فِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 78
sulemansubhani نے Saturday، 16 December 2023 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فِىۡ كِتٰبٍ مَّكۡنُوۡنٍۙ ۞
ترجمہ:
جو کتاب (لوح) محفوظ میں ہے
قرآن مجید کو ” کتاب “ اور ” مکنون “ فرمانے کی توجیہ
الواقعہ : 78 میں فرمایا : جو کتاب (لوح) محفوظ میں ہے۔
اس آیت میں یہ الفاظ ہیں :” فی کتب مکنون۔ “ (الواقعہ : 78) اس آیت میں قرآن مجید کو کتاب فرمایا ہے ‘ اس کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں ‘ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے ‘ اس کی دلیل یہ آیات ہیں : بل ہوقران مجید۔ فی لوح محفوظ۔ (البوج : ٢٢۔ ١٢) بلکہ یہ قرآن مجید ہے۔ لوحِ محفوظ میں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ کتاب سے مراد مصحف ہے ‘ یعنی قرآن مجید کا وہ نسخہ جو کتابی شکل میں ہمارے پاس ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہے ‘ جیسے ” تورات “ اور ” انجیل “ وغیرہ آسمانی کتابیں ہیں۔
اور اس میں قرآن مجید کو ” مکنون “ فرمایا ہے اور ” مکنون “ کے معنی ہیں : پوشیدہ ‘ سو اگر اس سے مراد لوح محفوظ ہو تو اگرچہ وہ فرشتوں سے غیر مستور ہے لیکن عام مسلمانوں کی نگاہوں سے وہ پوشیدہ ہے اور اگر اس سے مراد مصحف ہے جو جلد اور اوراق پر مشتمل ہے تو وہ تحریف اور ترمیم کرنے والوں کی نگاہوں سے مستور ہے ‘ یا پھر اس کا مجازی معنی مراد ہے کیونکہ جو چیز مستور ہو وہ محفوظ ہوتی ہے ‘ قرآن مجید کا اللہ تعالیٰ محافظ ہے۔
انا نحن نزلنا الذکرو انا لہ لحفظون۔ (الحجر : ٩) بیشک ہم نے قرآن مجید کو نازل کیا ہے اور ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔
اور کائنات میں قرآن مجید سے زیادہ اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 78
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , تبیان القرآن , قرآن مجید , کتاب , سورہ الواقعۃ , سورہ الواقعہ , مکنون