نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَۚ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 73
sulemansubhani نے Friday، 15 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحۡنُ جَعَلۡنٰهَا تَذۡكِرَةً وَّمَتَاعًا لِّلۡمُقۡوِيۡنَۚ ۞
ترجمہ:
ہم نے اس کو نصیحت بنایا اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز
آخرت کی آگ کی شدت
الواقعہ 74۔ 73 میں فرمایا : ہم نے اس کو نصیحت بنایا اور مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز۔ سو آپ اپنے رب کے اسم کی تسبیح کرتے رہیے۔
یعنی ہم نے دنیا کی آگ کو پیدا کیا تاکہ تم اس کی حدت ‘ حرارت اور سوزش کو دیکھ کر آخرت کی آگ سے ڈرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری یہ آگ جس کو بنو آدم جلاتے ہیں ‘ دوزخ کی آگ سے ستر درجہ کم ہے ‘ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر دوزخ کی آگ دنیا کی آگ جتنی ہوتی تو وہ بھی کافی تھی ‘ آپ نے فرمایا : دوزخ کی آگ دنیا سے انہتر درجہ زیادہ ہے اور اس کا ہر درجہ دنیا کی آگ جتنا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٤٨٢‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٧٩٨٠٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣١٣‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٩٨٥٢‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٦٤٧ )
” مقوین “ کا معنی
اور فرمایا : یہ مسافروں کے لیے فائدہ کی چیز ہے ‘ اس آیت میں ” مقوین “ کا لفظ ہے ‘ اس کا مادہ ” قوی “ ہے ‘ اسی کا معنی ہے : وہ گھر جو رہنے والوں سے خالی ہو ‘ چٹیل میدان ‘ جن لوگوں کا زاد راہ ختم ہوجائے اور ان کے کھانے اور پینے کے لیے کوئی چیز نہ ہو ‘ مسافروں کو ” مقوین “ اس لیے کہتے ہیں کہ بعض اوقات وہ دورانِ سفر ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں چٹیل میدان اور ویرانہ ہو اور کھانے پینے کی کوئی چیز دستیاب نہ ہو ‘ وہاں جنگل میں قیام کے وقت آگ جلاتے ہیں یا کہ کوئی جنگلی درندہ آکر ان کو ضرر نہ پہنچائے اور بعض اوقات وہ کسی حلال جانور یا پرندہ کو شکار کرکے اس کو آگ پر بھون لیتے ہیں اور یوں اپنی بھوک کو مٹاتے ہیں۔
سو آپ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیے اور یہ بتائیے کہ وہ اپنے لیے شرکاء سے پاک ہے اور لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کے عجز اور عیب سے پاک ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 73