أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَكُمۡ اَنَّكُمۡ تُكَذِّبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے

تکذیب کو رزق بنانے کی توجیہ اور آیت کا شان نزول

الواقعہ : 82 میں فرمایا : اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : تم نے تکذیب کو اپنا شکر بنا لیا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرنے کے بجائے تم اللہ کی تکذیب کرتے ہو ‘ اس آیت میں شکر کو رزق فرمایا ہے ‘ کیونکہ رزق کا شکر کرنے سے اس میں زیادتی ہوتی ہے ‘ اس اعتبار سے شکر بھی رزق ہے۔ اس آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنے رزق کی تکذیب کرتے رہو۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں بارش ہوئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبح کو کچھ لوگ شکر کرنے والے تھے اور کچھ لوگ کفر کرنے والے تھے ‘ جنہوں نے کہا : اللہ کے فضل اور رحمت سے بارش ہوئی وہ شکر کرنے والے تھے اور جنہوں نے کہا : فلاں ‘ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے وہ کفر کرنے والے تھے۔

اور آپ نے اس موقع پر یہ آیت پڑھی :” وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ “ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق کی تکذیب کرتے ہو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٧‘ المعجم الکبیر ج ٢١ ص ٨٩١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٥٩٢٣ )

امام علی بن احمد واحدی متوفی ٨٦٤ ھ بیان کرتے ہیں :

روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں نکلے اور ایک جگہ قیام کیا ‘ لوگوں کو پیاس لگی اور وہاں پانی نہیں تھا ‘ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پیاس کی شکایت کی ‘ آپ نے فرمایا : یہ بتاؤ کہ اگر میں نے تمہارے لیے دعا کی اور تمہارے لیے بارش ہوگئی تو تم کہو گے فلان ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے ؟ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ ستاروں کا وقت تو نہیں ہے ‘ آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو بادل امڈ آئے اور بارش ہوگئی اور وادیاں بہنے لگیں اور لوگوں نے اپنی مشکیں بھر لیں ‘ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس سے گزرے ‘ وہ پیالے میں پانی بھر کر کہہ رہے تھا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے اور یہ نہیں کہا کہ یہ اللہ سبحانہٰ کا دیا ہوا رزق ہے تو اللہ سبحانہٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وتجعلون رزقکم انکم تکذبون۔ (الواقعہ : ٢٨) اور تم اپنے رزق کی تکذیب کرتے ہو۔ (اسباب النزول للواحدی رقم الحدیث : ٣٧۔ ص ٣٢٤‘ الدرالمثور ج ٨ ص ٨٢)

یعنی اللہ نے جو تم کو رزق دیا ہے تم اس رزق کی اللہ کی طرف نسبت کرنے کے بجائے ستاروں کی طرف نسبت کرتے ہو ‘ میرے نزدیک آیت کا یہی معنی درست ہے ‘ کیونکہ یہ معنی احادیث کے مطابق ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 56 الواقعة آیت نمبر 82