جاوید احمد غامدی اور فلسفہ فطرت
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
📕جاوید احمد غامدی اور فلسفہ فطرت
کھانے پینے کے معاملے میں مجھے غامدی صاحب کا گھریلو فلسفہ “انسانی فطرت” کی سمجھ نہی آئی۔
کیا چائنہ و افریقہ کے لوگ اس انسانی فطرت میں شامل ہیں؟؟
یہ قوم تو اپنی فطرت کے مطابق ۔۔۔بندر، چوہے، چھچھوندر، لومڑی، بھیڑئیے ،کیڑے مکوڑے ہر چیز ہڑپ کر جاتی ہے۔
📕غامدی صاحب نے اپنے فلسفہ میں انسانی فطرت کا لفظ استعمال کیا ہے نہ کہ مسلمانوں / اہل ایمان کی فطرت کا۔
یہ انسانی فطرت علاقہ کی نسبت سے بدلتی ہے۔۔۔
❗اس کے جواب میں غامدی صاحب کے اندھے مقلد Mūslîm Brōthêr II نے ایک طویل ترین ویڈیو لنک دے دیا کہ غامدی صاحب نے اس کا جواب کافی عرصہ قبل ہی دے دیا ہے۔
https://youtu.be/hlEWhjk__dY?si=oBNS6cQcpP8nGLX2
📗میرا جواب :-
ارے بھائی بار بار ٹائیں ٹائیں کرنے سے یہ بہتر نہی ہے کہ کتاب میں ہی اس ٹاپک کے نیچے حاشیہ لکھ کر وضاحت پیش کردی جائے۔؟؟
اندھ بھکتوں کو مزید بے وقوف بنانے کا غامدی کا یہ آزمودہ نسخہ ہے۔۔۔۔۔ویڈیو سے رجوع کریں۔۔
اور اتنا فضول وقت کسی کے پاس نہی ہوتا کہ گھنٹہ، نصف گھنٹہ مکمل ویڈیو غور سے سنے اور جواب دے۔۔۔۔ الحمداللہ میں نے ویڈیو مکمل دیکھی ہے۔ مگر یہ ویڈیو دیکھ کر مزید اشکالات قائم ہو گئے۔ہے۔
اس ویڈیو میں میرے سوال کا جواب نہی ملا۔ جاوید احمد غامدی کی اس ویڈیو سے دو باتیں پتہ چلیں۔
1) سور حرام ہونے پر دوسری قوموں کا اختلاف
2) آدم خوری / Cannabilsm
انسانی فطرت پر۔۔چرب زبان تقریر کرنے سے ہزار گناہ بہتر ہے کہ یہ جواب دے دیا جائے کی۔۔۔۔اللہ رب العزت و نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم / شریعت کے حکم سے یہ “حرام” ہے۔
اور ان پر تو نص قطعی موجود ہے۔۔۔یہ میری پوسٹ کی بحث سے خارج ہے۔
اوپر سے یہ چرب زبان غامدی صاحب ویڈیو کے شروع میں(2:53 پر) کہتے ہیں کہ ❗”حرام کوئی دینی / مذہبی اصطلاح” نہی ہے۔ اور غامدی صاحب نے حرام کے لغوی معنی بیان کرکے سامعین کو زبردست بے وقوف بنایا ہے۔
📗جواب :
حَرامٌ :- اصطلاحی معنی
ما طَلَبَ الشّارِعُ تَرْكَهُ طَلَبَاً جازِماً.
وہ چیز جس کے ترک کرنے کا اللہ تعالی نے قطعی حکم دیا ہو۔
الـحَرامُ: حُكْمٌ مِن الأحْكامِ التَّكْلِيفِيَّةِ الخَمْسَةِ، وهي: الحَرامُ، والـمَكْروهُ، والواجِبُ، والـمَنْدوبُ، والـمُباحُ، والـحَرامُ: هو القَوْلُ أو الفِعْلُ أو الاعْتِقَادُ الذي نَهَى عَنْهُ اللهُ ورَسُولُهُ صلّى اللهُ عليه وسلّم نَهْياً جازِماً على وَجْهِ الإِلْزامِ بِالتَّرْكِ، والـحَرامُ: ما يُثابُ تارِكُهُ إِن تَرَكَهُ على وَجْهِ الامْتِثالِ، ويَسْتَحِقُّ فاعِلُهُ العِقابَ.
حرام، پانچ تکلیفی احکام یعنی حرام، مکروہ، واجب، مستحب اور مباح میں سے ایک حکم ہے۔ اس سے مراد ایسا قول، فعل یا عقیدہ ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے یا پھر ان میں سے کسی ایک نے قطعی طور پر منع کیا ہو اور اسے چھوڑنا واجب قرار دیا ہو۔ اگر حرام سے دور رہنے کا کام فرماں برداری کے جذبے کے ساتھ کیا جائے، تو چھوڑنے والے کو ثواب ملتا ہے، جب کہ اس کا مرتکب سزا کا مستحق ہوتا ہے۔
جمهرة اللغة : (1/265) – تهذيب اللغة : (5/30) – المحكم والمحيط الأعظم : (3/326) – الصحاح : (1/125) – الإبهاج في شرح المنهاج : (1/84) – شرح الكوكب المنير : (1/160) – معجم مقاليد العلوم في الحدود والرسوم : (ص 63) – الحدود الأنيقة والتعريفات الدقيقة : (ص 76) – الصحاح : (125/1)
📕اب آتے ہیں جاوید احمد غامدی صاحب کہ اصل مضمون المیزان کی طرف :
❗اول : غامدی صاحب صفحہ نمبر 629 کے آخر میں دعوی کرتے ہیں کہ “طیبات و خبائث کی کوئی جامع و مانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہی کی گئی۔
✅ اس کے آگے 630 پر غامدی صاحب نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے حرام جانوروں کے اقسام پر کئی دلائل لائے ہیں۔۔۔کیا یہ دلائل غیر شرعی ہیں؟؟ آخر غامدی نے شریعت کو سمجھ کیا رکھا ہے؟؟؟
📗شریعت کی اصطلاحی تعریف :-
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“شریعت سے مراد وہ طریقہ ہے جو اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی بطور دین مقرر فرمایا ہے، اسی طرح آپ سے قبل انبیائے کرام کی زبانی احکامات مقرر فرمائے تھے۔ ان تمام احکامات میں سے صرف ناسخ پر ہی عمل ہو گا۔ “الإحكام” (1/ 46)
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
۔۔۔۔شریعت اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سمیت صاحب اقتدار کی اطاعت کا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
شریعت کی حقیقت یہ ہے کہ: رسولوں کی اتباع کریں اور ان کی اطاعت گزاری میں شامل ہو جائیں، بالکل اس کے بر عکس معاملہ بھی ٹھیک ہے کہ ان کی اتباع سے دوری ان کی اطاعت سے دوری ہے۔ جبکہ رسولوں کی اطاعت گزاری ہی دین الہی ہے۔ “مجموع الفتاوى” (19/ 309)
❗دوم : غامدی صاحب کا خود ساختہ فلسفہ “انسانی فطرت” کو یہ اختیار دینا کہ حلال،طیب و خبائث چیزوں کا تعین انسانی فطرت کرتی یے۔
📗غامدی صاحب کا یہ فلسفہ جہالت کا پلندہ ہے۔۔ غامدی صاحب نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے “ایک بڑی تعداد” کے انسانی فطرت کا سہارا لیا ہے۔۔۔۔حالانکہ دنیا کی بڑی آبادی / اکثریت 4،5 بلین لوگ ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو قرآن و سنت / حدیث میں واضح طور پر حرام ہیں۔
جیسے
چین، میانماز، تھائی لینڈ، جاپان، نارتھ و ساؤتھ کورین، ملائشیاء، بر اعظم افریقہ کے غیر مسلم اکثریت، برازیل، ارجنٹینا، نارتھ و ساؤتھ امریکہ، یورپ کے اکثر ممالک، ہندوستان کی ہندو اکثریت قبائل۔۔۔۔
کیا غامدی صاحب کے لیے فقط یہ کہہ دینا آسان نہی تھا؟؟ کہ
“اللہ رب العزت و نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم / شریعت کے حکم سے یہ “حرام” ہیں۔
اور شریعت کے دلائل 4 ہیں۔
(1) قرآن، (2) حدیث، (3) اجماع، (4) قیاس / قرآن و حدیث کی روشنی میں۔
وَمَا عَلَيْنَآ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْنُ (17) ↖
اور ہمارے ذمے کھلم کھلا پہنچا دینا ہی ہے




[…] صاحب کے “اصول فطرت” پر میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں۔۔درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے۔📕📕غامدی صاحب میزان صفحہ نمبر 14 پر سنت کی تعریف کرتے […]