وَلَـقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّرُوۡنَ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 62
sulemansubhani نے Friday، 15 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلَـقَدۡ عَلِمۡتُمُ النَّشۡاَةَ الۡاُوۡلٰى فَلَوۡلَا تَذَكَّرُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اور بیشک تم پہلے پیدائش کو خوب جانتے ہو تو کیا سبق حاصل نہیں کرتے
الواقعہ 62 میں فرمایا : اور بیشک تم پہلے پیدائش کو خوب جانتے ہو تو کیا سبق حاصل نہیں کرتے۔
تم کو اپنی تخلیق کے مراحل کا علم ہے ‘ پہلے تم مٹی تھے ‘ پھر نبات بنے ‘ پھر سبزی اور گوشت کی صورت میں غذا بنے ‘ پھر نطفہ کی صورت میں تھے ‘ پھر جمے ہوئے خون کی صورت میں ‘ پھر گوشت کی بوٹی کی صورت میں آئے تو لحیم بنے ‘ پھر تمہیں ہڈیوں کالباس پہنایا گیا تو عظیم بنے ‘ پھر چار ماہ گزرنے کے بعد تم میں روح پھونکی گئی تو حی بنے ‘ تم پہلے بلکہ نہ تھے ‘ پھر بہ تدریج تم کو شکل و۔ صورت دی اور اپنی ماں کے پیٹ سے تم پیدا ہوئے ‘ تم خاک اور مٹی تھے ‘ پھر ماں کے پیٹ میں آئے تو جنین کہلائے ‘ وضع حمل ہو تو ولید کہلائے ‘ پھر دودھ پیتے بچے (رضیع) بنے ‘ پھر ہلکی غذا کھانے لگے تو فطیم بنے ‘ پھر تم پر بچپنا آیا تو صبی کہلائے ‘ چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو غلام کہلائے ‘ بلوغت کے قریب ہوئے تو مراھق کہلائے ‘ پھر بالغ ہوئے ‘ نوجوانی میں شاب اور فتیٰ کہلائے ‘ نشونما کی تکمیل ہوئی تو رجل کہا گیا ‘ تیس سال کی پختہ عمر کو پہنچے تو کحل کہلائے ‘ عقل کامل ہوئی اور چالیس سال کی عمر ہوئی تو شیخ فانی ہوئے ‘ موت قریب آئی تو حظیر بنے اور جب موت آگئی تو میت کہا لائے ‘ نہلا گیا تو غسیل بنے ‘ کفن پہنایا گیا تو مکفون ہوئے ‘ جنازہ اٹھایا گیا تو محمول ہوئے ‘ دفن کیا گیا تو پھر دفین ہوئے ‘ اور ایک عرصہ گزرنے کے بعد جب گوشت پوست گل گیا ‘ ہڈیاں بوسیدہ ہوگئیں تو رمیم کہلائے اور مرور زمانہ کے بعد پھر خاک اور مٹی ہوگئے ‘ اسنے تمہیں خاک اور مٹی سے بنایا تھا ‘ پھر دوبارہ اس مرحل کے بعد خاک اور مٹی بنادیا اور جس نے تمہیں ایک بار خاک اور مٹی سے بنایا ہے وہ دوبارہ تم کو خاک اور مٹی سے کیوں نہیں بنا سکتا ؟
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 62