولیاء اللہ پر قبے بنانے اور انکے جوار میں نماز پڑھنے و تبرک حاصل کرنے میں اختلاف نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ظہیر امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 2 :
حافظ ذہبی رحمہ اللہ ایک واقعہ یوں نقل کرتے ہیں:
وَرُوِيَ عَنْ أَبِي بَکْرِ بنِ أَبِي عَلِيٍّ، قَالَ : کَانَ ابْنُ المُقْرِیئِ یَقُوْلُ : کُنْتُ أَنَا وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو الشَّیْخِ بِالْمَدِیْنَۃِ، فَضَاقَ بِنَا الْوَقْتُ، فَوَاصَلْنَا ذٰلِکَ الْیَوْمَ، فَلَمَّا کَانَ وَقْتُ الْعشَائِ حَضَرْتُ الْقَبْرَ، وَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ الْجُوْعُ، فَقَالَ لِيَ الطَّبَرَانِيُّ : اِجْلِسْ، فَإِمَّا أَنْ یَّکُونَ الرِّزْقُ أَوِ الْمَوْتُ، فَقُمْتُ أَنَا وَأَبُو الشَّیْخِ، فَحَضَرَ الْبَابَ عَلَوِيٌّ، فَفَتَحْنَا لَہٗ، فَإِذَا مَعَہٗ غُلاَمَانِ بِقَفَّتَیْنِ، فِیْہِمَا شَيْئٌ کَثِیْرٌ، وَقَالَ : شَکَوْتُمُونِي إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ رَأَیْتُہٗ فِي النَّوْمِ، فَأَمَرَنِي بِحَمْلِ شَيْئٍ إِلَیْکُمْ ۔
’’ابوبکر بن ابو علی بیان کرتے ہیں کہ ابن مقری کہا کرتے تھے:میں،امام طبرانی اور امام ابو الشیخ مدینہ منورہ میں تھے،ہم تنگ دستی کا شکار ہو گئے۔ہم نے وصال(مسلسل روزے رکھنا شروع) کیا۔ عشا کے وقت میں قبر رسول کے پاس آکر میں نے کہا: یارسول اللہ! بھوک؟مجھے امام طبرانی نے کہا:بیٹھ جائو،اب یا تو رزق آئے گا یا پھر موت۔۔۔ میں اور ابوالشیخ نے کھڑے ہوئے اور باب ِعلوی کے پاس آکر ان کے لیے دروازہ کھولا:اچانک دیکھا کہ ان کے ساتھ دو نوجوان تھے،جن کے پاس دو ٹوکرے تھے، جن میں بہت کچھ تھا۔امام طبرانی نے کہا:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تم لوگوں نے مجھ سے شکایت کی۔میں نے آپ کو خواب میں دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہارے لیے کچھ اٹھا لائوں۔‘‘
(تذکرۃ الحفّاظ : 122/3، سیر أعلام النبلاء : 400/16، 401، مصباح الظلام لأبي عبد اللّٰہ محمّد بن موسی بن النعمان (م : 683ھ)، ص : 61)
تبصرہ :
یہ بے سند اور جھوٹا واقعہ ہے۔کسی گمراہ نے محدثین کرام کو شرک میں مبتلا ثابت کرنے کی بے ہودہ اور ناکام کوشش کی ہے۔بے سند اقوال پیش کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ویسے بھی بے سند مذہب کا کوئی اعتبار نہیں۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب: اسد الطحاوی)
ما شاءاللہ موصوف کے ذھنی توازن کا اندازہ اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے ”کسی گمراہ نے محدثین کرام کو شرک میں مبتلا ثابت کرنے کی بے فائدہ کوشش کی ہے ” یعنی اس کوشش کو مکمل تکمیل تک پہنچانے میں امام ذھبی آگے آگے تھے ؟
نیز اس روایت کو امام ابن جوزی نے اپنی تصنیف میں بیان کیا ہے اور جبکہ ان کی کتاب کی سند شائع کردہ کتاب میں حذف ہیں لیکن مجھے ایک نسخہ مل چکا ہے اس پر تفصیل پوسٹ کرونگا مستقبل میں باقی ائمہ نے اس روایت کو امام مقری کی مسند سے بھی بالجزم نقل کیا ہے اس پر میں پہلے بہت تفصیلی کلام لکھ چکا ہوں !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ظہیر امن پوری صاحب)
دلیل نمبر 3 :
امام ابن حبان رحمہ اللہ اپنے حوالے سے بیان کرتے ہیں:ـ
قَدْ زُرْتُہٗ مِرَارًا کَثِیرَۃً، وَمَا حَلَّتْ بِي شِدَّۃٌ فِي وَقْتِ مُقَامِي بِطُوْسٍ، فَزُرْتُ قَبْرَ عَلِيِّ بْنِ مُوسَی الرِّضَا صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلٰی جَدِّہٖ وَعَلِیہِ، وَدَعَوْتُ اللّٰہَ إِزَالَتَہَا عَنِّي؛ إِلَّا اسْتُجِیْبَ لِي، وَزَالَتْ عَنِّي تِلْکَ الشِّدَّۃُ، وَہٰذَا شَيْئٌ جَرَّبْتُہٗ مِرَارًا، فَوَجَدْتُّہٗ کَذٰلِکَ، أَمَاتَنَا اللّٰہُ عَلٰی مَحَبَّۃِ الْمُصْطَفٰی وَأَہْلِ بَیْتِہٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللّٰہ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِم أَجْمَعِینَ ۔
’’طوس نامی مقام پر میں نے علی بن موسیٰ رضا کی قبر کی کئی مرتبہ زیارت کی۔جب بھی مجھے سخت پریشانی کا سامنا ہوا،تو میں نے علی بن موسیٰ رضا کی قبر پر آ کر اللہ تعالیٰ سے اس پریشانی کے خاتمے کی دُعا کی۔اللہ رب العزت نے میری دُعا قبول فرما کر مجھے سخت پریشانی سے نجات دلائی۔اس کا میں نے کئی مرتبہ مشاہدہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام اہل بیت سے محبت پر موت دے۔‘‘
(الثقات : 457/8، ت : 1441)
تبصرہ :
یہ امام ابن حبان رحمہ اللہ کی اجتہادی خطا ہے۔اس سلسلے میں ان کا کوئی سلف نہیں،نہ ہی یہ عمل کتاب و سنت سے مستند ہے،بلکہ خیرالقرون کے مسلمانوں کے خلاف عمل ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661۔728ھ)فرماتے ہیں:
لَیْسَ الدُّعَائُ عِنْدَ الْقُبُورِ بِأَفْضَلَ مِنَ الدُّعَائِ فِي الْمَسَاجِدِ وَغَیْرِہَا مِنَ الْـأَمَاکِنِ، وَلَا قَالَ أَحَدٌ مِّنَ السَّلَفِ وَالْـأَئِمَّۃِ : إِنَّہٗ مُسْتَحَبٌّ أَنْ یَّقْصِدَ الْقُبُورَ لِأَجْلِ الدُّعَائِ عِنْدَہَا؛ لَا قُبُورَ الْـأَنْبِیَائِ وَلَا غَیْرِہِمْ ۔
’’قبروں کے پاس دُعا کرنا مساجد اور دیگر مقامات کی بہ نسبت افضل نہیں۔ اسلافِ اُمت اور ائمہ دین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ دُعا کیلئے انبیائِ کرام اور دیگر قبروں کا قصد مستحب ہے۔‘‘
(مجموع الفتاوی : 180/27)
لہٰذا یہ کہنا کہ اولیا اور صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے اور وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں، قطعاً باطل ہے۔
مشہور اہل حدیث عالم،علامہ محمد بشیر سہسوانی،ہندی رحمہ اللہ (1326-1252ھ) تبرک و توسل کی ممنوع و حرام اور کفر وشرک پر مبنی صورتوں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’آٹھویں قسم یہ ہے کہ آدمی یہ عقیدہ رکھتے ہوئے نیک لوگوں کی قبروں کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا و مناجات کرے کہ وہاں دُعا قبول ہوتی ہے۔
(صیانۃ الإنسان عن وسوسۃ الشیخ دحلان، ص : 212، 213)
تنبیہ :
ابوبکر، محمد بن مؤمل بن حسین بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں:ـ
خَرَجْنَا مَعَ إِمَامِ أَہْلِ الْحَدِیْثِ، أَبِي بَکْرِ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَعَدِیْلِہٖ أَبِي عَلِيٍّ الثَّقْفِيِّ، مَعَ جَمَاعَۃٍ مِّنْ مَّشَائِخِنَا، وَہُمْ إِذْ ذَاکَ مُتَوَافِرُوْنَ، إِلٰی زِیَارَۃِ قَبْرِ عَلِيِّ بْنِ مُوْسَی الرَّضَا بِطُوْسَ، قَالَ : فَرَأَیْتُ مِنْ تَعْظِیْمِہٖ، یَعْنِي ابْنَ خُزَیْمَۃَ، لِتِلْکَ الْبُقْعَۃِ، وَتَوَاضُعِہٖ لَہَا، وَتَضَرُّعِہٖ عِنْدَہَا، مَا تَحَیَّرْنَا ۔
’’ہم امامِ اہل حدیث، ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ کے ساتھ نکلے۔ان کے ہم زلف ابو علی ثقفی اور مشائخ کی ایک بڑی جماعت ان کے ہمراہ تھی۔ہم سارے اکٹھے ہو کر طوس میں علی بن موسیٰ رضا کی قبر کی طرف گئے۔میں نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کو زمین کے اس ٹکڑے کی تعظیم کرتے دیکھا اور اس قبر کے سامنے ان کی عاجزی اور انکساری دیکھ کر ہم حیران رَہ گئے تھے۔‘‘
(تہذیب التہذیب لابن حجر : 388/7، وسندہٗ حسنٌ)
زیارتِ قبور کے وقت آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔اگر قبروں کے احترام کو تعظیم کا نام دیاجائے تو یہ جائز ہے،لیکن دورانِ زیارت قبروں سے تبرک جائز نہیں،نہ ان کے پاس دُعا و مناجات مشروع ہے۔
■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■■
(الجواب : اسد الطحاوی)
واہ یعنی امام ابن حبان خود سلف میں سے نہیں ہیں کہ انکے عمل کو رد اس دلیل سے کیا جا رہا ہے کہ سلف میں اس بات کا ثبوت نہیں ؟ جبکہ سلف سے کافی کچھ اوپر بھی ثابت ہم کر آئے اور آگے مزید موصوف کا پوسٹ مارٹم ہوگا!!!
اسکے بعد موصوف امام ابن حبان کا رد ابن تیمیہ صاحب سے کرتے ہیں جو کہ ایک لطیفہ سے کم نہیں خیر اب ہم ان صاحب اور انکے شیخ ابن تیمیہ کا رد امام ذھبی علیہ رحمہ سے کرینگے کہ کیسے امام ذھبی علیہ بھی ابن تیمیہ کے اس موقف کو خارجیت کے قریب ترین سمجھتے تھے
امام ذھبی علیہ رحمہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف سیر اعلام النبلاء میں بہت سے مقام پر ایسی روایات جن یہ تصریح ہے کہ انبیاء کرامؐ اور اولیاءاللہؓ کی قبور کی زیارت کی جائے اور ان سے توسل و استغاثہ کیا جائے نہ صرف ایسی روایات کو فضائل و مناقب میں قبو ل کیا ،بلکہ ان امور کی ترغیب بھی دی اور ان پر وارد اعتراضات کا رد بھی کیا ہے ہم امام ذھبی علیہ رحمہ کی ایسی چند تصریحات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں
ابن تیمیہ نے سب سے پہلے یہ فتویٰ دیاتھا کہ کسی کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا حرام ہے (معاذاللہ ) جسکے جواب میں اہلسنت کے جید علماء نے ابن تیمیہ کی زندگی میں ہی اسکا شدو مد سے رد کیا اور اہلسنت نے اس مسلے پر کتب لکھیں
ابن تیمیہ نے یہ موقف نبی اکرﷺ کی ایک حدیث کی بنیاد پر کیا جس سے اس نے یہ باطل مطلب نکالا امام ذھبی علیہ رحمہ جب اس روایت کو نقل کرتے ہیں تو اس پر تجزیہ دیےت ہوئے لکھتے ہیں :
عن أبي هريرة:عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: (لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد: مسجدي، والمسجد الحرام، والمسجد الأقصى
حضرت ابوھریرہؓ فرماتے ہیں نبی اکرمﷺ نے فرمایا کہ تم اجر کی نیت سے سفر نہ کرو سوائے تین مساجد کے ، ایک میری مسجد ، ایک مسجد حرام اور مسجد اقصی
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی علیہ رحمہ فرماتے ہیں :
معناه: لا تشد الرحال إلى مسجد ابتغاء الأجر سوى المساجد الثلاثة، فإن لها فضلا خاصا.
فمن قال: لم يدخل في النهي شد الرحل إلى زيارة قبر نبي أو ولي، وقف مع ظاهر النص، وأن الأمر بذلك والنهي خاص بالمساجد.
ومن قال بقياس الأولى، قال: إذا كان أفضل بقاع الأرض مساجدها، والنهي ورد فيها، فما دونها في الفضل – كقبور الأنبياء والصالحين – أولى بالنهي.
أما من سار إلى زيارة قبر فاضل من غير شد رحل، فقربة بالإجماع بلا تردد، سوى ما شذ به الشعبي، ونحوه، فكان بلغهم النهي عن زيارة القبور، وما علموا بأنه نسخ ذلك – والله أعلم –
حدیث کا معنی یہ ہے کہ تم زیادہ اجر کے ارادے کے حوالے سے کسی مسجد کی طرف قصد نہ کرو سوائے ان تین مساجدکے کیونکہ ان تین کی خاص فضیلت ہے
جس نے (اہلسنت) یہ بات کی ہے ”حدیث میں جو نہی آئی ہے اس میں نبی اور ولی کی قبر کی زیارت داخل نہیں ہے اور انہوں نے نص کے ظاہر سے قیاس کیا ہے اس امر میں نہی جو ہے یہ مساجد سے خاص ہے
جس (ابن تیمیہ) نے پہلے قیاس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب زمین کے بہتر حصے مساجد ہیں انکی نفی آگئی تو ان سے کم درجہ والے جو مقام ہے جیسا کہ قبور انبیاء تو انکی نفی بدرجہ اولیٰ ہوگی
رہی یہ بات کوئی کسی فاضل و نیک بندے کی قبر کی زیارت کے لیے جائے بغیر سامان سفر باندھے تو بغیر کسی تردد کے اس امر پر اجماع امت ہے سوائے امام شعبی یا انکے جیسے کچھ کے شاز موقف کے کہ انکو زیارت قبور کی نفی کی روایات پہنچی تھیں لیکن انکی ناسخ نہ پہنچی تھیں واللہ اعلم!
[سیر اعلام النبلاء ، ج9، ص 368]
ایک اور رایت جو سلفیہ بڑی شدو مد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ میری قبر کو عید نہ بناو اس روایت کو نقل کرکے امام ذھبی اسکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
عن حسن بن حسن بن علي:
أنه رأى رجلا وقف على البيت الذي فيه قبر النبي -صلى الله عليه وسلم- يدعو له، ويصلي عليه، فقال للرجل : لا تفعل، فإن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: (لا تتخذوا بيتي عيدا، ولا تجعلوا بيوتكم قبورا، وصلوا علي حيث ما كنتم، فإن صلاتكم تبلغني .
هذا مرسل،
وما استدل حسن في فتواه بطائل من الدلالة، فمن وقف عند الحجرة المقدسة ذليلا، مسلما، مصليا على نبيه، فيا طوبى له، فقد أحسن الزيارة، وأجمل في التذلل والحب، وقد أتى بعبادة زائدة على من صلى عليه في أرضه، أو في صلاته، إذ الزائر له أجر الزيارة، وأجر الصلاة عليه، والمصلي عليه في سائر البلاد له أجر الصلاة فقط، فمن صلى عليه واحدة، صلى الله عليه عشرا، ولكن من زاره – صلوات الله عليه – وأساء أدب الزيارة، أو سجد للقبر، أو فعل ما لا يشرع، فهذا فعل حسنا وسيئا، فيعلم برفق، والله غفور رحيم
حضرت حسن بن حسن بن علی ؓ نے ایک آدمی دیکھا جو اس گھر کے قریب کھڑا تھا تھا جس میں نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک ہے اور ان پر درود بھیج رہاتھا تو اس آدمی کو کہا کہ یہ کام نہ کرو ، کیونکہ نبی اکرمﷺ نے منع فرمایا ہےکہ میرے گھر کو عید گاہ نہ بناو اور اپنے گھر وں کو قبرستان نہ بناو
امام ذھبی علیہ رحمہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنا موقف دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
یہ روایت مرسل ہے ۔ اور جو امام حسن نے استدلال کیا ہے اپنے فتویٰ پر تو وہ اپنے فتویٰ کے اعتبار سے دلالت میں طویل ہے جو حجرت مقدسہ کے قریب کھڑا ہو (ذلیل)بےچارہ بن کر ، اور سلام پڑھتے ہوئے اور دروود بھیجتے ہوئے اپنے نبی اکرمﷺ پر اسکے لیے تو بہت خوشخبری کی بات ہے کہ اس نے احسن طریقے سے زیارت کی ہے عاجزی اور محبت میں بہت خوبصورتی ظاہر کی ہے اور وہ ایک زائد عبادت کے ساتھ آیا ہے جو کہ انکی ہی زمین پر ان پر درود بھیجتا ہے ، اور اپنی نماز میں درود بھیجتا ہے تو اس وقت زیارت کرنے والے کے لیے زیارت کا اجر ہے
بلکہ اس ہر اس شخص کے لیے درود کا اجر ہے جو جہاں سے بھی پڑھتا ہو جو ایک بار درود بھیجے اللہ در دس بار بھیجتا ہے لیکن جو زیارت کرتا ہے بے ادبی سے کرتا ہے یا قبر کو سجدہ کرتا ہے اور ایسا کام کرتا ہے جو شریعت کے تحت نہ ہو ، تو یہ عمل جو (جو اوپر مذکور ہے ) وہ اچھا ہے اور دوسرا (جس میں سجود ہو قبور کو ) وہ برا ہے ۔
پھر امام ذھبی فرماتے ہیں :
.فوالله ما يحصل الانزعاج لمسلم، والصياح وتقبيل الجدران، وكثرة البكاء، إلا وهو محب لله ولرسوله، فحبه المعيار والفارق بين أهل الجنة وأهل النار، فزيارة قبره من أفضل القرب، وشد الرحال إلى قبور الأنبياء والأولياء، لئن سلمنا أنه غير مأذون فيه لعموم قوله – صلوات الله عليه -: (لا تشدوا الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد) فشد الرحال إلى نبينا -صلى الله عليه وسلم- مستلزم لشد الرحل إلى مسجده، وذلك مشروع بلا نزاع، إذ لا وصول إلى حجرته إلا بعد الدخول إلى مسجده، فليبدأ بتحية المسجد، ثم بتحية صاحب المسجد –
رزقنا الله وإياكم ذلك آمين
اللہ کی قسم ایک مسلمان کو کیا گھبراہٹ ہو سکتی ہے اسکے علاوہ دیواروں کو چومنا اور کثرت سے رونا ایسا کام کرنے والا اللہ اور اسکے رسولﷺ سے محبت کرنا والا ہے اسکی محبت جو ہے وہ ایک معیار ہے اہل جنت اور اہل نار کے درمیان فرق کرنے والا ہے تو (نبی اکرمﷺ)کی قبر مبارک کی زیارت کرنا بڑی فضیلت کی بات ہے اللہ کے قرب کے لیے ،
انبیاء واولیاء اللہ کی قبر کی طرف سفر کرنا جو ہےاگر اسکو تسلیم کرے اگرچہ اللہ کے نبی ﷺ کی حدیث میں عموم کی وجہ سے معزور نہیں (یعنی اس پر حکم نہیں دیا گیا ہے) لیکن
اللہ کے رسولﷺ کی قبر کی طرف سفر کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ انکی مسجد کی طرف بھی سفر ہوگا اور یہ بات شرعا جائز ہے بغیر کسی اختلاف کے کہ جب کوئی زریعہ نہ ہو حجرہ میں جانے کے لیے سوائے اس بات انکی مسجد میں داخل ہو جائے اور دو رکعات پڑھے پھر صاحب مسجد پر درود و سلام پڑھے اللہ ہمیں اور آپ کو اس نعمت عظمہ کا مستحق بنائے
(یعنی جو قبر مبارک کی زیارت کی نیت کریگا تو یقینی بات ہے وہ مسجد نبوی کی طرف ہی جائے گا )
اس تمام خوبصورت شرح میں امام ذھبی نے بہت اچھے طریقے اہلسنت کی ترجمانی کرتے ہوئے ابن تیمیہ کا بہترین رد کیا ہے یہاں تک کہ علامہ شعیب الارنووط کو بھی حاشیہ میں یہ بات کہنی پڑ گئی :
قصد المؤلف رحمه الله بهذا الاستطراد الرد على شيخه ابن تيمية الذي يقول بعدم جواز شد الرحل لزيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم ويرى أن على الحاج أن ينوي زيارة المسجد النبوي كما هو مبين في محله.
مولف (امام ذھبی) نے اس اختلاف میں اپنے شیخ ابن تیمیہ کو جواب دینا چاہا ہے ، جسکا یہ قول تھا کہ نبی اکرمﷺ کے روضہ کی نیت سے سفر کرنا ناجائز ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ حاجی کو مسجد نبوی کی نیت کرکے سفر کرنا چاہیے جیسا کہ یہاں نشاندہی کی گئی ہے
[سیر اعلام النباء ، ج4، ص 485]
اس طرح امام ذھبی نے جب امام احمد بن حنبل کا عمل پیش کیا توابن تیمیہ کانام لیے بغیر جو اس پر طنز کیا وہ بھی پڑھنے لائق ہے جیسا کہ امام ذھبی پہلے امام احمد کے بیٹے سے امام احمدکا عمل بیان کرتے ہیں :
قال عبد الله بن أحمد: رأيت أبي يأخذ شعرة من شعر النبي -صلى الله عليه وسلم- فيضعها على فيه يقبلها.
وأحسب أني رأيته يضعها على عينه، ويغمسها في الماء ويشربه يستشفي به.
ورأيته أخذ قصعة النبي -صلى الله عليه وسلم- فغسلها في حب الماء، ثم شرب فيها، ورأيته يشرب من ماء زمزم يستشفي به، ويمسح به يديه ووجهه.
امام عبداللہ بن احمد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کو دیکھا وہ نبی اکرمﷺ کے بال مبارک اپنے پاس رکھتے تھے پھر اسکو بوسہ دیتے تھے پھر اسکو پانی میں ڈبو کر پانی پی لیتے اور اس سے شفاء حاصل کرتے
انکے پاس نبی اکرمﷺ کا کٹورہ تھا اسکو پانی میں غسل دیتے پھر اس میں پانی پیتے پھر انکو یہ کرتے دیکھا کہ ان سے شفاء حاصل کرتے اور مسح کرتے اپنے دونوں ہاتھوں اور منہ سے
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی ابن تیمیہ پر طنزکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
قلت: أين المتنطع المنكر على أحمد، وقد ثبت أن عبد الله سأل أباه عمن يلمس رمانة منبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ويمس الحجرة النبوية، فقال: لا أرى بذلك بأسا.
أعاذنا الله وإياكم من رأي الخوارج ومن البدع.
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہاں ہے مغرور جو امام احمد (کے اس عمل )پر انکار کرتا ہو، اور یہ بات ثابت ہے کہ امام عبداللہ نے اپنے والد سے اس بارے پوچھا کہ جو بندہ نبی اکرمﷺ کے منبر رسولﷺ سے مس کرتا ہے اورتوامام حمد بن حنبل نے کہا میں اس میں کوئی حرج نہیں جانتا
میں اللہ کی پناہ چاہتاہوں خوارج اور بدعت کی رائے سے ۔
[سیر اعلام النبلاء ، ج11،ص212]
امام ذھبی ایک محدث ابن لال أبو بكر أحمد بن علي بن أحمد الهمذاني کی مداح نقل کرتے ہیں :
قال شيرويه: كان ثقة، أوحد زمانه، مفتي البلد، وله مصنفات في علوم الحديث، غير أنه كان مشهورا بالفقه.
قال: ورأيت له كتاب (السنن) ، و (معجم الصحابة) ، ما رأيت أحسن منه، والدعاء عند قبره مستجاب
امام شیرویہ کہتے ہیں کہ یہ اپنے زمانہ کے ثقہ تھے اور علاقے کے مفتی تھے اور انکی تصنیفات ہیں علام میں اور انکے علاوہ کوئی فقہ میں مشہورنہ تھا
پھر کہا کہ میں نے انکی کتاب السنن اور معجم الصحابہ دیکھی ہے اور اس سے بہتر کتب میں نے نہیں دیکھی ہے اور انکی قبر کے نزدیک دعا قبول ہوتی ہے
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی اپنا تجزیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
قلت: والدعاء مستجاب عند قبور الأنبياء والأولياء،
میں ( الذھبی) کہتاہوں کہ انبیاء اور اولیاء اللہ کی قبور کے نزدیک دعا مقبول ہوتی ہے
[سیر اعلام النبلاء، ج۱۷، ص ۷۷]
اور امام معروف کرخی کے ترجمہ میں جب امام ذھبی انکی قبر سے لوگوں کے توسل کا قول نقل کرتےہیں :
وعن إبراهيم الحربي، قال: قبر معروف الترياق المجرب
امام ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : امام معروف کی قبر تریاق زہر ہے (یعنی زہر کو کاٹنے والی ہے )
پھر اسکی تشریح کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :
يريدإجابة دعاء المضطر عنده؛ لأن البقاع المباركة يستجاب عندها الدعاء، كما أن الدعاء في السحر مرجو، ودبر المكتوبات، وفي المساجد، بل دعاء المضطر مجاب في أي مكان اتفق، اللهم إني مضطر إلى العفو، فاعف عني.
انکی مراد ہے (امام معروف کی قبر) پر مجبور و مضطر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے کیونکہ مبارک جگہوں میں دعا قبول ہوتی ہے جیسا کہ مبارک وقت میں قبول ہوتی ، سہری ، فرض نمازوں کے بعد، مساجد میں ، بلکہ مجبور مضطر آدمی کی دعا ہر جگہ قبول ہوتی ہے
[سیر اعلام النبلاء ]
یہاں تک امام ذھبی علیہ رحمہ سے ابن تیمیہ کا ٹھیک ٹھاک رد ثابت ہو چکا ہے
ابن تیمیہ کے نزدیک شرک کا فتویٰ کتنا سستا تھا اور اگر اس طرح ابن تیمیہ کے خارجیت بھرے خیالات کو تسیم کیا جائے تو امت محمدی کے بڑے بڑے اکابر مشرک بنتے ہیں اس بات کا اندازہ ابن تیمیہ کے فتوں سے خوب لگایا جا سکتا ہے
جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ صاحب لکھتے ہیں :
وأما التمسح بالقبر أو الصلاة عنده أو قصده لأجل الدعاء عنده معتقدا أن الدعاء هناك أفضل من الدعاء في غيره أو النذر له ونحو ذلك فليس هذا من دين المسلمين بل هو مما أحدث من البدع القبيحة التي هي من شعب الشرك والله أعلم وأحكم.
قبر کو مس یعنی ہاتھ لگانا (تبرک کرنا) اس کے پاس نماز پڑھنا ، یا دعا مانگنے کے غرض سے اسکی طرف سفر کا قصد کرنا اس نیت سے کہ کہ وہاں عمومی جگہوں کی بانسبت دعا قبول ہوگی ، قبر پر نزر نیاز کا اہتمام کرنا وغیرہ اس جیسے سارے اعمال کا دین سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بری بدعات میں سے ہیں کہ جنکا تعلق شرک کی مختلف اقسام سے ہے
[ مجموع الفتاوى،ج24،ص321]
یعنی موصوف کے نزدیک یہ سب عمال قبیح بدعات کے ساتھ شرک کی اقسام سے ہیں ۔
نیز ایک جگہ لکھتےہیں :
وأما التمسح بالقبر – أي قبر كان – وتقبيله وتمريغ الخد عليه فمنهي عنه باتفاق المسلمين ولو كان ذلك من قبور الأنبياء ولم يفعل هذا أحد من سلف الأمة وأئمتها بل هذا من الشرك
اور قبر کو ہاتھ لگانا (یعنی تبرک لینا) جسکی بھی قبر ہو ، اسکو چومنا اور اس پر گال پھیرنا (تبرکا) یہ متفقہ طور پر مسلمین سے منع ہے ، اگر یہ قبور انبیاء کرام کی بھی ہو ایسا فعل سلف میں کسی ایک سے وارد نہیں اور نہ ہی ائمہ سے بلکہ یہ (سب افعال) شرک میں سے ہیں
[مجموع الفتاوى،ج27،ص92]
یہاں تک یہ ثابت ہو گیا کہ ابن تیمیہ کے نزدیک قبور سے تبرک لینا ، انکو چومنا ، یا نکو مس کرنا ان پر گال پھیرنا شفاء لینا یہ سب امور اسکے نزدیک شرکیہ اعمال ہیں
لیکن چونکہ ہم جمہور ائمہ سلف سے اسکا ثبوت پیش کرتے ہیں تو اب کچھ لوگ اس پر پلٹی کھا کر اسکو شرک ہی نہیں کہتے
جبکہ تبرک کی نیت سے قبر کی طرف جانا اور اس سے چاہے روحانی فیض لینا ، شفاء لینا یہ سب استغاثہ کے باب سےہے کیونکہ شفاء دینے والا ، روحانی تسکین دینے والا یہ سب کام ما فوق الاسباب میں سےہیں جو کہ اللہ کے علاوہ کوئی مخلوق نہیں دے سکتے ۔۔۔
ابن تیمیہ کے اس صریح جھوٹ پر امام ذھبی نے انکی پکڑ کی اور فرمایا :
قلت: أين المتنطع المنكر على أحمد، وقد ثبت أن عبد الله سأل أباه عمن يلمس رمانة منبر النبي -صلى الله عليه وسلم- ويمس الحجرة النبوية، فقال: لا أرى بذلك بأسا.
أعاذنا الله وإياكم من رأي الخوارج ومن البدع.
میں (ذھبی) کہتا ہوں کہاں ہے مغرور(ابن تیمیہ) جو امام احمد (کے اس عمل )پر انکار کرتا ہو، اور یہ بات ثابت ہے کہ امام عبداللہ نے اپنے والد سے اس بارے پوچھا کہ جو بندہ نبی اکرمﷺ کے منبر رسولﷺ سے مس کرتا ہے اور نبی اکرم کا حجرہ مبارک سے مس کرتا ہے توامام حمد بن حنبل نے کہا میں اس میں کوئی حرج نہیں جانتا
میں اللہ کی پناہ چاہتاہوں خوارج اور بدعت کی رائے سے ۔
[سیر اعلام النبلاء ، ج11،ص212]
نیز اپنا مسلک بیان کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :
قلت: والدعاء مستجاب عند قبور الأنبياء والأولياء،
میں ( الذھبی) کہتاہوں کہ انبیاء اور اولیاء اللہ کی قبور کے نزدیک دعا مقبول ہوتی ہے
[سیر اعلام النبلاء، ج۱۷، ص ۷۷]
نیز تاریخ الاسلام میں امام بن بشکوال [المتوفى: 533 هـ] سے ایک ولی کے بارے نقل کرتے ہیں :
قال ابن بشكوال: وقبره يتبرك به، ويعرف بإجابة الدعوة. جربت ذلك مرارا.
امام ابن بشکوال فرماتے ہیں انکی قبر سے تبرک (مدد و شفاء) حاصل کی جاتی ہے اور یہ دعاوں کے قبول ہونے کے لحاظ سے معروف ہے اور میں نے متعدد بار اسکا تجربہ کیا ہے
[تاریخ الاسلام ، برقم :462]
نیز متقدمین کےدور میں ایک مشہور ناقد امام ابن ماکولا (المتوفى: 475هـ) بھی ہیں جنکی رجال پر معروف کتاب ہے
تو وہ فرماتے ہیں :
أبو علي بن بيان الزاهد من أهل دير العاقول، له كرامات وقبره في ظاهرها يتبرك به، قد زرته.
ابو علی بن بیان زاھد یہ دیر عاقول(علاقہ)کے لوگوں میں سے ہیں اور انکی قبر وہی ہے انکی کرامات ہیں ، انکی قبر سے تبرک حاصل کیا جاتا ہے میں نے انکی قبر کی زیارت کی ہے
[ الإكمال في رفع الارتياب،ص367]
امام خطیب بغدادی ایک صوفی امام علي بن محمد بن بشار الزاهد أبو الحسن
کے ترجمہ میں انکے بارے روایات نقل کرتے ہیں :
، وكان له كرامات ظاهرة، وانتشار ذكر في الناس،
ان سے کرامات ظاہر ہوئی اور لوگوں میں اس چیز کا ذکر پھیل گیا
اسکے بعد امام خطیب بغدادی فرماتے ہیں:
قلت: ودفن بالعقبة قريبا من النجمي، وقبره إلى الآن ظاهر معروف، يتبرك الناس بزيارته.
میں (خطیب بغدادی) کہتا ہوں آپ کو النجم کے قریب عقبہ میں دفن کیا گیا۔ ، اور انکی قبر لوگوں میں معروف ہے اور لوگ انکی قبر کی زیارت اور ان سے تبرک (مدد و شفاء) لیتے ہیں
[تاریخ الاسلام ، برقم:6415]
نیز ایک اور صوفی ولی امام أبو علي بن بيان العاقول،
انکے بارے فرماتے ہیں:
كان عابدا زاهدا، يتبرك أهل بلده بزيارة قبره، ويذكرون عنه أنه كان له كرامات.
یہ نیک و زاھد تھے اور انکے اہل علاقہ انکی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور تبرک(مدد،شفاء) حاصل کرتے ہیں (قبر سے) اور وہ لوگ انکے بارے میں یہ ذکر کرتے ہیں کہ ان سے کرامات کو ظہور ہوا
[تاریخ بغداد ، برقم: 7739]
امام خطیب بغدادی، امام ابن جوزی ، امام ابن ابی یعلی ، امام طبرانی و امام مقری ، امام ابن بشکوال ، اما م ابن حجر ، امام سمعانی ، امام قسطلانی ، امام نووی ، امام ابن حبان اور کتنے لوگ ابن تیمیہ کے شرک کے فتوے میں آتے ہیں
قسط اول یہاں تک ختم ہوئی
تحقیق : اسد الطحاوی
Www.asadaltahawi.com
[…] قسط اول […]
[…] برائے قسط اول […]