نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 57
sulemansubhani نے Wednesday، 13 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحۡنُ خَلَقۡنٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُوۡنَ ۞
ترجمہ:
ہم نے تم کو پیدا کیا ہے سو تم کیوں تصدیق نہیں کرتے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے تم کو پیدا کیا ہے سو تم کیوں تصدیق نہیں کرتے۔ بھلا یہ بتاؤ کہ تم جو منی (رحم میں) ٹپکاتے ہو۔ کیا اس سے تم ( انسان کی) تخلیق کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں۔ ہم ہی نے تمہارے درمیان موت ( کا وقت) مقدر فرمادیا ہے اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ کہ ہم تمہارے بدلے میں تم جیسے اور پیدا کردیں اور تمہیں از سر نو اس طرح پیدا کردیں جس کو تم بالکل نہیں جانتے۔ اور بیشک تم پہلے پیدائش کو خوب جانتے ہو تو کیا سبق حاصل نہیں کرتے۔ بھلا یہ بتاؤکہ تم جو کچھ (بظاہر) کاشت کرتے ہو۔ اس کو (حقیقت میں) تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ بلکہ ہم تو محروم ہوگئے۔ بھلا بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے نازل کیا ہے یا ہم نازل کرنے والے ہیں۔o اگر ہم چاہیں تو اس ( پانی کو) سخت کڑوا بنادیں تو پھر تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟۔ بھلا بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کے لیے درختوں کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔ ہم نے اس کو نصیحت بنایا اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز۔ سو آپ اپنے رب کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے۔ (الواقعہ : 74۔ 57)
تخلیق انسان سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور حشر و نشر پر استدلال
تم جو عورتوں کے رحموں میں منی ٹپکاتے ہو بتاؤ کہ اس سے تم انسان کی تخلیق کرتے ہو یا ہم کرتے ہیں اور جب تم نے یہ جان لیا کہ ہم ہی انسانوں کے خالق ہیں تو تم کو مانتے کیوں نہیں اور اس کی تصدیق کیوں نہیں کرتے اور جب تم اللہ تعالیٰ ہی کو خالق مانتے ہو تو پھر اس کو واحد کیوں نہیں مانتے ؟ تم دیکھتے ہو کہ ہمیشہ سے انسان کی تخلیق ایک طرز اور ایک طریقہ سے ہو رہی ہے ‘ ہمیشہ عورتیں بچہ جنتی ہیں ‘ کبھی کسی مرد سے بچہ پیدا نہیں ہوا اور ہمیشہ مکمل بچہ استقرار حمل کے نوماہ بعد پیدا ہوتا ہے اور ہمیشہ آگے کے راستہ سے سر کے بل بچہ پیدا ہوتا ہے ‘ کبھی پیچھے کے راستہ سے یا پیروں کے بل بچہ پیدا نہیں ہوتا ‘ کیا نظام تخلیق کی یہ وحدت پکار پکار کر یہ نہیں بتارہی کہ اس نظام ِ تخلیق کا خالق بھی واحد ہے ؟ کیونکہ اگر اس نظام کے متعدد خالق ہوتے تو اس نظام میں یہ وحدت اور یکسانیت نہ ہوتی اور یہ نظام حادث ہے ‘ اس لیے ضروری ہے کہ اس کا خالق حادث نہ ہو ‘ ورنہ وہ بھی انسان کی طرح مخلوق ہوگا ‘ خالق نہیں ہوگا ‘ اس لیے ضروری ہوا کہ اس نظام کا خالق حادث اور ممکن نہ ہو ‘ بلکہ قدیم اور واجب ہو اور قدیم اور واجب کا متعدد ہونا محال ہے۔ کیونکہ اگر ہو متعدد ہوں تو ہر قدیم اور واجب میں دو جز ہوں گے ‘ ایک جزنفس ِ وجوب اور قدم ہوگا اور وہ سب میں مشترک ہوگا اور داسرا جز ممیز ہوگا ‘ جس کی وجہ سے وہ سب ایک دوسرے سے ممتاز اور الگ الگ ہوں گے اور جو حقیقت دو جزئوں سے مرکب ہو ‘ وہ اپنے اجزاء کی طرف محتاج ہوتی ہے اور جو اپنے وجود میں محتاج ہو ‘ وہ ممکن اور حادث ہوتا ہے ‘ واجب اور قدیم نہیں ہوتا ‘ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان کا خالق واحد ہو ‘ متعدد نہ ہو ‘ نیز جب اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک بار پیدا کردیا تو وہ ان کو دوبارہ کیوں پیدا نہیں کرسکتا ‘ پھر تم مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کا اور حشر و نشر کو کیوں انکار کرتے ہو ؟
تبیان القرآن سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 57
[…] تفسیر […]
[…] تفسیر […]