أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَرَءَيۡتُمُ النَّارَ الَّتِىۡ تُوۡرُوۡنَؕ ۞

ترجمہ:

بھلا بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو

ایندھن فراہم کرنے کی نعمت

الواقعہ 72۔ 71 میں فرمایا : بھلا بتاؤ کہ جس آگ کو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کے لیے درختوں کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔

یعنی مجھے بتاؤ کہ تم لکڑیوں سے جس آگ کو سلگاتے ہو ‘ آیا تم اس کے خالق ہو یا ہم خالق ہیں ‘ پھر جب تم میری قدرت کو پہچانتے ہو تو پھر میرا شکر کیوں ادا نہیں کرتے اور حیات بعد الموت پر میری قدرت کا کیوں انکار کرتے ہو ؟

” ورون “ کا مادہ ” وری “ ہے ‘ اس کا معنی ہے : آگ کا جلنا ‘ چقماق سے آگ کا روشن کرنا۔

اس زمانہ میں آگ کے حصول کا یہی ذریعہ تھا کہ درختوں سے لکڑیاں کاٹ کر ایندھن حاصل کیا جائے ‘ پھر زمین کی کانوں سے پتھر کا کوئلہ نکل آیا اور لکڑیوں کو جلا کر اس کو کوئلہ بھی حاصل کیا جانے لگا ‘ پھر زمین سے تیل نکل آیا اور قدرتی گیس نکل آئی ‘ لیکن جس طرح جنگل میں درخت اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں ‘ اسی طرح پتھر کو کوئلہ اور گیس اور تیل بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور بندوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 71