أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ تَزَكّٰىۙ ۞

ترجمہ:

بیشک جس نے انپا باطن صاف کرلیا وہ کامیاب ہوگیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جس نے اپنا باطن صاف کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جس نے اپنے رب کا نام ذکر کیا، پھر وہ نماز پڑھتا رہا۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ اور آخرت ہی بہت عمدہ اور ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ بیشک یہ نصیحت پہلے صحائف میں بھی (مذکور) ہے۔ ابراہیم اور موسیٰ کے صحائف میں۔ ( الاعلیٰ : ١٩۔ ١٤)

تزکیہ نفس کا معنی

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا اور ان ہی ہٹ دھرمی اور ان کے اخروی انجام کا ذکر فرمایا تھا، اور جیسا کہ قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ کفار کے بعد مؤمنین کا ذکر فرماتا ہے اور وعید کے بعد اور عذاب کے بعد ثواب کا ذکر فرماتا ہے، اس لیے ان مؤمنوں کا ذکر فرما رہا ہے، جنہوں نے اپنا تزکیہ کرلیا اور اپنا باطن صاف کرلیا۔

اب یہ بحث ہے کہ تزکیہ سے کیا مراد ہے ؟ امام رازی کی رائے یہ ہے کہ تزکیہ سے مراد ہے : کفر و شرک کو ترک کرکے اپنے باطن کو صاف کرنا اور کفر کی تاریکی کو اپنے قلب سے زائل کر کے اس کو ایمان کے نور سے روشن کرنا، کیونکہ اس آیت میں مطلق تزکیہ کا ذکر ہے اور جب کسی چیز کو مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مراد اس کا کامل فرد ہوتا ہے اور تزکیہ کا کامل فرد کفر اور شرک کو زائل کرنا ہے اور اس کی تایید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :” تزکی “ کا معنی ہے :” لا الہ الا اللہ “ پڑھنا۔ ( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٣٥)

حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” قد افلح من تزکی “ کی تفسیر میں فرمایا : جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کی شہادت دی اور یہ شہادت دی کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور ” وذکر اسم ربہ فصلی “ کی تفسیر میں فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی حفاظت کرتا ہے۔

( مسند البزار رقم الحدیث : ٢٢٨٤، حافظ المہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند میں عباد بن احمد العرزمی متروک ہے۔ مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٣٧)

دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ تزکیہ سے مراد ہے : کفر و شرک اور ہر قسم کے کبیرہ گناہوں کی آلودگی سے قلب کو صاف کردینا اور اس کی تایید ان آیات سے ہوتی ہے :

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰـشِعُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰـفِظُوْنَ ۔ اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ ۔ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْعٰـدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحٰفِظُوْنَ ۔ اُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْوٰرِثُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَط ہُمْ فِیْہَا خٰـلِدُوْنَ ۔ (المؤمنون : ١۔ ١١)

بے شک ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔ جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں۔ اور جو بےہودہ باتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اور جو اپنا باطن صاف کرنے والے ہیں۔ اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ سو اپنی بیویوں کے یا باندیوں کے سو بیشک ان میں وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔ اور جس نے ان کے علاوہ کسی اور کو طلب کیا سو وہی لوگ ( اللہ کی حدود سے) تجاوز کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور عہد کی پاس داری کرنے والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرنے والے ہیں۔ وہی لوگ وارث ہیں۔ جو جنت الفردوس کی وارثت پائیں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی نے الاعلیٰ : ١٥۔ ١٤ کی تفسیر میں حسب ذیل آثار ذکر کیے ہیں۔

امام ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا : جس نے شرک کو ترک کیا، توحید کا اقرار کیا اور پانچوں نمازیں پڑھیں۔

امام بیہقی نے ” الاسماء والصفات “ میں عکرمہ سے روایت کیا ہے : جس نے ” لا الہ الا اللہ “ پڑھا۔

امام ابن ابی حاتم نے عطاء سے روایت کیا ہے، جس نے بہ کثرت استغفار کیا۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٢٣١)

امام عبد الرزاق اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے، جس نے نیک عمل کیے۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٢٣٢)

تزکیہ کی تفسیر صدقہ ٔ فطر قطرار دینے کے متعلق احادیث اور آثار

امام بزار، امام ابن ابی حاتم اور امام بیہقی نے سند ضعیف سے عبد اللہ بن عمرو بن عوف سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید کی نماز پڑھنے سے پہلے ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے :” قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ ۔ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ “ (الاعلیٰ : ١٤۔ ١٥) ایک روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدقہ فطر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا :” وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔ “ سے مراد صدقہ فطر ہے۔ ( تفسیر امام ابن حاتم رقم الحدیث : ١٩٢٣٣)

امام ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید الخدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن نماز عید پڑھنے کے لیے جانے سے پہلے صدقہ ٔ فطر ادا کرتے۔

امام ابن مردویہ اور امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اس لیے نازل ہوئی ہے کہ عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہ ٔ فطر ادا کردیا جائے۔

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے : جس شخص نے اپنے مال کو پاک کیا اور جس شخص نے اپنے اخلاق سے اپنے باطن کو پاکیزہ کیا۔

امام سعید بن منصور اور امام ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو الاحوص (رض) سے روایت کیا ہے : اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے صدقہ کیا، پھر نماز پڑھی، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٩٢٤٠ )

(الدر المنثور ج ٨ ص ٤٤٥، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

تزکیہ کا معنی ہے : اپنے قلب سے عائد باطلہ اور گناہ ہائے کبیرہ کی طرف میلان کو زائل کرنا اور خضوع اور خشوع سے نماز پڑھنے کا معنی یہ ہے : جو شخص اپنے رب کے سامنے منکسر اور متواضع ہوتا ہے، اس کا دل اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی عظمت سے منور ہوجاتا ہے، پھر اس نور کی وجہ سے اس کے تمام اعضاء سے خضوع اور خشوع ظاہر ہوتا ہے۔

فقہاء شافعیہ نے کہا ہے کہ نماز کی ” تکبیرۃ الافتتاح “ میں اللہ اکبر کہناضروری ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اللہ اکبر کہنا ضروری نہیں ہے، اگر اس نے اللہ اعظم کہہ دیا، پھر بھی نماز کو شروع کرنا صحیح ہے کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے :” سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی۔ “ ( الاعلیٰ : ١٤) اس نے اپنے رب کا نام ذکر کیا، پھر نماز پڑھی۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 87 الأعلى آیت نمبر 14