وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍۙ- سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 29
sulemansubhani نے Monday، 11 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّطَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍۙ ۞
ترجمہ:
اور تہ بہ تہ کیلوں میں
الواقعہ : 29 میں فرمایا : اور تہ بہ تہ کیلوں میں۔
کیلے کے درخت کو ” طلع “ کہتے ہیں ‘ اس کا و احد ” طلحۃ “ ہے اور ” منضود “ کے معنی ہیں : تہ بہ تہ۔
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٤٧٧ ھ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
” الطلح “ سرزمین حجاز میں بہت بڑا درخت ہوتا ہے ‘ اس میں بہت زیادہ کانٹے ہوتے ہیں اور ” منضود “ کا معنی یہ ہے کہ اس درخت میں تہ بہ تہ پھل ہیں ‘ ان دونوں درختوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ عرب اس درختوں کو بہت پسند کرتے تھے ‘ جن کا سایہ بہت لمبا اور بہت گھنا ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ درخت دنیاوی درخت کے مشابہ ہوگا لیکن اس میں کانٹوں کے بجائے بہت شیریں پھل ہوں گے ‘ اہل یمن کیلے کے درخت کو ” الطلح “ کہتے ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٨١٣‘ دارلفکر ‘ بیروت ‘ ٩١٤١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 29