أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَحُوۡرٌ عِيۡنٌۙ ۞

ترجمہ:

اور بڑی آنکھوں والی حوریں ‘

حوروں کا حسن اور جمال

الواقعہ : 23۔ 22 میں فرمایا : اور بڑی آنکھوں والی حوریں۔ جیسے چھپے ہوئے موتی۔

ابراہیم نخعی نے کہا : بڑی آنکھوں والی حوروں سے اہل جنت کا نکاح کردیا جائے گا۔

حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق بنائیے : ” حورعین۔ “ (الواقعہ : ٢٢) آپ نے فرمایا : وہ سفید رنگ کی حوریں ہوں گی ‘ جن کی آنکھیں موٹی موٹی اور کشادہ ہوں گی۔ (المعجم الاوسط ج ٣ ص ٨٧٢‘ الکشف والبیان ٩ ص ٥٠٢)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑی آنکھوں والی حوروں کو زعفران سے پیدا کیا گیا ہے۔ (المعجم الاوسط ج ا ص ٥٩‘ جامع البیان رقم الحدیث : ٩٠٨٥٢ )

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا ‘ اس کا بہتر بیویوں سے نکاح کردیا جائے گا ‘ دو بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی اور ستر بیویاں اس کی دوزخیوں کی میراث سے ملیں گی ‘ ان میں سے ہر بیوی محل شہوت ہوگی اور ان سے اپنی خواہش پوری کرنے میں اہل جنت کو کسی قسم ضعف تھکاوت نہیں ہوگی۔ (سنن ابن مانہ رقم الحدیث : ٧٣٣٤‘ الکشف والبیان ٩ ص ٥٠٢)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنتی شخص کو اتنی اور اتنی عورتوں کے ساتھ جماع کرنے کی قوت دی جائے گی۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ نے فرمایا : اس کو سو عورتوں کے ساتھ جماع کرنے کی طاقت دی جائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٦٣٥٢ )

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں نور چمک رہا ہوگا ‘ مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ کس چیز کا نور ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : حور اپنے شوہر کو دیکھ کر ہنسے گی تو اس کے دانتوں سے روشنی پھوٹے گی۔ (تاریخِ بغدادج ١١ ص ٣٦١‘ الکشف والبیان ٩ ص ٥٠٢)

ان حوروں کے متعلق فرمایا : وہ چھپے ہوئے مویتوں کی طرح ہوں گی ‘ یعنی اس کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا اور نہ ان پر گردوغبار پڑا ہوگا ‘ سو وہ سیپ میں چھپے ہوئے موتی سے زیادہ صاف اور شفاف ہوں گی اور ان کے جسم کی ہر جانب سے ان کے حسن چمک رہا ہوگا۔

آخرت کی تمام نعمتوں کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 22