ہماری ایک تحریر پر شہزاد احمد آرائیں کے جہالت بھرے اعتراضات کا تعاقب!

اصل تحریر
ازقلم: اسد الطحاوی

امام ابو بکر محمد بن عبد اللہ بن ابی شیبہؒ (المتوفی 235ھ) لکھتے ہیں:
حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال: سمعت سويد بن الحارث قال: ‌لقد (‌رأيتنا) ‌يوم ‌الجمل ‌وإن ‌رماحنا ‌ورماحهم ‌لمتشاجرة، ولو شاءت الرجال لمشت (عليها)، (يقولون: الله أكبر)، ويقولون: سبحان الله (و) (الله أكبر)، (ونحو ذلك)، ليس فيها شك، وليتني لم أشهد ويقول عبد الله بن سلمة: ولكني ما سرني أني لم أشهد، ولوددت أن كل (مشهد) شهده علي شهدته
عمرو بن مرۃ کہتے ہیں کہ میں نے سوید بن الحارث کہتے ہوئے سنا کہ: یقینا میں نے جمل کا دن دیکھا اور ہمارے نیزے اور انکے نیزے آپس میں ٹکرائے اور لوگ چاہتے تو اس پہ چل پڑتے۔ وہ لوگ کہتے: اللہ اکبر ، اور کہتے: سبحان اللہ و اللہ اکبر۔ اور اسی طرح سے کہ، اس میں کوئی شک نہیں ، اور کاش میں یہاں موجود نہ ہوتا۔ اور عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میں نے شرکت نہیں کی اور میں چاہتا ہوں کہ ہر وہ حاضر ہونے کی جگہ جہاں مولا علیؑ نے شرکت کی ہو وہاں میں نے بھی شرکت کی ہو۔
[المصنف ابن أبي شيبة40571 و 40572 وسندہ صحیح علی سوید بن الحارث]

اس روایت میں سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ یہ تابعی سوید بن حارث کا اپنا قول ہے ۔ اوروہ آگے کسی سے روایت بیان نہیں کررہے ہیں ۔ جسکی وجہ سے اس آرائیں نے اپنی آدھی تحریر اس کو مجہول ثابت کرنے پر لگا دی ۔

اور اجہل اتنا ہے آخر میں امام ابن حجر عسقلانی علیہ رحمہ جنہوں نے اس راوی کو مجہول کہنے والوں کا رد کیا ہے ۔ جنکے الفاظ یوں ہے :
اسويد بن الحارث عن أبي ذر وعنه عمرو بن مرة مجهول لا يعرف قلت هذه مبالغة
(صاحب الاکمال امام ابو محاسن دمشقی ) عمرو بن مرہ کے بارے کہتے ہیں یہ مجہول ہے میں اسکو نہیں جانتا ۔ (امام ابن حجر کہتے ہیں ) میں کہتا ہوں یہ ( مجہول کا قول) مبالغہ پر مبنی ہے
[تعجيل المنفعة، برقم438]

اسکا رد یہ کہتے ہوئے کرتا ہے :
اس کلام سے معلوم ہوا کہ امام ابن حجر عسقلانیؒ کے نزدیک بھی انکی کوئی معتبر توثیق مروی نہیں ہے، انہوں نے خود بھی اس راوی کی کوئی توثیق نہیں کی سوائے اسے مجھول کہنے

میں (اسد الطحاوی) کہتا ہوں کہ ابن حجر عسقلانی نے اسکو مجہول کہنے کو مبالغہ قرار دیا ہے تو پھر انکے نزدیک انکا درجہ کیا تھا ؟
یہ بات اس اجہل نے نہیں بتائی ہے ۔

اور اسکے علاوہ امام ابن حبان کا اس راوی کو اپنی ثقات میں درج کرنے کو بھی اس نے خود نقل کر دیا ۔
اور یہ بھی تصریح امام ابن حجر عسقلانی سے نقل کی ہے کہ امام بخاری و ابو حاتم نے اسکی توثیق نہیں کی تو جرح بھی کوئی نہیں کی ہے ۔

جس سے اس راوی کو صالح الحدیث ہونا ثابت ہوتا ہے یعنی ایسا راوی متابعت میں مقبول ہے جب یہ کوئی حدیث یا اثر روایت کرے۔

اور ایسا راوی عدالت کے اعتبار سے فی نفسی صدوق ہونا لازمی ہے ۔ کیونکہ اسکے ضبط کی دلیل نہیں ہوتی لیکن عدالت ثابت ہوتی ہے اتنے دلائل سے!!

تو جب یہ اس راوی کا اپنا قول ہے تو اسکے ضبط کی دلیل نہ ہونے سے مذکورہ روایت ضعیف کیسے ہو سکتی ہے ؟

اسکو چاہیے تھا کہ یہ اس راوی کو بدعتی ، خارجی یا ناصبی ثابت کرتا جبکہ یہ راوی خیر القرون کا ہے اور تابعی ہے اور کسی نے جرح نہیں کی ہے تو اس شخص کے قول کو ہماری طرف سے نقل کرنے پر اس اجہل کو مذکورہ انکے قول کو ضعیف ثابت کرنے کی ضرورت کیسے پڑ گئی ؟

جس بندے کو یہ نہیں پتہ کہ یہ سوید بن حارث کا اپنا قول ہے ۔ اسکی عدالت کو غیر ثابت کرنے کی بجائے یہ اسکے عدم ضبط کی دلیلیں دے رہا ہے جبکہ مذکورہ مذکورہ قول اسکا اپنا ذاتی تھی نہ کہ کوئی روایت بیان کر رہا تھا۔

تو اس اجہل کی آدھی کہانی کا رد یہی پر ہوگیا!!!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد اس اجہل نے مجھ پر الزام لگایا :
ناصبی موصوف نے اور تحریف کی ہے، پہلی تحریف تو روایت کے پہلے حصے کے راوی سوید بن الحارث کے نام کو ترجمے میں بدل کر سعید بن حارث کردیا تاکہ لوگ دھوکہ کھا جائیں اور اس مجھول راوی پہ مطلع نہ ہوں۔

الجواب ( اسد الطحاوی)
یہ ٹائپنگ مسٹیک تھی ورنہ میں اس آرائیں جیسا ڈفر نہیں ہوں کہ مجھے یہ تحریف کرنی ہوتی تو ساتھ میں عربی میں سوید بن حارث لکھ کر نیچے نام جان بوجھ کر بدل دیتا اور یہ سمجھتا کہ لوگ اندھے ہیں وہ عربی متن کو نہیں دیکھینگے ۔

اور دوسری بات یہ قول ہی انکا اپنا ذاتی تھا تو مجھے بقول اس آرائیں ڈفر کے یہ کام کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ جبکہ اسکی عدالت متفقہ علیہ مقبول ہے عند المحدثین!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس سے بڑھ کر جہالت بھرا اس اجہل نے جو کیا وہ درج ذیل ہے :

زید یہ بھی منسوب کردیا کہ سوید بن الحارث نے جمل میں مولا علیؑ کی طرف سے شرکت کی تھی کہ انکے ساتھی تھے، جب کی روایت آپکے سامنے ہے کہ اس سے یہ بات معلوم ہو ہی نہیں رہی کہ انہوں نے کس کی طرف سے شرکت کی تھی، اور کتب الرجال وغیرہ میں کسی امام نے اس بات کی صراحت نقل ہی نہیں کی کہ یہ جنگ جمل میں مولا علیؑ کے ساتھی تھے۔ لہزا یہ چیز انہوں نے مولا علیؑ پہ بہتان بازی کرنے کیلیے خود سے گھڑی ہے

الجواب ( اسد الطحاوی)
اب یہ ایسا ڈفر اور نکمہ ہے کہ اسی روایت میں سوید بن حارث سے یہ قول روایت کرنے والے انکے شاگرد عمرو بن مروہ خود اپنے اس شیخ کے قول کو ناپسند کرتے ہوئے اسکے برعکس درج ذیل الفاظ کہے :
ويقول عبد الله بن سلمة: ولكني ما سرني أني لم أشهد، ولوددت أن كل (مشهد) شهده علي شهدته
ور عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میں نے شرکت نہیں کی اور میں چاہتا ہوں کہ ہر وہ حاضر ہونے کی جگہ جہاں مولا علیؑ نے شرکت کی ہو وہاں میں نے بھی شرکت کی ہو۔

اب اگر سوید بن حارث حضرت علی کے ساتھ شامل ہونے پر افسوس نہ کر رہے ہوتے تو انکے شاگرد کو یہ کہنے کی کیا ضرورت پڑتی کہ ”میں چاہتا ہوں ہر جگہ جہاں مولا علی نے شرکت کی میں بھی وہاں حاضر ہوں ”

حضرت عمرو بن مروہ کا تبصرہ خود اس قول کا ثبوت ہے کہ یہ بات سوید بن حارث نے حضرت علی کے حوالے سے کہی تھی۔
وگرنہ وہ اتفاق کرتے سوید سے کہ وہ بھی حضرت طلحہ و زبیر کے ساتھ شرکت نہ کرکے اچھا کیا ۔
ایسے ایسے جاہل بیٹھے ہیں !!!
یہ ہو گیا اسکی طرف سے پہلی روایت پر اعتراضات کا جواب!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہماری پیش کردہ دوسری دلیل جو درج ذیل تھی:

حضرت عبداللہ بن سلمہ جو حضرت علی کے ساتھ تھے جنگ جمل و صفین میں انکو ان جنگوں کے سبب بہت رنج و غم پہنچا تھا ! بلکہ وہ غالبا ان میں شمولیت کے سبب ہمیشہ غمگین رہے۔
■جیسا کہ ان سے مروی ہے :
إسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن عمرو بن مرة، عن أبيه، عن عبد الله بن سلمة، قال: وشهد مع علي الجمل وصفين وقال: ما يسرني بهما ما على الأرض
امام عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ شریک ہوئے تھے کہتے ہیں کہ مجھے جنگ جمل اور جنگ صفین کی وجہ سے زمین پر جو کچھ ہے کبھی خوش نہیں کر سکتا۔
[مںصف ابن ابی شیبہ ، برقم: 37822، وسندہ حسن]

یہاں قابل غور بات پھر سابقہ جیسی ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن سلمہ کا اپنا ذاتی قول ہے اور وہ اپنا مشاہدے کے بعد بتا رہے ہیں کہ ان میں شامل ہو کر مجھے جو امر ہوا اسکے بدلے کوئی چیز مجھے دوبارہ خوش نہیں کر سکتی ہے ۔۔۔

اس پر یہ آرائیں ڈفر پلاسٹک کا عللی بنتے ہوئے لکھتا ہے :
”اس روایت کی سند بظاہر تو حسن نظر آتی ہے مگر اس میں ایک ایسی علت ہے جو اسے غیر محفوظ اور ضعیف بناتی ہے۔
◈: عبد اللہ بن سلمہ کو آخری عمر میں اختلاط بھی ہوگیا تھا”

الجواب ( اسد الطحاوی)
ہاہاہاہا اب اس ڈفر پر کیا رد لکھا جائے خود نقل کر رہا ہے کہ یہ قول امام عبداللہ بن سلمہ کا ذاتی ہے پھر علل کا اس پر ایسا ظہور ہوا کہ امام کے ذاتی قول میں علت قادحہ نکال رہا ہے کہ چونکہ وہ اختلاط شدہ ہو گئے تھے آخر میں

تو تبھی انکا یہ قول قبول نہیں کیونکہ بقول اس اجہل آرائیں کے وہ اتنے اختلاط شدہ اور حافظہ کے متغیر ہو گئے تھے کہ انکو ان جنگوں میں شامل ہو کر جو پہلے خوشی ملی تھی اسکو بھول کر غم سے تعبیر کر دیا
ہاہاہاہاہا

جبکہ عبداللہ بن سلمہ کا اختلاط بہت ہی قلیل تھا جس میں انکی روایات میں کوئی غیر محفوظ مروی ہی نہیں ہوئی ہیں ۔
تو جو راوی قلیل اختلط کے سبب روایت حدیث میں مطلق مقبول ہے ۔ یہ اجہل ایسے راوی کا اپنا ذاتی قول رد کرنے پر لگا ہوا ہے ۔

آگے چلتے ہیں:

اچھا پھر اپنی جو دلیل لایا اس میں ائمہ سلف و محدثین کے منہج سے جہالت کی وجہ سے غلط ملط ترجمہ کر دیا ۔

اور لکھتا ہے
”◉: امام ابو عبد الله محمد بن سعدؒ(المتوفی 230ھ) لکھتے ہیں:
قال: أخبرنا سليمان أبو داود الطيالسي قال: أخبرنا شعبة، عن ‌عمرو ‌بن ‌مرة قال: كان ‌عبد ‌الله ‌بن ‌سلمة قد كبر فكان يحدث فنعرف وننكر
عمرو بن مرۃ کہتے ہیں:عبد اللہ بن سلمہ بوڑھے ہوچکے تھے، وہ حدیث بیان کرتے تو ہم پہچان جاتے اور انکار کرتے۔
(الطبقات الكبرى – ط الخانجي: جلد 8 صفحہ 236 رقم 2822 وسندہ صحیح)
◉: اسی قول کو دلیل بنا کر امام صلاح الدین العلائیؒ (المتوفی 761ھ) نے عبد اللہ بن سلمہ کو مختلط قرار دیا ہے۔
(المختلطين للعلائي: صفحہ 63 رقم 25 )
◉: عمرو بن مرۃ کے اسی قول کو امام بخاریؒ بھی اپنی صحیح سند سے روایت کرتے ہیں:
(التاريخ الأوسط: جلد 1 صفحہ 203 رقم 959)
◉: امام ابو بکر بیہقیؒ (المتوفی 458ھ) کہتے ہیں:
‌عبد ‌الله ‌بن ‌سلمة ‌كان ‌قد ‌تغير ‌في ‌آخر ‌عمره، ‌ويشبه ‌أن ‌يكون ‌غير ‌محفوظ
عبد اللہ بن سلمہ کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہوگیا تھا، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ محفوظ نہیں ہیں۔
(معرفة السنن والآثار: جلد 4 صفحہ 335 رقم 6385)
◉: اسی طرح امام ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:
‌عبد ‌الله ‌ابن ‌سلمة بكسر اللام المرادي الكوفي صدوق تغير حفظه من الثانية
عبد اللہ بن سلمہ بکسر اللام المرادی الكوفی صدوق ہیں، انکا حافظہ خراب ہوگیا تھا، یہ طبقہ ثانیہ میں سے ہیں۔
(تقريب التهذيب: صفحہ 306 رقم 3364)
اسکے علاوہ بھی متعدد آئمہ کرام نے اس جرح کو نقل بھی کیا ہے اور قبول کرتے ہوئے خود بھی عبد اللہ بن سلمہ پہ اختلاط کی جرح کی ہے۔ جسکا ذکر طوالت کا باعث ہوگا۔ اور عمرو بن مرۃ کا عبد اللہ بن سلمہ سے سماع اختلاط کے بعد کا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)
سب سے پہلی بات اس اجہل نے اس پر بنیادی جو کلام ہے اسکا ترجمہ و مفہوم ہی غلط کیا ہے ۔ کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہ خود جاہل ہے اس لیے میں یہ نہیں کہونگا کہ اس نے جان بوجھ کر تحریف کی ہے ۔
کیونکہ تحریف کے لیے علم ہونا بھی لازمی ہے جو اس اجہل کے پاس ہے نہیں ۔

یہاں ”نعرف و ینکر” کا صحیح نہیں کیا ہے جس سے عبارت کا مفہوم تبدیل ہوگئی ہے

یہ محدثین کی اصطلاح ہے اسکا اصل ترجمہ یوں ہے کہ کہ اسکی بعض (روایات ) معروف ہیں اور (بعض )میں نکارت ہے

یعنی یہ مکمل نہ ہی جرح ہے اور نہ ہی مکمل تعدیل ہے

اس لیے ایسے کلمات نہیں کہ جس سے عبداللہ بن سلمہ کی رویات کا رد کیا جائے بلکہ اگر ان کلمات کو مکمل دیکھا جائے تو اس میں اسکی تخصیص نظر بھی آتی ہے جیسا کہ
امام ابن عدی نے نقل کی ہیں

وہ نقل کرتے ہیں :

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنا أَبُو الوليد، حَدَّثَنا شُعْبَة أخبرني عَمْرو بن مرة سمعت عَبد الله بن سلمة يقول، وإن كنا نعرف وننكر

حَدَّثَنَا السَّاجِيُّ، حَدَّثَنا بُنْدَار، حَدَّثَنا أَبُو الوليد قال شُعْبَة، حَدَّثَنا عَمْرو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبد الله بن سلمة تعرف وتنكر.
حَدَّثَنَا ابن حماد، حَدَّثَنا صالح، حَدَّثَنا علي سمعت يَحْيى قال شُعْبَة، قال عَمْرو بن مرة كان عَبد الله بن سلمة تعرف وتنكر.
حَدَّثَنَا خالد بْن النضر، حَدَّثَنا عَمْرو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنا أَبُو داود، حَدَّثَنا شُعْبَة عَنْ عَمْرو بْنِ مرة، قَال: كان عَبد الله بن سلمة يحدثنا وقد كبر فكنا نعرف وننكر.
امام شعبہ کہتے ہیں عمرہ بن مرہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سلمہ سے بیان کیا ہے اور وہ بڑھے ہوئے تو انکی (بعض روایات ) معروف ہیں اور (بعض روایات ) منکر
[الکامل ابن عدی]

یاد رہے یہ قول عبداللہ بن سلمہ سے روایتیں بیان کرنے والے انکے مقدم شاگرد امام عمرو بن مرہ ہیں اور ان سے یہ قول امام شعبہ روایت کرنے والے ہیں
اس نکتہ پر ہم زور اس لیے دے رہے ہیں کہ اگلے جواب میں اسکا سبب آپکو معلوم ہو جائے گا۔

اسکے بعد اس نے یہ ثابت کیا کہ عمرو بن مرہ کا سماع بھی آخری ادوار یعنی بڑھاپے میں تھا ۔

جس پر یہ تصریح لکھتا ہے :

◉: امام ابو الحسن احمد بن عبد اللہ العجلیؒ (المتوفی 261ھ) لکھتے ہیں:
ولم يكن أحد أروى عن ‌عبد ‌الله ‌بن ‌سلمة منه وعبد الله بن سلمة يكنى أبا العالية سمع منه بعد ما كبر
اور کسی نے عبد اللہ بن سلمہ سے ان سے زیادہ روایت نہیں کی، اور عبد اللہ بن سلمہ جنکی کنیت ابو العالیہ تھی، انہوں نےانکے بوڑھے ہونے کے بعد ان سے سماع کیا۔
(الثقات للعجلي ت البستوي: جلد 2 صفحہ 185 رقم 1408)
◉: امام ابو محمد ابن الجارودؒ (المتوفی 307ھ) ایک روایت کے ذیل باسند صحیح نقل کرتے ہیں:
قال يحيى: وكان شعبة يقول في هذا الحديث: تعرف وتنكر؟ يعني: ‌أن ‌عبد ‌الله ‌بن ‌سلمة ‌كان ‌كبر، ‌حيث ‌أدركه ‌عمرو
یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ: شعبہ اس حدیث میں کہا کرتے کہ: ہم جانتے اور انکار کرتے؟ یعنی عبد اللہ بن سلمہ بوڑھے ہوچکے تھے جب عمرو بن مرۃ نے انہیں پایا تھا۔
(المنتقى ابن الجارود – ت الحويني: صفحہ 42 رقم 104،و سندہ صحیح)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب ( اسد الطحاوی)

اصل بات یہ ہے امام عمرو بن مروہ کے قول جو ہے کہ انکی بعض مروایات معروف اور بعض نکارت پر مبنی ہوتی تھیں اور چونکہ یہ اپنے شیخ کی مروایات کے حافظ تھے تو وہ ان سے فقط محفوظ مروایات ہی بیان کرتے تھے ۔
اور یہی امام شعبہ کا موقف تھا وہ امام عمرو بن مرہ سے عبداللہ بن سلمہ کی روایات کو مطلق قبول کرتے تھے اور کتنی اہمیت دیتے تھے اسکے دلائل درج ذیل ہیں :

وَحَدَّثنا علي سمعت أبا داود، حَدَّثَنا شُعْبَة عَنْ عَمْرو بْنِ مرة، قَال: كان عَبد الله بن سلمة يحدثنا فكان قد كبر فكنا نعرف وننكر فقال شُعْبَة والله لأخرجنه من عنقي ولألقينه في أعناقكم.

اور پھر امام شعبہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ضرور بالضرور میں اسکو اپنے گردن سے نکال دونگا اور ضرور تمھاری گردنوں میں ڈالو نگا
یعی عمرو بن مرہ کی عبداللہ بن سلمہ سے روایات میں ضرور تم کو بیان کرونگا ۔

جیسا کہ امام شعبہ اس سند سے روایت کو بڑی اہمیت دیتے تھے

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِصْمَةَ، حَدَّثَنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ قال أحمد بن حنبل لم يرو أحد لا يقرأ الجنب غير شُعْبَة عن عَمْرو بن مُرَّةَ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ سلمة، عن علي قال سفيان بن عُيَينة سمعت هذا الحديث من شُعْبَة، قال سفيان قال شُعْبَة لم يرو عَمْرو بن مرة أحسن من هذا الحديث وقال شُعْبَة روى هذا الحديث عَبد الله بن سلمة بَعْدَ مَا كبر.

احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ ان سے کوئی بھی روایت بیان نہیں کرتا ( لا يقرأ الجنب) کے باب کی سوائے امام شعبہ کے اور عمرہ بن مرہ سے بیان کرتے ہیں (شعبہ) عبداللہ بن سلمہ علی سے بیان کرتے ہیں (لا يقرأ الجنب) اور سفیان بن عیینہ کہتے ہیں میں نے یہ حدیث امام شعبہ سے سنی اور سفیان کہتے ہیں مجھ کو امام شعبہ نے کہا عمرو بن مربن مرہ سے (عبداللہ بن سلمہ سے ) اس حدیث سے زیادہ اچھی اور کوئی بیان نہیں ہوئی ہے اور شعبہ نے کہا یہ حدیث عبداللہ بن سلمہ نے بڑھاپے کے بعد روایت کی ہے
[الکامل ابن عدی ]

تو اس سے معلوم ہوا کہ بڑھاپے میں امام شعبہ جیسا متشدد اور حدیث و رجال کا عالم ان کی روایت کی مداح و ثناء کی ہے

بلکہ اس سے بھی زیادہ مداح پر مبنی قول اس سند پر امام شعبہ سے مروی ہے :

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبد اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمَخْرَمِيُّ، حَدَّثَنا سَعِيد الجرمي، حَدَّثَنا عَبد اللَّهِ بْنُ نُمَير وَيْحَيَى بْنُ سَعِيد الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمد بْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَمْرو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ إِلا أَنْ نَكُونَ جنبا
وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرو بن مرة الأَعْمَش، وشُعبة ومسعر، وابن أبي ليلى ورقبة وقال ابن عُيَينة قَال لي شُعْبَة لا أروي أحسن منه عن عَمْرو بن مرة فذكر هذا الحديث وهذا الحديث هو الحديث الذي يقول فيه شُعْبَة هذا ثلث رأس مالي وقد روى عَبد الله بن سلمة، عن علي وعن حذيفة وعن غيرهما غير هذا الحديث وأرجو انه لا بأس به.

ابن ابی لیلی عمرہ بن مرہ سے وہ عبداللہ بن سلمہ سے وہ مولا علی سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ہم کو ہر حالت میں قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے البتہ جنابت کی حالت میں اسکا حکم مختلف ہے

پھر ابن عدی کہتے ہیں یہ حدیث عمرو بن مرہ سے
الاعمش
شعبہ
مسعر بن کدام
ابن ابی لیلی نے بیان کی ہے

اور سفیان کہتے ہیں کہ مجھے شعبہ نے کہا عمرہ بن مرہ سے اس زیادہ بہترین روایت نہیں ہے اور یہ حدیث میرے سارے مال (احادیث) کا ایک تہائی حصہ ہے
[اکامل ابن عدی ]

تو عمرو بن مرہ سے بیان کرنے والا یہ قول امام شعبہ ہیں اور امام شعبہ عمرہ بن مرہ کا عبداللہ بن سلمہ کے تعلق سے اس قول کو مطلق قبول نہیں کرتے تھے

عبداللہ بن سلمہ المرادی کی توثیق جمہور سے پیش کرتے ہیں
1۔ ابن حبان متشدد
عَبْد اللَّه بن سَلمَة يَرْوِي عَن عَليّ بْن أَبِي طَالب روى عَنهُ عَمْرو بْن مرّة يخطأ
[الثقات ابن حبان برقم: 3587]

2۔ امام عجلی ،
عبد الله بن سَلمَة أَبُو الْعَالِيَة من أَصْحَاب على وَعبد الله وَزَاد كوفى تَابِعِيّ من ثِقَات الْكُوفِيّين
[ثقات العجلی برقم: 898]

3۔ امام یعقوب بن شیبہ
قال يعقوب بن شيبة: ثقة.
[میزان الاعتدال]

4۔ امام حاکم
– حدثنا أبو العباس، ثنا إبراهيم بن مرزوق، ثنا وهب بن جرير، وأبو داود، وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أنبأ إسماعيل بن إسحاق القاضي، ثنا سليمان بن حرب، وحفص بن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، الخ۔۔
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 541 – صحيح
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 980 – على شرط مسلم وله شواهد
[التعليق – من تلخيص الذهبي] 3090 – على شرط البخاري ومسلم
اور بھی کئی روایات کو امام ذھبی نے عبداللہ بن سلمہ کی روایات کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے

5: امام ابن عدی
وأرجو انه لا بأس به.
اور میرے نزدیک انکی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے
[الکامل ابن عدی]

6۔ امام ابن الجارود
جبکہ انہوں نے اپنی المنتقیٰ میں کوئی بھی ضعیف روایت نہیں لی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، الخ۔۔۔
(المنتقیٰ الجارود برقم : 94)

7۔ امام ابی داود
– حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال: دخلت على علي
[سنن ابی داود و سکوت ، برقم: 229]

8۔امام ترمذی کی تصحیح
(نوٹ امام ترمذی روایت کی تصحیح میں متساہل نہیں )
2733- حدثنا أبو كريب، قال: حدثنا عبد الله بن إدريس، وأبو أسامة، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن صفوان بن عسال الخ۔۔۔
هذا حديث حسن صحيح.
وهذا حديث حسن صحيح. برقم : 3564
وهذا حديث حسن صحيح. برقم : 2733
[السنن ترمذی]

9۔ امام نسائی جنہوں نے بھی ان پرکلام کرتے ہوئے یعرف و ینکر کہا ہے لیکن اسکے باوجود امام نسائی نے اکی روایات کو اپنی سنن المجتبیٰ میں لیا ہے جس میں انکے نزدیک فقط صحیح روایات ہیں

265 – أخبرنا علي بن حجر قال: أنبأنا إسماعيل بن إبراهيم، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة الخ۔۔
و برقم: 266
وبرقم: 4078
[السنن النسائی]

10۔ امام ابو جعفر الطحاوی
یحتج بہ احادیث من عبداللہ بن سلمہ
[شرع معانی الاثار و مشکل الاثار ]

11۔ امام مقدسی نے عبدااللہ بن سلمہ کی بےشمار روایات کی تخریج کی المختارہ میں
برقم : 602۔ 603۔ 604۔۔۔۔

اب امام ابن الملقن مقلن سے تفصیل سے کلام پیش کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ جمہور محدثین عبداللہ بن سلمہ کی روایت سے احتجاج کیا ہےاور اس کو بالکل غیر محفوظ طریق نہیں سمجھا یعنی جب عمرو بن مرہ بیان کریں عبداللہ بن سلمہ سے کیونکہ یہ صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے ۔

چناچہ و لکھتے ہیں :

وَفِي رِوَايَة لَهُ من حَدِيث الْأَعْمَش، عَن عَمْرو بن مرّة، عَن عبد الله بن سَلمَة، عَن عَلّي: «كَانَ رَسُول الله – صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم – يقْرَأ الْقُرْآن عَلَى كل حَال، إِلَّا الْجَنَابَة»
من طَرِيق أبي دَاوُد وَالْحَاكِم. قَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن صَحِيح، وَبِه قَالَ غير وَاحِد من الصَّحَابَة
وَالتَّابِعِينَ، قَالُوا: يقْرَأ الرجل الْقُرْآن عَلَى غير وضوء، وَلَا يقْرَأ فِي الْمُصحف إِلَّا وَهُوَ طَاهِر. وَبِه يَقُول سُفْيَان الثَّوْريّ وَالشَّافِعِيّ وَأحمد وَإِسْحَاق.
قلت: وَصَححهُ أَيْضا أَبُو حَاتِم بن حبَان، فَإِنَّهُ أخرجه فِي «صَحِيحه» كَمَا أسلفناه، وَقَالَ الْحَاكِم فِي «مُسْتَدْركه» : هَذَا حَدِيث صَحِيح الْإِسْنَاد. قَالَ: والشيخان لم يحْتَجَّا بِعَبْد الله بن سَلمَة، ومدار الحَدِيث عَلَيْهِ. قَالَ: وَعبد الله بن سَلمَة غير مطعون فِيهِ. و (أقره) الْبَيْهَقِيّ عَلَى ذَلِك فِي «خلافياته» وَذكره ابْن السكن (أَيْضا) فِي «سنَنه الصِّحَاح المأثورة» ، وَقَالَ الشَّيْخ تَقِيّ الدَّين فِي «الإِمَام» : وَأخرجه الْحَافِظ أَبُو بكر بن خُزَيْمَة فِي «صَحِيحه»
وَقَالَ: سَمِعت أَحْمد بن الْمِقْدَام الْعجلِيّ يَقُول: ثَنَا (سعيد) بن الرّبيع، عَن شُعْبَة (بِهَذَا الحَدِيث) قَالَ شُعْبَة: هَذَا ثلث رَأس مَالِي. وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيّ: (قَالَ سُفْيَان) : مَا أحدث بِحَدِيث أحسن مِنْهُ. وَقَالَ عبد الْحق فِي «أَحْكَامه» : إِنَّه حَدِيث صَحِيح
وَحَكَى البُخَارِيّ عَن عَمْرو بن مرّة (قَالَ) : كَانَ عبد الله بن سَلمَة يحدثنا فنعرف وننكر، وَكَانَ قد كبر لَا يُتَابع فِي حَدِيثه. وَقَالَ ابْن الْجَارُود – بَعْدَمَا أخرجه -: قَالَ يَحْيَى بن سعيد: وَكَانَ شُعْبَة يَقُول فِي هَذَا الحَدِيث: نَعْرِف وننكر – يَعْنِي: عبد الله بن سَلمَة – كَانَ (كبر حَيْثُ) أدْركهُ عَمْرو. وَرَوَى هَذَا الحَدِيث الإِمَام الشَّافِعِي فِي «سنَن حَرْمَلَة» ، ثمَّ قَالَ: إِن كَانَ ثَابتا فَفِيهِ دلَالَة عَلَى تَحْرِيم الْقُرْآن عَلَى الْجنب. قَالَ الْبَيْهَقِيّ: وَرَوَاهُ الشَّافِعِي فِي جماع كتاب الطّهُور وَقَالَ: وَإِن لم يكن أهل الحَدِيث يثبتونه. قَالَ الْبَيْهَقِيّ فِي «الْمعرفَة» : إِنَّمَا توقف الشَّافِعِي فِي ثُبُوته؛ لِأَن مَدَاره عَلَى عبد الله بن سَلمَة، وَكَانَ قد كبر وَأنكر من (عقله وَفِي حَدِيثه) بعض (النكرَة) وَإِنَّمَا رَوَى هَذَا الحَدِيث بَعْدَمَا كبر، قَالَه شُعْبَة.

امام ابن ملقن عبدااللہ بن سلبہ سے جنبی حالت میں تلاوت کی نفی میں روایت بیان کر کے نقل کرتے ہیں :
اسکو اپنے طریق سے ابی داود، اور حاکم نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حصن صحیح ہے اور یہی بے شمار صحابہ کا قول ہے اور تابعین کا
اسکے بعد امام ابن مقلن کہتے ہیں
میں کہتاہ وں اور اسکو صحیح قرار دیا ہے ابو حاتم ابن حبان نے اپنی صحیح میں لا کر ، اور حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخیں نے اسکو نہیں لیا ہے ۔ اور عبداللہ بن سلمہ پر اس حدیث کا مدار ہے
اور کہا کہ عبداللہ بن سلمہ اس مطعون نہیں ہے ۔ اور بیھقی نے بھی اسکو اخلافیات میں ذکر کیا ہے اور ابن سکن نے بھی اور سنن کے مصنفین نے بھی ، اور امام شیخ تقی الدیین اور ابن خذیمہ نے بھی اسکو اپنی صحیح میں وارد کیا ہے
اور یہ نقل کیا ہے کہ شعبہ اس روایت کے بارے کہتے تھے کہ یہ میرے تمام مال کا ایک تہائی ہے اور سفیان کہتے ہیں شعبہ اس روایت کی تحسین کرتے ،
اور امام عبدالحق نے أَحْكَامه میں فرمایا کہ یہ حدیث صحیح ہے
اور بخاری نے بیان کیا ہے کہ عمرہ بن مرہ سے کہ عبداللہ بن سلمہ سے ہم نے بیان کیا اسکی روایات میں معروف اور بعد منکر ہیں جب یہ بڑھے ہوئے اور انکی روایت کی متابعت نہیں کی گئی ،
ابن جارود نے اسکے بعد انہوں نے روایت لی یحییٰ بن سعد سے کہ شعبہ سے نقل کرتے ہیں کہ اسکی روایات میں بعض معروف و بعض منکر ہیں اور عبداللہ بن سلمہ نے یہ روایت بڑھاپے میں بیان کی ہے اور اس وقت ادراک کیا عمرو نے
اور اسی کو امام شافعی نے کتاب الطھور میں بیان کر کے کہا اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ روایت دلیل ہے اس باب کی اور بیھقی کہتے ہیں کہ امام شافعی کا اس روایت پر توقف کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین نے اس روایت کی تصھیح کا ثبوت پیش نہ کر سکے
اور عبداللہ بن سلمہ کی بڑھاپے میں بعض منکر روایت مروی ہوئی ہیں اور اس روایت کا مدار اس پر ہے
[البدار المنیر جلد 2، ص 553]

اور اسی طرح امام ابن ملقن عبداللہ بن سلمہ کی توثیق جمہور سے بیان کرتے ہوئے اور اس پر اس ہلکی پھلکی جرح کا رد کرتے ہوئے امام نووی کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وَاعْترض من الْمُتَأَخِّرين: النَّوَوِيّ فِي «شرح الْمُهَذّب» عَلَى التِّرْمِذِيّ؛ فَقَالَ: إِن غَيره من الْحفاظ الْمُحَقِّقين قَالُوا: إِنَّه حَدِيث ضَعِيف. وَقَالَ فِي «خلاصته» : خَالف التِّرْمِذِيّ (الْأَكْثَرُونَ) فضعفوه
قلت: لَا قدح فِي إِسْنَاده إِلَّا من جِهَة عبد الله بن سَلمَة (فَإِن) مَا عداهُ من رجال إِسْنَاده مُتَّفق عَلَى الِاحْتِجَاج (بِهِ) وَقد أسلفنا مَا حَكَاهُ البُخَارِيّ فِيهِ، وَقَالَ النَّسَائِيّ أَيْضا: يُعرف ويُنكر. وَلَكِن قدمنَا عَن الْحَاكِم أَنه قَالَ فِيهِ إِنَّه غير مطعون فِيهِ. وَقَالَ الْعجلِيّ: ثِقَة. وَقَالَ ابْن عدي: أَرْجُو أَنه لَا بَأْس بِهِ. وَذكره ابْن حبَان فِي «ثقاته» وَأخرج لَهُ مُسلم 4 فَهُوَ عَلَى شرطهم، وَقَول من قَالَ فِيهِ: يعرف وينكر، لَيْسَ فِيهِ كَبِير جرح، وَإِن أوردهُ ابْن الْجَوْزِيّ فِي «ضُعَفَائِهِ» بِسَبَب هَذِه المقولة فِيهِ، وَلم ينْفَرد التِّرْمِذِيّ بِتَصْحِيحِهِ؛ بل تَابعه عَلَيْهِ جماعات كَمَا

اور اعتراض کیا ہے متاخرین ممیں سے نووی نے شرح محھذب میں امام ترمذی پر (عبداللہ بن سلمہ کی روایت کی تصحیح کے حوالے سے ) نووی کہتے ہیں (ترمذی) کے علاوہ حفاظ اور محققین سے کہا گیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور خلاصہ میں کہا کہ اکثر نے اس روایت کی تضعیف کی ہے

اسکا رد کرتے ہوئے امام ابن مقلن کہتےہیں :
میں کہتا ہوں اس روایت کی سند میں کوئی ایسی علت نہیں ہے سوائے عبداللہ بن سلمہ کے حوالے سے اور وہ ان رجال میں سے ہیں جنکی روایت سے متفقہ علیہ طور پر احتجاج کیا گیا ہے اور کچھ اسلاف نے جو بخاری سے بیان کیا ہے اور نسائی سے کہ اسکی (بعض روایات )معروف اور (بعض ) منکر ہیں لیکن امام حاکم نے اسکو غیر مطعون قرار دیا ہے
اور امام عجلی نے اسکو ثقہ قرار دیا ہے ۔اور ابن عدی نے کہا کہ میرے نزدیک اسکی روایت میں کوئی حرج نہیں ، اور ابن حبان اسکو ثقات میں درج کیا ہے ، اور امام مسلم نے اس سے روایت لی ہے جو کہ انکی شرط پر ہے (یعنی احتجاج میں ) (نوٹ مجھے عبداللہ بن سلمہ کی روایت مسلم میں نہین ملی غالبا یہ بات ابن ملقن نے امام علائی سے اخذ کی)اور جو اسکے بارے یہ کہا گیا ہے کہ اسکی بعض روایت معروف اور بعض منکر ہیں یہ کوئی ایسی بڑی جرح نہیں ہے (جس سے روایت کا رد ہو ) اور فقط اس معمولی کلمات کی وجہ سے ابن جوزی نے اسکو الضعفاء میں درج کیا ہے
لیکن امام ترمذی (عبداللہ بن سلمہ ) کی روایت کی تصحیح میں منفرد نہیں بلکہ انکے ساتھ پوری جماعت ہے
[البدر المنیر ، جلد 2 ، ص 557]

اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی ان سے مروی روایت کو قوی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
أَنْ تُحْرِمَ بِهِمَا مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِكَ”1 الْحَاكِمُ فِي تَفْسِيرِ الْمُسْتَدْرَكِ مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْله تَعَالَى: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} قَالَ تُحْرِمُ مِنْ دُوَيْرَةَ أَهْلِكَ وَإِسْنَادُهُ قَوِيٌّ.
[التخلیص الحبیر ، جلد 2 ، ص 498]

اسی لیے امام ہیثمی مجمع الزوائد میں جمہور کی طرف سے اس راوی کی توثیق کی تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

رواه الطبراني في الأوسط، وفيه عبد الله بن سلمة، وثقه جماعة،
کہ طبرانی نے اسکو الاوسط میں بیان کیا ہے اس میں عبداللہ بن سلمہ ہے جسکو جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے
[مجمع الزوائد ، ص 109]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہے اس آرائیں ڈفر کی تحکیک* کہ جس اجہل کو یہ پتہ نہیں کہ یہ قول جنکا ہے انکی عدالت جب تک مجروح ثابت نہ کی جا سکے یا انکے عقائد میں جب تک کوئی بدعت بیان نہ کی جا سکے تو اس وقت تک انکا اپنا ذاتی قول کبھی رد نہیں ہو سکتا ۔

اور جو علتیں اس نے بیان کی ہیں وہ تب لاگو ہوتی ہیں جب ایسے راوی آگے کوئی روایت بیان کریں کیونکہ ایسی صورت میں راوی کے ضبط کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ اپنا تجربہ یا موقف بیان کرنے میں ۔

اور دوسرا طریق تو مطلق ہی صحیح یا حسن ہے ۔ کیونکہ عبداللہ بن سلمہ اختلاط قابل ترک تھا ہی نہیں ۔
اور یہ اجہل انکو اپنے ذاتی قول میں ضعیف گردان رہا تھا

تحقیقا یہ قول ان ائمہ سے ثابت ہے پس انکا ان جنگوں میں اظہار افسوس تاریخ کی ثابت شدہ بات ہے!

اگرچہ ہم مانتے ہیں کہ حق پر حضرت علی ہی تھے ۔ لیکن وہ ان جنگوں کو پسند نہ فرمایا کیونکہ دونوں طرف مومن بھائی تھے!!!

جو کہ اس تحریر کا اصل مقصد تھا !

تحقیق: اسد الطحاوی