أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(یہ) ان (نیک) کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

الواقعہ : 24 میں فرمایا : یہ ان (نیک) کاموں کی جزاء ہے جو وہ کرتے تھے۔

جنت میں داخل ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا سبب بندے کا ایمان لانا ہے اور جنت میں حوروغلمان کا ملن اور کھانے پینے کی لذیذ چیزیں ‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اور اس کا سبب بندے کے نیک اعمال ہیں اور جنت میں دوام اور خلود یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور اس کا سبب بندے کی یہ نیت ہے کہ وہ ہمیشہ ایمان پر قائم رہے گا۔ لیکن یہ سب ظاہری اسباب ہیں ‘ حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم ہے ‘ بندہ اسی کے فضل کے سبب سے ایمان لاتا ہے ‘ اسی کے فضل سے نیک اعمال کرتا ہے اور اسی کے فضل سے ایمان اور اعمال ِ صالحہ پر قائم رہتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لا تبعتم الشیطن الا قلیلا۔ (النسائ : ٣٨) اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند افراد کے سوا تم سب افراد شیطان کے پیروکار بن جاتے۔

ان المتقین فی مقام امین۔ فی جنت وعیون۔ یلبسون من سندس واستبرق متقبلین۔ کذلک و زو جہنم بحورعین۔ یدعون فیھا بکل فا کھۃ امنین۔ لا یزوقون فیھا الموتا لا الموتۃ الاولی ج ووقہم عذاب الجحیم۔ فضلا من ربک ط ذلک ھوالفوزالعظیم۔ (الدخان : ٧٥۔ ١٥) بیشک متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے۔ جنتوں میں اور چشموں میں۔ وہ باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنے آمنے سامنے ہوں گے۔ ایسا ہی ہوگا ہم بڑی آنکھوں والی حوروں کو ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ وہ وہاں پر ہر قسم کے پھل اطمینان سے طلب کرین گے۔ وہ پہلی موت کے سوا جنت میں اور کسی موت کا مزا نہیں چکھیں گے ‘ اور اللہ نے انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ ( انہیں یہ سب نعمیتں) آپ کے رب کے فضل سے (ملیں) یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

الواقعہ : ٤٢ میں آخرت کی ان نعمتوں کی نسبت مسلمانوں کے نیک اعمال کی طرف کی ہے اور الدخان : ١٥۔ ٧٥ میں ان نعمتون کے نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کی طرف کی ہے اور اوّل الذکر سبب ظاہری ہے اور ثانی الذکر سبب حقیقی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل پر ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا ‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھ کو بھی نہیں ‘ سوا اس کے کہ اللہ مجھے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧٦٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦١٨٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٨٤)

اس مضمون کو ہم نے زیادہ تفصیل کے ساتھ ” تبیان القرآن “ ج ٤ ص ٣٤١۔ ١٤١ میں لکھا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 24