“ایک ویڈیو کلپ مجھے کسی نے بھیجا، “مقاصدِ کربلا” نام کے ایک فیس بُک پیج پر حال ہی میں اپلوڈ ہوا ہے۔ جب سے وہ کلپ میری نظر سے گزرا ہے اس وقت سے میری طبیعت پر بہت بوجھ ہے۔ میرے قریبی رفقا نے یہ محسوس کیا ہے کہ گزشتہ چند ایّام سے میرے لہجے میں کرختی ہے، الجھا ہوا ہوں اور صحیح طرح بات نہیں کر رہا۔ میرے مزاج کی اس تبدیلی، الجھن اور پرے شانی کا سبب وہی ویڈیو کلپ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس ویڈیو میں دیکھے گئے مناظر میں آپ کے آگے کس طرح بیان کروں، تھیٹر کے اسٹیج پر ایک عورت کو حضرت سیّدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ تعالیٰ علیھا کا روپ دیا گیا اور ایک شخص کو سیّدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روپ دیا گیا، اور ایک غلط، بے بنیاد اور من گھڑت واقعہ کی منظر کشی کی گئی۔ مسلمان کہلانے والے لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اتنی گستاخی؟ اس قدر شدید توہین؟ الامان الحفیظ! کاش، یہ لوگ سمجھتے کہ یہ کوئی اچھا کام نہیں ہے بلکہ نہایت سنگین نوعیت کی گستاخی ہے۔ اہلِ بیت کی عقیدت کا دم بھرنے والے، صحابہ کرام کے معاندین سے میرا سوال ہے کہ کسی عورت کو سیّدہ پاک کے روپ میں پیش کرنے جیسی صریح توہین کا کیا جواز پیش کریں گے آپ؟ کیا یہ ہے آپ کی مخدومۂ کائنات سے عقیدت؟ وہ کتنی محترم خاتون ہیں آپ کو کچھ اندازہ ہونا چاہیے۔ ان کی قدر تو ہم کہاں جان سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی مقبول بندی ہیں، نبی پاک صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شہ زادی ہیں، جنّت اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں، مولائے کائنات کرّم اللہ وجھہ الکریم کی زوجہ محترمہ ہیں، حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی والدہ ہیں۔ میں وہ الفاظ ادا نہیں کر رہا ہوں جو اشتعال کا سبب بنیں، مگر، اہلِ ایمان سے اتنا ضرور کہوں گا کہ ایسے مواقع پر ہماری خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ ہمیں صدائے حق بلند کرتے ہوئے حکم رانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنے منصب کی ذمّہ داری پوری کرتے ہوئے اس طرح کے اہانت آمیز مواد کا سدِّ باب کریں۔ آخر میں، میری یہ دعا ہے کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے یہ جسارت کی ہے اللہ تعالیٰ انہیں تباہ و برباد کرے۔”

– حضرت علّامہ ڈاکٹر کوکب نورانی اوکاڑوی دامت فیوضھم
۳۰ نومبر ۲۰۲۳ء