اِنَّهٗ لَـقُرۡاٰنٌ كَرِيۡمٌۙ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 77
sulemansubhani نے Saturday، 16 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّهٗ لَـقُرۡاٰنٌ كَرِيۡمٌۙ ۞
ترجمہ:
بیشک یہ بہت عزت والا قرآن ہے
قرآن کریم کو کریم فرمانے کی دس وجوہ
الواقعہ : ٧٧ میں فرمایا : بیشک یہ بہت عزت والا قرآن ہے۔
کفار ِمکہ قرآن مجید کے متعلق کہتے ہیں تھے کہ یہ شعر ہے ‘ یہ سحر ہے ‘ یہ ان کا اللہ پر افتراء ہے ‘ یہ ان کی مجنونانہ باتیں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کلام پیش کرتے ہیں ‘ بیشک وہ بہت عزت والا قرآن ہے۔ وہ کہتے تھے : یہ ان کا من گھڑت کلام ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ قرآن لوح محفوظ میں ہے۔
” قرآن “ مصدر ہے اور ” مقرو “ کے معنی میں ہے یعنی جس کو پڑھا گیا ہو ‘ جیسے ” قربان “ مصدر ہے اور مفعول کے معنی میں ہے ‘ یعنی جس کی قربانی کی گئی ہو اور جیسے ” حلوان “ مصدر ہے اور مفعول کے معنی میں ہے یعنی وہ مٹھائی جو کاہنوں اور نجومیوں کو پیش کی گئی ہو۔
(١) قرآن مجید کو کریم اس لیے فرمایا ہے کہ یہ بہت زیادہ پڑھا جایا ہے اور جس چیز کو بار بار پڑھا جائے اس سے دل اکتا جاتا ہے اور طبیعت مکدر ہوجاتی ہے ‘ لیکن قرآن کریم میں ایسی حلاوت ہے کہ اس کو بار بار پڑھنے کے باوجود دل اکتاتا ہے نہ طبیعت مکدر ہوتی ہے ‘ اس لیے اس کو کریم فرمایا ہے۔
(٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ اس کے کریم ہونے کی واضح دلیل ہے۔ محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھا اس کو اس کی وجہ سے ایک نیکی ملے گی اور ہر نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ ” الم “ ایک حرف ہے ‘ بلکہ الف حرف ہے اور لام حرف ہے اور میم حرف ہے (خلاصہ یہ ہے کہ ” الم “ پڑھنے سے تیس نیکیاں ملتی ہیں) ۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠١٩٢‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٣٩٩٥‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٩٤٦٨۔ ٨٤٦٨‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٨٠٣٣‘ المستدرک ج ١ ص ٥٥٥‘ تاریخِ بغداد ج ا ص ٥٨٢)
(٣) تیسری وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید سے جو چیز طلب کی جائے وہ مل جاتی ہے ‘ فقیہ اس سے احکامِ شرعیہ نکالتا ہے ‘ حکیم اس سے حکمت کے موتی نکالتا ہے ‘ ادیب اس سے ادب کو حاصل کرتا ہے ‘ عارف اس سے معارف کو حاصل کرتا ہے ‘ مؤرخ اس سے تاریخ کو حاصل کرتا ہے ‘ متکلم اس سے عقائد پر دلائل کی منطبق کرتا ہے ‘ صوفی اس سے تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کے رموز حاصل کرتا ہے اور رشد و ہدایت کا طالب رشد و ہدایت کو حاصل کرتا ہے ‘ اس سے دوزخ سے نجات کا طریقہ ملتا ہے اور جنت کے حصول کا راستہ ملتا ہے۔
(٤) چوتھی وجہ یہ ہے کہ اس سے جسمانی اور روحانی بیماریوں سے شفاء ملتی ہے ‘ قرآن کریم میں ہے : یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم و شفاء لما فی الصدور لا وھدی ورحمۃ للمومنین۔ (یونس : ٧٥) اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء اور ہدایت اور مؤمنوں کے لیے رحمت۔
وننزل من القران ما ھوشفاء ورحمۃ للمومنین لا ( بنی اسرائیل : ٢٨) ہم قرآن سے اس چیز کو نازل کرتے ہیں جو مؤمنین کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ قل ھو للذین امنواھدی و شفاء ط ( حٰمٓ السجدۃ : ٤٤) آپ کہیے : یہ قرآن مؤمنین کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔
عبدالملک بن عمیر مرسلاََ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحۃ الکتاب میں ہر بیماری سے شفاء ہے۔ ( سنن دارمی رقم الحدیث : ٠٧٣٣)
(٥) قرآن کریم کے کریم ہونے کی پانچویں وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت فرمائے گا ‘ حدیث میں ہے :
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کو حفظ کیا ‘ اس کے حلال کو حلال قرار دیا اور اس کے حرام کو حرام قرار دیا اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا اور اس کے گھر والوں میں سے دس ایسے افراد کے لیے اس کو شفاعت کرنے والا بنائے جن کے لیے دوزخ واجب ہوچکی تھی۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٠٩٢“ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦١٢‘ مسند احمد ج ١ ص ٨٤١ )
حضرت نو اس بن سمعان (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن قرآن مجید کو لایا جائے گا اور ان لوگوں کو لایا جائے گا جو قرآن مجید پر عمل کرتے تھے اور ان کی پیشوائی سورة البقرہ اور آل عمران کریں گی گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دو سیاہ سائے بان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے یا گویا کہ وہ صف باندھے ہوئے پرندوں کی دو قطاریں ہیں وہ اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٠٨)
(٦) قرآن کریم کے کریم ہونے کی چھٹی وجہ یہ ہے کہ اس کے پڑھنے والوں سے عذاب ِ قبر دور ہوتا ہے ‘ حدیث میں ہے :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی صحابی نے قبر پر خیمہ لگایا اور اس کو یہ پتا نہیں تھا کہ یہ قبر ہے ‘ اچانک اس میں ایک انسان سورة ” تبارک الذی بیدہ الملک “ پڑھ رہا تھا حتٰی کہ اس نے اس سورت کو ختم کرلیا ‘ اس صحابی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات بتائی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! یہ سورت مانعہ ہے ‘ یہ نجات دینے والی ہے ‘ یہ عذاب سے نجات دیتی ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٠٩٨٢)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن مجید کی ایک سورت ہے جس کی تیس آیتیں ہیں ‘ وہ کسی شخص کی شفاعت کرتی رہیں گی حتٰی کی اس کی مغفرت کردی جائے گی ‘ وہ سورت ” تبارک الذی بیدہ الملک “ ہے۔
(سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٠٠٤١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٨٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٨٧٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٩٩٢‘ المستدرک ج ١ ص ٥٦٥ )
حضرت خالد بن معد ان (رض) فرماتے ہیں : نجات دینے والی سورت کو پڑھو ” الم تنزیل “ ہے ‘ کیونکہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک شخص اس سورت کو پڑھتا تھا اور اس کے علاوہ کوئی اور سورت نہیں پڑھتا تھا اور وہ بہت گناہ کرتے تھا ‘(قبر میں) اس سورت نے اس شخص پر اپنے پرپھیلا لیے اور کہا : اے میرے رب ! اس شخص کو بخش دے ‘ کیونکہ یہ میری بڑی تلاوت کرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سورت کی شفاعت قبول فرمائے گا اور فرمائے گا : اس کے ہر گناہ کے بدلہ میں ایک نیکی لکھ دو اور اس کا ایک درجہ بلند کردو اور یہ سورت اپنے تلاوت کرنے والے کی طرف سے قبر میں لڑے گی اور کہے گی : اے اللہ ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اگر میں تیری کتاب سے نہیں ہوں تو مجھے اپنی کتاب سے مٹا دے اور یہ پرندے کی طرح آئے گی اور اس شخص پر اپنا پرَ رکھ دے گی اور اس کی شفاعت کرے گی اور اس سے عذاب ِ قبر کو دور کرے گی اور انہوں نے کہا :” تبارک الذی بیدہ الملک “ بھی اسی سورت کی مثل ہے اور حضرت خالد بن معد ان (رض) ان دو سورتوں کو پڑھے بغیر نہیں سوتے تھے۔ ( سنن دارمی رقم الحدیث : ١٦٨ )
سوچئے ! اس سے بڑھ کر قرآن مجید کا کرم اور کیا ہوگا۔
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک نہیں سوتے تھے حتیٰ کی ” الم تنزیل “ اور ” تبارک الذی بیدہ الملک “ کی سورتوں کی تلاوت نہ کرلیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٩٨٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٠٤٣ )
(٧) قرآن کریم کے کریم ہونے کی ساتوں وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کو حفظ کرنے ولاے کی میدانِ محشر میں عزت افزائی ہوگی۔
حضرت معاذ جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے قرآن مجید پڑھا اور اس کے احکام پر عمل کیا ‘ اس کے والدین کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا ‘ جس کی روشنی دنیا کے گھروں میں سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی ‘ اگر سورج تم میں ہو تو تمہار اس کے متعلق کیا گمان ہے جو قرآن پر عمل کرے گا ؟ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٣٥٤١‘ مسند احمد ج ٣ ص ٠٤٤ )
(٨) قرآن کریم کے کریم ہونے کی آٹھویں وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کی وجہ سے شہادت کی فضیلت حاصل ہوتی ہے :
حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے صبح تین مرتبہ پڑھا : ” اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم “ پھر سورة حشر کی (آخری) تین آیتوں کی تلاوت کی ‘ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور اگر وہ اس دن مرگیا تو شہادت کی موت مرے گا اور جس نے شام کو اس طرح تلاوت کی اس کو بھی یہ مرتبہ حاصل ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٩٢)
(٩) قرآن مجید کے کریم ہونے کی نویں وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید سے محبت کی وجہ سے جنت ملے گی۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص (حضرت کلثوم بن ھدم) نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اس سورت ” قل ھو اللہ احد “ سے محبت کرتا ہوں ‘ آپ نے فرمایا : اس سورت کی محبت نے تم کو جنت میں داخل کردیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٧‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٩٢‘ سنن بیہقی ج ٢ ص ١٦)
مصنف کو اس آیت سے بہت محبت ہے : لا الہ الا انت سبحنک ق انی کنت من الظلمین۔ (الانبیائ : ٧٨) اے اللہ ! تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ تو ہر نقص اور عیب سے بری ہے ‘ بیشک میں ظالموں سے ہوں۔
میں اس آیت سے اس لیے محبت کرتا ہوں کہ یہ آیت میرے حسب حال ہے ‘ میں بہت نکما ‘ ناشکرا اور گناہ گار ہوں اور اللہ تعالیٰ بہت کریم ہے ‘ وہ مجھے لگا تار نعمتیں عطا فرما رہا ہے۔
اس طرح مجھے اس آیت سے بھی بہت محبت ہے : قل کل یعمل علی شا کلتہ ط۔ (بنی اسرائیل : ٤٨) آپ کہیے : ہر شخص اپنے طریقہ اور اپنی روش کے موافق عمل کرتا رہتا ہے۔
علامہ قرطبی مالکی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :
صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن مجید کا ذکر کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کہا : میں نے اوّل سے آخر تک قرآن کریم پڑھا ‘ مجھے سب سے اچھی اور سب سے زیادہ امید افزا آیت یہ ملی ہے : ” قل کل یعمل علی شا کلتہ ط “۔ (بنی اسرائیل : ٤٨) بندہ کی روش صرف گناہ کرنا ہے اور رب کی روش صرف معاف فرمانا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٠١ ص ٠٩٢‘ دارلفکر ‘ بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)
قارئین کرام ! دعا فرمائیں کہ ان دو آیتوں کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے بھی جنت عطا فرما دیں۔
(٠١) قرآن کریم کے کریم ہونے کی دسویں وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کی وجہ سے جنت کے درجات میں ترقی ہوتی رہے گی۔
حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن پڑھنے والے سے کہا جائے گا : جس طرح تو دنیا میں آہستہ آہستہ قرآن پڑھتا تھا ‘ اس طرح آہستہ آہستہ قرآن پڑھتاجا اور (جنت کے درجات میں) چڑھتا جا اور جس جگہ تو آخری آیت پڑھے گا وہیں تیری منزل ہوگی۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٤٦٤١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤١٩٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٠٨٧٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩ ا ‘ المستدرک ج ١ ص ٣٥٥۔ ٢٥٥‘ موارد الظمآن رقم الحدیث : ٠٩٧١)
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 77