أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا لَمُغۡرَمُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

کہ ہم پر تاوان پڑگیا

مغرمون کے معانی

الواقعہ 67۔ 65 میں فرمایا : اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا۔ بلکہ ہم تو محروم ہوگئے۔

الواقعہ : 66 میں ” مغرمون “ کا لفظ ہے ‘ حضرت ابن عباس اور قتادہ نے کہا : ” غرام “ کا معنی عذاب ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی وہ شر ہے جو لازم ہو ‘ یعنی تاوان ‘ مقاتل بن حیان اور النحاس نے کہا : اس کا معنی ہے : ہلاکت یعنی ہم تو عذاب میں مبتلا ہوگئے یا ہلاک ہوگئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 66